گلابی سورج

گلابی سورج

میں سورہی تھی

گلابی سورج مری نگاہوں پہ پڑ رہا تھا

وہ کہہ رہا تھا

قریب آؤ نظر ملاؤ اور اپنے حصے کے خواب لے لو

میں بند آنکھوں سے اس کی جانب

 قدم بڑھا کے کھڑی ہوئی ہوں

میں اپنے خوابوں میں ساتھ پانے پر

 اس سے اس کا اڑی ہوئی ہوں

کہ پھر اچانک گلابی کرنوں نے رنگ بدلا

سنہری سبزے نے آنکھ کھولی

مری نگاہوں نے چاہا اس پل کہ بھر لوں جھولی

جھپک کے پلکیں میں اتنا بولی

 ہے منظور مجھ کو جو تیری رضا ہو

اٹھے میری میت سجے میری ڈولی

کہیں سے اڑتے میرے لبوں پہ گلاب آئے

اور میرے حصے میں بہتے جھرنوں سے خواب آئے

میں ان گلابوں کی شدتوں میں پگھل گئی ہوں

میں خواب پلو سے باندھے سارےنئے سفر پہ نکل گئی ہوں

سلمیٰ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے