گلوں کی جلوہ گری، مہر و مہ کی بوالعجبی

گلوں کی جلوہ گری، مہر و مہ کی بوالعجبی
تمام شعبدہ ہائے طلسم بے سببی

گذر گئی ترے مستوں پہ وہ بھی تیرہ شبی
نہ کہکشاں نہ ثریا نہ خوشہ عنبی

یہ زندگی ہے یہی اصل علم و حکمت ہے
جمال دوست و شب مہ و بادہ عنبی

فروغ حسن سے تیرے چمک گئی ہر شے
ادا و رسم بلالی و طرز بولہبی

ہجوم غم میں نہیں کوئی تیرہ بختوں کا
کہاں ہے آج تو اے آفتاب نیم شبی

سرشت عشق طلب اور حسن بے پایاں
حصول تشنہ لبی ہے شدید تشنہ لبی

وہیں سے عشق نے بھی شورشیں اڑائی ہیں
جہاں سے تو نے لے لئے خندہ ہائے زیر لبی

کشش نہ جام نگاریں کی پوچھ اے ساقی
جھلک رہا ہے مرا آب و رنگ تشنہ لبی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے