فروری 5, 2023
zulqarnain hasni
ذوالقرنین حسنی کی اردو غزل

گریز قصے کا گمشدہ داخلی سرا ہے
میں چل پڑا ہوں یہ کہکشانوں کا سلسلہ ہے
تمہاری آنکھیں بھلے رہیں مجھ سے لاتعلق
مگر یہ گردن کا تل تو سنتا ہے دیکھتا ہے
ہمیں بتایا گیا ہے حور و قصور کا بھی
بتایا یہ بھی گیا ہے لالچ بری بلا ہے
وہ جس جگہ جیسے اور جس سے بھی دل لگائے
اسے وہ بہروپ راس آئے مری دعا ہے
بہت دنوں سے میں خود سے ہنس کر نہیں ملا ہوں
عجیب لوگو سے دوستی بھی کڑی سزا ہے
جو پھول چننے کے مرحلے سے گزر رہی ہو
ہماری آنکھوں میں کیا ہے اس کو بڑا پتہ ہے
ابھی ہمارے بدن پہ کچے نشاں ہیں حسنی
ابھی ہمارا نیا تعلق ……….. نیا نیا ہے
ذوالقرنین حسنی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

1 thought on “گریز قصے کا گمشدہ داخلی سرا ہے

  1. بہت عمدہ۔ قابلِ ستائش ۔ دعا ہے ایسے سخن ور کے علم و عمل میں اضافہ ہوتا رہے اپنے ان موتیوں سے ہمارے بے چراغ دل روشن کرتے جائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے