گلاب سمجھا ہوا تھا جن کو وہ خار نکلے

گلاب سمجھا ہوا تھا جن کو وہ خار نکلے
ہمارے دشمن ہمارے اپنے ہی یار نکلے

کبھی کبھی درد دل میں نکلے تو یوں لگے ہے
کہ جیسے میرے بدن سے کچھ آر پار نکلے

وہ لوگ جو خود کو ضبط کا رب بتا رہے تھے
پڑی جو مشکل تو ایک جھٹکے کی مار نکلے

میں حق پہ ہوں جان کر بھی کوئی نہیں مرے ساتھ
مخالفت میں مری مگر بے شمار نکلے

اسی کے دل پر اثر نہیں ہو سکا وگرنہ
ہماری آنکھوں سے اشک تو بار بار نکلے

ہماری قسمت میں ڈوبنا لکھ دیا گیا تھا
وگرنہ جو لوگ ساتھ تھے وہ تو پار نکلے

میں چاہتا ہوں تو مجھ پہ بالکل نہ جائے بیٹا
میں چاہتا ہوں کہ تو عبادت گزار نکلے

زباں نہیں ساتھ دے سکی میرا مہدی ورنہ
مری تو کوشش یہی تھی دل کا غبار نکلے

جاوید مہدی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے