غنچہ لفظوں کا

غنچہ لفظوں کا
بکھرے لفظوں کو جمع کرنے نکلی
اردگرد مرے اوراق زندگی کے
بڑھے طوفان نے بکھیرے وہ اوراق
سنبھل سنبھل کر جمع کر نا ہیں
مرا اب جنون سبھی چلاتے رہتے
یہ کیسی دیوانگی تیری
کیسے کہوں زندگی تھی ان لفظوں میں
کیسے سمجھاؤں لفظوں کا متن
ؔمل جاے اوراق سمیٹوںان لفظوں کو
دیکھو پڑھوں وہی لفظوں کا مجموعہ
اک اک حروف کتنا قیمتی تم کیا جانو
مرا ریاض وہ صبر مرے لفظوں کا
خدیجہ مل جاے گا غنچہ لفظوں کا
خدیجہ آغا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے