گریز آثار

گریز آثار
نیم آگاہیوں سے بھری
اس منور سیاہی کی اقلیم میں
بے صدا عمر کی دھول اڑنے نہ دیں
خواب تجسیم ہونے سے پہلے ہی
آنکھوں کے پرزے اڑا دیں
تصور کی دیوار پر کوٸی چہرہ نہ ہو
ایک میں
ایک تُو
دونوں متضاد سمتوں کے ہیں گر مسافر
تو آٶ بچھڑ جاٸیں اک دوسرے سے
مکاں سے مکاں تک
خلا سے خلا تک
مقدر کی دہلیز پر مر گیا
شور اندر کا سہما ہوا
دسترس نے سیہ مٹھیاں کھول دیں
دھیان کے موسموں کے پھٹے پیرہن سے خزاں جھانکتی ہے
برہنہ بدن نارساٸی نے جلتے چراغوں پہ لب رکھ دٸیے
وہ جو خود پر بھی کھلنے سے ڈرتا تھا
اپنے ہی اندر کہیں مر گیا
اور میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایستادہ ہوں
تنہاٸی کے موڑ پر
جیسے گِرجے کی چھت پر ہو تنہا صلیب آہنی
یا خچو آتشِ عشق بولشے بولشے
دا آتشِ عشق ہے بولشے بولشے ۔۔۔۔،،،

یونس متین

الماتا قازقستان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے