گلابی جاڑا اور چائے کا رومانس

گلابی جاڑا اور چائے کا رومانس

دسمبر شروع ہو چکا ہے۔ گلابی جاڑوں نے میرے شہر میں طنابیں کسنا شروع کر دی ہیں۔ اس سردی کا موسم آن پہنچا ہے جس میں دن مختصر ، شامیں لمبی اور راتیں طویل ہو جاتی ہیں۔ لیکن ابھی اس سردی کا انتظار ہے جس سے ناک سرخ، آنکھیں نم اور ہاتھ سفید ہو جاتے ہیں۔ وہ سردی جو میرے گرمیوں کے ستائے ہوئے سرد خون کو اتنی حرارت دیتی ہے کہ خون کھولنے لگ جاتا ہے اور میں اپنے اس مادیت پرستی کے ناپاک وجود کا بوجھ اٹھا کر انجانی راہوں پر چل نکلتا ہوں۔ سردیوں کی یہ مقدس دھوپ چند دنوں کے لیے میرے من کا چولا دھو کر میری روح کو پاکیزگی عطا کرتی ہے۔ اور میں ایک عجیب و غریب اور پر سکون دنیا کا باسی بن جاتا ہوں۔ جاڑا میرے لڑکپن کے سوئے ہوئے لوفر کو جگا دیتا ہے۔ اور میرے اس دنیا دار قسم کے وجود کو شہر کی خاموش گلیوں، خزاں رسیدہ درختوں کے بیچوں بیچ بنی راہداریوں اور شہر کے انجان کونوں کھدروں کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ اپنے ہی شہر کی گلیاں انجان محسوس ہو رہی ہیں۔ اپنے جنم بھومی کے بیسیوں کچے پکے مکان میں پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں۔ کیا یہ پیارے پیارے پھول سے نازک چہرے میرے شہر کے باسی ہیں؟ ارے یہ کچی سڑک کب پکی بنی؟ اے میرے ہم نشیں ذرا بتانا وہ جو اسنکڑ پر برگد کا پرانا درخت ہو ا کرتا تھا وہ کیا ہوا؟ گلابی جاڑا مسکراتا ہے اور میرے بے مہر اور بے روح جسم کو تھپتھپاتے ہوئے کہتا ہے کہ پیارے دنیا کے پیچھے بھاگو گے تو اپنا شہر تو درکنا ر اپنے خاندان اور اپنے آپ کو بھی بھول جاؤ گے۔ جب تک جان میں جان ہے اپنوں کو مت بھول ۔ یہ شہر تمہارا اپنا ہے اس شہر کی گلیوں اور بازاروں کو بھول گیا تو اپنا آپ بھی فراموش کر بیٹھے گا۔
میں اس وقت کالج لائبریری کے سامنے لان میں بیٹھا ابتدائی موسم سرما کی دھوپ کے مزے لے رہا ہوں۔ شیشم اور سفیدے کے درختوں کے خشک پتے میرے چاروں طرف بکھرے پڑے ہیں۔ اس بے برگ و بار ماحول میں اچانک بڑے سے پھول دا ر مگ میں چائے آ جاتی ہے۔ چائے کی بہار دسمبر کی خزاں سے گلے ملنے لگتی ہے۔ اے میری زندگی کی ساتھی چائے! تو نہ ہوتی تو میں کیسے زندگی گزار سکتا تھا۔ ہلکی ہلکی سرد ہوا میں مَیں بڑا سا مگ ہاتھ میں پکڑ کر آہستہ آہستہ چسکیاں لے رہا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ چائے کی اور میری یہ تھوڑی دیر کی رفاقت طویل سے طویل تر ہو جائے۔ نیلگوں آسمان کی اتھاہ گہرایؤں میں ایک چیل بیہودہ قسم کی اڑانیں بھر رہی ہے۔ موسم خزاں اور سرما کے مخصوص پرندے ہزاروں میل دور سائبیریا سے ہجرت کر کے میرے وطن آچکے ہیں۔ان میں سے کئی ایک ہمارے کالج کے بوڑھے درختوں پر ڈیرا جمائے انجانی بولیوں میں جانے کن بچھڑے اور بکھرے ہوئے ساتھیوں کو یاد کر رہے ہیں۔ میرے اوپر رومانوی اور افسانوی کیفیت طاری ہو رہی ہے۔ شاید ایسی ہی کسی کیفیت میں s john keatنیاپنی شہرہ آفاق نظم ode to autumn لکھی ہو گی۔ جس میں اس جواں مرگ شاعر نے خزاں کے قدرِ ناشناس حسن کو ہمیشہ کے لیئے اَمر کر دیا۔
میں اپنی آنے والی چھٹیوں کو گننے لگ گیا ہوں۔ سیل فون کے کیلینڈر میں اتوار سے ملحق چھٹیاں دیکھ رہا ہوں۔ اس مرتبہ میں نے لاہور جانا ہے۔ لیکن کسی کو بتا کے نہیں جاؤں گا۔ کسی کے ساتھ میں بور ہو جاتا ہوں ۔ میرے ساتھی انار کلی اور ماڈرن مارکیٹوں کے رسیا ہیں۔ مجھے ان کاروباری مراکز سے

خوف آتا ہے۔میں نے تو اپنے محبوب لاہور کی گلیوں کو دیکھنا ہے۔ اندرون شہر کی تنگ و تاریک گلیاں میرا ا نتظار کر رہی ہیں۔اے حمید بھی شاید میرا انتظار کرتا رہا ہو گا۔وہ مجھے اور میں اسے دیکھنا چاہتا تھا۔ میں اسے اپنے جنم بھومی کی کہانیاں سنانا چاہتا تھا اور وہ مجھے امرتسر کے اجڑے دیار کے نوحے ۔ سنا ہے کہ بیچارہ مر گیا میرا انتظار کرتے کرتے۔ لے گیا اپنے ساتھ ہی وہ کمپنی باغ کی یادوں کو۔سیلون کی چائے بھی اپنی قبر میں لے گیا۔ اب کے جب میں لاہور جاؤں گا تو دیکھوں گا کہ اے حمید کے بغیر لاہور کیسا لگتا ہے۔ کیا اب بھی موچی دروازے کی تنگ و تاریک گلیوں میں تھڑے پر چائے پکتی ہے ۔ کیا اب بھی کشمیری لوگ سبز چائے کو دم دے کر باقر خانیوں کے ساتھ نوش کرتے ہیں؟ میرے دل ، میری جاں لاہور میں آ رہا ہوں تیری گلیوں کو دیکھنے کے لیئے۔ بس ذرا اتوار کے ساتھ کوئی چھٹی گانٹھ لوں۔ لاہور مجھے تیری مارکیٹوں کے زرق برق کپڑوں کی ضرورت نہیں ہے نہ ہی چمکدار لیدر کے جوتوں اور جیکٹوں کی۔ میرے گھر میں اتنی فالتو جگہ نہیں ہے کہ جوتوں اور کپڑوں کے انبار لگا دوں۔ مجھے تو چپل پہن کے آناہے تیر ی گلیوں کی زیارت کرنے کے لیئے۔ اس مرتبہ میں نے میانی صاحب بھی جانا ہے۔ وہاں درویش لاہور کی آخری آرام گاہ کو دیکھنا ہے بلکہ ایک قرض چکانا ہے۔ سناہے کو اس درویش ساغر صدیقی کی مرقد پر یہ شعر لکھا ہو ا ہے
جو بھی دیکھے میری مرقد کو
قرض ہے اس پہ چار پھولوں کا
اب کے سردیاں کافی لیٹ ہو گئی ہیں۔ مجھے شاید وہ سردیاں مل ہی نہ سکیں جن کی تلاش میں کب سے بیٹھا ہو ا ہوں۔ مجھے دادی اماں کے زمانے والی سردیاں ڈھونڈنی ہیں۔ جب جاڑے کی طویل شامیں ہم باورچی خانے کے اپلوں کے دھنویں میں گزارا کرتے تھے۔ یہ تب کی بات کر رہا ہوں جب کچن ایجاد نہیں ہوا تھا۔ وہ کچن جس میں اپلوں اور لکڑی کے دھنویں کا گزر نہیں ہو تا۔ وہ کچن جس میں سنگ مر مر کے پتھر جڑے ہوتے ہیں اور اس پتھریلے کچن کے اندر پتھر دل والی حسینائیں بد ذائقہ کھانے بنانے میں اپنی نظیر نہیں رکھتیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ چائے بنانے کا مقدس عمل بھی کھڑے ہو کر کیا جاتا ہے۔چائے وقت مانگتی ہے ، پینے کے لیئے بھی اور بنانے کے لیئے بھی۔ جو اسے وقت نہیں دیتا چائے اسے بد دعائیں دیتی ہے۔اس فقیرنی کی بد دعاؤں سے بچو۔ چائے بیٹھ کر پیو اور بیٹھ کر بناؤ۔
سردیوں کی مخصوص خوشبو پورے کالج میں پھیلی ہوئی ہے۔ عجیب ماحول ہے۔ نہ رونق نہ سکوت۔ نہ شور نہ خاموشی۔ بڈھے طوطوں کا ایک جوڑاکب سے سامنے شہتوت کے درخت پر بیٹھا ہے۔ ان کی بزرگی کا اندازہ میں نے ان کی خاموشی سے لگایا ہے۔ شاید ابان کے پاس بولنے کو کچھ نہیں بچا۔ جب بولنے کو کچھ نہ بچے تو مر جانا چاہیئے۔ میری چائے ختم ہو چکی ہے۔ بڑا سا مگ بھی جلد ختم ہو گیا۔ آخر ختم ہونا تھا۔ انسان بھی مر جاتا ہے یہ تو بیچارہ ایک مگ تھا۔ میرا کوئی قلبی دوست آئے تو میں اس کو صرف چائے پلاتا ہوں۔ اس کے ساتھ لوازمات شامل نہیں کرتا۔ اگر اس کے ساتھ بسکٹ، پکوڑے منگوا لوں تو چائے ناراض ہو جاتی ہے۔ چائے شراکت پسند نہیں کرتی۔ میں مہمان کو اکیلے چائے پیش نہیں کرتا بلکہ خود بھی پیتا ہوں۔ چاہے مجھے روزانہ بیس مگ ہی کیوں نہ پینے پڑیں۔ لیکن چھوڑو محبت میں گنتی نہیں کی جاتی۔ اور مجھے تو چائے سے محبت ہی نہیں عشق ہے۔
بعض لوگ موسمِ سرما آتے ہی چادروں کی بکل مار لیتے ہیں اور موٹے موٹے کھیس نما چادروں سے اپنا انگ انگ چھپا نے کی کوشش کرتے ہیں۔ در اصل یہ نا شکرے لوگ ہیں۔ جاڑے جیسی عظیم نعمت کا کفر کرتے ہیں۔ سرما کوئی کھا تو نہیں جاتا۔ کم از کم مجھے تو کچھ نہیں کہتا۔ میں تو رات کو بھی بسا اوقات بغیر چادر یا کوٹ کے میلوں لمبی سیریں کرتا ہوں۔ در حقیقت جاڑا ان لوگوں کو نمونیا یا دوسری بیماریوں کا شکار کرتا ہے جو لوگ اس موسم سے خائف ہوتےہیں۔
بچپن میں جب ہم اپنے گاؤں جایا کرتے تھے تو وہاں ہر موسم کا الگ مزہ ہوتا۔ گاؤں کی سردی کے بارے ہر عمر میں میرا احساس تبدیل ہوتا رہا۔ کمسن عمر میں سردی کا پتہ بھی نہ چلتا حالانکہ سب بڑے بوڑھے موٹے موٹے کھیس اور کمبل اوڑھے رہتے۔ باورچی خانہ کا دھنواں زہر آلود محسوس ہوتا۔ ساٹھ واٹ کے بلب کی میلی روشنی میری طبیعت کو بھیملول کر دیتی۔ ہر کوئی عشا کی نماز پڑھ کر بستروں میں گھس جاتا۔ نہ پوچھیئے رات کی طوالت، جو گزرنے کا نام ہی نہ لیتی۔ ایک رات مجھے یا د ہے کہ رات کے کسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور نیند کی دیوی کہیں دور بھاگ گئی۔ کتنی دیر میں الو کی طرح دیدے مٹکاتا بستر سے منہ باہر نکالے لیٹا رہا۔ دور نالے کے پار سے گیدڑوں کے چیخنے کی پر اسرار آوازیں اور زمینداروں کے کتوں کی کرخت چیخوں کے ایک انجانے خوف نے مجھے جکڑ لیا۔ سونے پر سہاگے کا کام میری دادی اماں کے خراٹے کر رہے تھے جو ساتھ والے کمرے میں سوئی ہوئی تھیں۔ خراٹوں کی آواز ہر لحظہ تبدیل ہو رہی تھی۔ کبھی تو یہ بلیوں کی لڑائی کی سی کیفیت پیدا کر دیتے۔ اور کبھی بلند ہوتے ہوتے ایسا لگتاکہ کسی بیل کو ذبح کیا جا رہا ہے۔ شکر ہے کہ دادی اماں کو کبھی کبھی کھانسی کی حاجت ہو جاتی اور خراٹوں کی وہ وحشت ناک آوازیں لمحہ بھر کے لیئے ختم ہو جاتیں۔ خراٹوں اور کھانسی میں یہ آنکھ مچولی کافی دیر جاری رہی۔ الو بولتے رہے، کتے بھونکتے رہے، گیدڑ چیختے رہے، دادی اماں خرخر اور کھاؤں کھاؤں کرتی رہیں اور میں جاگتا رہا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے امی کو جھنجھوڑ کر اٹھا دیا۔ پانی مانگا اور وقت کا پوچھا۔ میرا اندازہ تھا کہ شاید رات دو بجے کے بعد کا وقت ہو گا۔ لیکن میں سن کر حیران رہ گیا جب امی نے بتایا کہ ابھی تو ساڑھے نو بجے ہیں۔
آ ج جب میں اگلے دن کے لیئے لیکچر تیار کرتے کرتے یا کبھی کسی افسانے کو مکمل کرتے کرتے گھڑی پر نظر ڈالتا ہوں اور مجھے گھڑی رات کے ایک یا دو بجے کا وقت بتاتی ہے تو مجھے وہ گاؤں کی رات ضرور یاد آجاتی ہے۔ آج گاؤں کے حالات شاید کچھ بدل چکیہیں۔ ٹیلی وژن تو پرانا ہو چکا اب تو کیبل سسٹم بھی ہمارے گاؤں میں آ چکا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں رات دیر گئے تک اپنے اپنے پسندیدہ پروگرام دیکھنے کے لیئے جاگتے رہتے ہیں۔ خواتین بھی کھانا پکانے سے پہلے زبیدہ آپا کا نظارہ کرنا فرض عین سمجھتی ہیں۔ اور تو اور بوڑھی خواتین بھی اپنی سترہ نمبر کی عینک لگائے شاہد آفریدی کے چھکوں پر واہ واہ کرتی نظر آتی ہیں۔
مجھے دھوپ میں بیٹھے گھنٹہ ہونے کو ہے۔ کالج حسب معمول خاموش ہو چکا ہے۔ لیکن میں نے ابھی کافی دیر بیٹھنا ہے۔ جانے یہ سردیوں کا گلابی جاڑا پھر نصیب ہو یا نہ ہو۔ جانے کس لمحے زندگی کی ڈور کٹ جائے۔ بہتر ہے کہ اس کوچ سے پہلے اس نعمت سے خو ب لطف اندوز ہو لوں۔میرے سامنے میز پر افسانوں کی کتابیں رکھی ہیں۔ اے حمید کی لاہور کی یادیں ابھی ختم کی ہے۔ کمال کی کتاب ہے۔ لاہور کبھی اے حمید کا احسان نہیں بھلا سکے گا جو اس ایک کتاب کو لکھ کر اے حمید نے لاہور پر کیا ہے۔ ایک اور کتاب منٹو کے افسانوں کی ہے۔ بیدی کے افسانے بھی موجود ہیں۔ ٹامس ہارڈی کے ناول مجھ سے ذرا دور ہیں۔ ٹیس اور ریٹرن آف دی نیٹو جیسے لازوال ناولوں نے مجھے ہارڈی کا گرویدہ بنا دیا ہے۔ لیکن اس سمے میں کوئی کتاب نہیں پڑھنا چاہتا تھا۔ کیا یہ موسم از خود ایک کتاب نہیں۔ جب ماحول افسانوی ہو تو فکشن کیونکر پڑھا جائے۔
مجھے کالج لائف کا سردیوں کا موسم بھی یا د آرہا ہے۔ اکثر پیریڈ کھلے سبزہ زاروں میں ہوا کرتے تھے۔ لیکن میں ان دنوں بھی بڑا رومینٹک ہوتا تھا۔ اور سردیوں کے مہینے میں کوئی تعمیری کام کرتے ہوئے بڑا افسوس ہوتا تھا۔ اس لیئے اس احساس زیاں سے بچنے کے لیئے میں عمومی طور پر اپنے قریبی دوستوں کے ہمراہ پیریڈ نہیں لگایا کرتا تھا۔ بلکہ ہم دوست کالج کے لمبے لمبے کرکٹ اور فٹ بال کے میدانوں میں چہل قدمی کیا کرتے یا پھر کسی گوشہ تنہائی میں بیٹھجاتے۔ یہ وہ دور تھا جب اختر شیرانی ، میرا جی ، ابن انشا اور مجید امجد میرے حواس پر چھائے ہوئے تھے۔ میں ان عظیم شعراء کی بوسیدہ کتابیں پسند کرتا تھا۔ اگر کہیں سے نئی نکور چمکتی دمکتی کتاب ہاتھ لگ جاتی تو وہ مجھ سے نہیں پڑھی جاتی تھی۔
یادیں آج مجھے تڑپا رہی ہیں۔ یہ سرما آ ج پھر زوروں پر ہے۔ صدیوں سے بنی نو عِ انسان اس نعمت سے لطف اندوز ہوتا رہا ہے۔ میں بھی لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ میں بھی مر جاؤں گا۔ لیکن کیا میرے مر جانے کے بعد بھی سردیوں کا موسم اسی طرح آیا کرے گا۔ اس وقت بھی خزاں کے سرد اور سنہری پتے بارش کے قطروں کی طرح تڑ تڑ کی آوازوں کے ساتھ زمین پر برسا کریں گے۔ کیا میرے مر جانے کے بعد بھی چائے کی بہاریں یوں ہی رہیں گی۔ نہیں ایسا نہیں ہو گا۔ یہ یک طرفہ محبت نہیں ہے۔ یک طرفہ محبت میرے مزاج کے خلاف ہے۔ میں نے جتنی بھی محبتیں کی ہیں وہ دو طرفہ تھیں۔ میرا جاڑے اور چائے کے ساتھ بھی رومانس دو طرفہ ہے۔ میرے جانے کے بعد سردیاں آنا بند ہو جائیں گی۔ میری آنکھیں بند ہوتے ہی چائے کی خوشبو بھی اڑ جائے گی۔ مجھ جیسے دوست کے بغیر بھلا یہ کیسے زندہ رہ سکیں گی۔ لیکن شاید ایسا نہ ہو۔ انسان فانی ہے۔ فطرت لافانی ہے۔ فطرت سے محبت کرنے والے شیلے، کیٹس، بائرن اور ورڈزورتھ بھی چلے گئے لیکن باغوں اور ویرانوں میں پھول اسی طرح کھل رہے ہیں۔ اے حمید بھی مر گیا لیکن لاہور آباد ہے ۔ اشفاق احمد بھی رخصت ہو گیا لیکن لاہور ریڈیو سٹیشن کی سیڑھیاں اسی طرح پر رونق ہیں۔
یہ ساری عظیم ہستیاں چلی گئیں ، میں کس کھیت کی مولی ہوں۔ میری کمی کون محسوس کرے گا۔ شاید کوئی نہیں۔ چلو پھر مرنے سے پہلے اپنے حصے کی سردیوں کے موسم دیکھ لوں اور اپنے حصے کی چائے پی لوں۔ کوئی ارمان تو نہ رہے۔

وقاراحمد ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے