Gulshan Ka Aitbaar Nahi

گلشن کا اعتبار نہیں اس زمانے میں

کل جانے کون آ کے رہے آشیانے میں

صیاد کیوں قفس میں رہے بجلیوں کا ڈر

لا آگ ہی لگاتے چلیں آشیانے میں

آہیں بھریں تو آندھیاں برباد کر گئیں

نالے کئے تو لگ گئی آگ آشیانے میں

اے عندلیب وقت سے ڈر کل کی بات ہے

بیٹھے تھے ہم بھی تیری طرح آشیانے میں

صیاد اپنے گھر مجھے کس شے کی تھی کمی

سب کچھ تھا اک قفس کے سوا آشیانے میں

جو کچھ کہا سنا ہو مرے باغباں معاف

شاید ملوں نہ کل تجھے میں آشیانے میں

۔۔۔۔۔

حسیں رخ پہ جو زلفیں ڈالی گئی ہیں

سحر شام دونوں ملا لی گئی ہیں

کہیں اس طرف مے کدہ تو نہیں ہے

گھٹائیں ابھی کالی کالی گئی ہیں

اب آسان سی ہو گئی ہے محبت

کہ پابندیاں سب اٹھا لی گئی ہیں

نہ کیوں روئیں قسمت پہ اہلِ گلستاں

دعائیں غریبوں کی خالی گئی ہیں

محبت کی روداد تو ایک ہی ہے

مگر داستانیں بنا لی گئی ہیں

کھلی چاندنی جگمگاتے ستارے

قمرؔ ایسی راتیں بھی خالی گئی ہیں

قمر جلال آبادی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے