گریز قصے کا گمشدہ داخلی سرا ہے

گریز قصے کا گمشدہ داخلی سرا ہے
میں چل پڑا ہوں یہ کہکشانوں کا سلسلہ ہے
تمہاری آنکھیں بھلے رہیں مجھ سے لاتعلق
مگر یہ گردن کا تل تو سنتا ہے دیکھتا ہے
ہمیں بتایا گیا ہے حور و قصور کا بھی
بتایا یہ بھی گیا ہے لالچ بری بلا ہے
وہ جس جگہ جیسے اور جس سے بھی دل لگائے
اسے وہ بہروپ راس آئے مری دعا ہے
بہت دنوں سے میں خود سے ہنس کر نہیں ملا ہوں
عجیب لوگو سے دوستی بھی کڑی سزا ہے
جو پھول چننے کے مرحلے سے گزر رہی ہو
ہماری آنکھوں میں کیا ہے اس کو بڑا پتہ ہے
ابھی ہمارے بدن پہ کچے نشاں ہیں حسنی
ابھی ہمارا نیا تعلق ……….. نیا نیا ہے
ذوالقرنین حسنی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے