گلستان نہیں رھا بیاباں نہیں رھا

گلستان نہیں رھا بیاباں نہیں رھا
اس پہ نہیں رھا یقین ایماں نہیں رھا
ہر سمت آرزوؤں کے چراغ ہیں جلے
جلنے کے لئے اب کوئی ساماں نہیں رھا
اس بدنما دل کی چلو بات ہی کر لیں
بسنے کو اس میں اب کوئی مہماں نہیں رھا
کچھ حسرتیں۔۔کچھ خواہشیں قربان ہو چلیں
درد وفا کا اب کوئی درماں نہیں رھا
اہل وفا نے زخم دیئے ڈین بے شمار
جینے کا میرے اب کوئی امکاں نہیں رھا
عمران ڈین

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے