گل ریگزار پریشہ اور اس کا محبوب


ریگستان صحرا کے شمال مغربی کنارے پر واقع بی بی جان کلا کی چھوٹی سی منڈی میں صبح سویرے سنگلاخ ٹیلوں پر مال سجا دیا جاتا۔ دور دراز سے آنے والے خریداروں کا ہجوم سارا دن موجود رہتا پھر بھی یہ دو رویہ دکانیں بھری رہتیں۔ اب پچھلے کئی دنوں سے مال تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ اس منڈی میں عرصہ ہوا ایسے حالات نہیں دیکھے گئے تھے۔ ایسی ویرانی تو بیس سال پہلے طالبان کے دور میں ہوتی تھی۔

اس فریب آفریں خاموش بیاباں میں واقع یہ ایک چھوٹا سا نخلستان تھا۔ اس کے گرد بے آب و گیاہ پہاڑیوں کی چھوٹی چھوٹی چوٹیاں آری کے دندانوں کی طرح سر اٹھائے کھڑی تھیں۔ یہاں پہنچتے پہنچتے دریائے ہلمند کی موجیں بھی پیاسے انسانوں کی طرح ریگستان پر سر پٹکنا شروع کر دیتیں۔ فصلیں سوکھے پتوں کے ساتھ پیلا رنگ اوڑھے پانی کی کمی کا شکار نظر آتی تھیں۔ اناج، ترکاری، سب سپن بولدک اور قندھار سے آتا تھا۔ کئی دنوں سے انجانے چہرے گاڑیوں پر سوار ہو کر آتے اور سارا مال خرید کر لے جاتے۔

بستی میں مہنگائی اور بھوک کے ساتھ خوف نے بھی ڈیرے ڈال لیے۔ یہ لوگ سارا دن اسلحہ لہراتے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر گھومتے نظر آتے۔ جونہی کوئی پولیس یا فوج کی گاڑی آتی یہ غائب ہو جاتے۔ شام کے بعد ان کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا۔ دھرتی جب رات کی کالی چادر اوڑھ لیتی تو کالے کپڑوں میں ملبوس یہ لوگ بھی چائے خانوں اور چوپالوں میں ڈیرہ جما لیتے۔ مقامی لوگ ان کو دیکھ کر کونوں کھدروں میں دبک کر بیٹھ جاتے۔

کالے ڈالے میں سوار وہ پانچ مسلح افراد ڈھابے میں آئے تو ان کو دیکھ کر سب لوگ خاموش ہو گئے۔ ٹی وی پر مشہور گلوکارہ محبوب کی یاد میں، جو جنگ میں مارا گیا تھا، نوحہ کناں تھی۔ ایک نے اپنی بندوق کی نالی اس کی طرف کی تو مالک نے میوزک بند کر دیا۔ وہ درخت کے نیچے بچھی دری پر بیٹھ گئے۔ جھانکڑوں کی آگ پر پتیلی میں قہوہ تیار ہو رہا تھا۔ چائے والے نے سب گاہکوں کو چھوڑ کر ان کو قہوہ پیش کیا۔ بظاہر اردگرد کے ماحول سے بے نیاز، تلخ قہوہ کے گھونٹ حلق سے نیچے اتارتے ہوئے، وہ ہنسی ٹھٹھا کرنا شروع ہو گئے۔

ان میں سے ایک جو قد میں سب سے لمبا اور عمر میں بھی زیادہ تھا، حرکات و سکنات سے ان کا سردار لگ رہا تھا، اٹھ کر کچی دیواروں والی پرانی مسجد کی طرف چل پڑا۔ اس کے کاندھے پر موجود چادر میلی اور شکستہ ہو چکی تھی۔ پاؤں میں بھاری اور سخت جوتا تھا۔ وہ ایک ایک دروازے کھڑکی کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ محراب میں کافی دیر کھڑا کچھ سوچتا رہا پھر پہلی صف میں نوافل ادا کیے اور گڑگڑا کر دعا مانگنے لگا۔ رفتہ رفتہ اس کی آواز بلند ہوتی جا رہی تھی۔ وہ فتح اور سلامتی کی دعا مانگ رہا تھا۔ اسی دوران اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنا شروع ہو گئے اور آواز بھی بھرا گئی۔ وہ سجدے میں گر گیا اور ہچکیاں لے کر رونے لگا۔
نہایت خشوع و خضوع سے دعا مانگ رہا تھا کہ ایک آہٹ نے اسے چونکا دیا۔ مڑ کر دیکھا تو کوئی مسجد کی کھڑکی سے جھانک رہا تھا۔ پہلو میں لٹکی بندوق کو سیدھا کیا اور بھاگ کر کھڑکی کے پاس آیا۔ کوئی جوان تھا جو اس کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑا ہوا۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتا صحن میں آیا اور ایک ہی جست میں کچی دیوار پھلانگ کر باہر پہنچ گیا۔ سنسان گلی میں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اسے پتا تھا کہ یہ گلی ویرانے کی طرف جاتی ہے۔ وہ دوڑتے ہوئے آبادی سے باہر آ گیا۔

دور اندھیرے میں پوشاک کی ایک جھلک نظر آئی اور پھر جھاڑیوں میں اوجھل ہو گئی۔ وہ اسی مسجد سے ملحقہ مدرسے میں پڑھا کرتا تھا۔ ویرانے کے چپے چپے سے واقف تھا۔ لڑائی کے آغاز میں ہی اس کا قبیلہ ہجرت کر گیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ راستہ آگے جا کر ریتلے ٹیلوں اور چھوٹی پہاڑیوں کی بھول بھلیوں سے ہوتا ہوا صحرا کی ریت میں گم ہو جائے گا۔ وہ اسے خانہ بدوش چرواہوں کی متروکہ غار کے دہانے پر نظر آیا۔ وہ تیزی سے اس پر جھپٹا اور زمین پر گرا کر اس کے اوپر بیٹھ گیا۔ گراتے ہی اسے احساس ہو گیا تھا کہ دشمن مرد نہیں عورت ہے۔

چہرے پر نقاب تھا اور وہ بڑا سا چوغہ اوڑھے ہوئے تھی۔ اسے چھوڑ کر وہ پیچھے ہٹ گیا۔
”کون ہے تو؟ اور مجھے کیوں دیکھ رہی تھی؟“

اس نے آگے بڑھ کر نقاب پھاڑ دیا۔ وہ خاموش کھڑی رہی۔ وہ پختہ عمر کی ایک انتہائی خوبصورت عورت تھی۔ گورے مکھڑے اور بھرے بھرے گالوں پر بکھرے کالے گھنگھریالے بال رات کی تاریکی کو بڑھاوا دے رہے تھے لیکن ستاروں نے اس کے چہرے سے روشنی لے کر گھور اندھیرے کو پسپا کر دیا۔ لق و دق صحرا روشن ہو گیا۔ ریگ زار میں چاند نکل آیا۔

وہ کانپ رہی تھی۔ خروشاں سینے کا مد و جزر اس کے اضطراب کا مظہر تھا۔

اس نے موٹی موٹی کاجل بھری نمناک آنکھیں کھولیں توان میں خوف و ہراس دیکھ کر وہ پشیماں ہو گیا۔ کہنے لگا

”بولو! تم کون ہو؟“
جواب نہ دارد۔
اس کی خاموشی قیامت ڈھا رہی تھی۔ وہ آگے بڑھا اور اپنے سخت ہاتھ سے اس کی نرم کلائی پکڑ کر کہنے لگا
”بتاؤ۔ تو مجھے کیوں گھور رہی تھی؟ بولو، نہیں تو میں تجھے مار ڈالوں گا۔“
یہ کہہ کر اس نے اپنی بندوق تان لی۔
”میں قلعہ سرک کی رہنے والی ہوں اور اکثر کالی راتوں کو اس مسجد میں آتی ہوں۔“
”تم ہو کون؟“
”شاہ زر آکا خیل کی بیٹی۔“
”تمہارا نام پریشہ ہے؟“
”ہاں۔“

”تم قلعہ سرک کی بسنے والی ہو۔ اندھیری راتوں میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہلمند کے اس پار کیسے آجاتی ہو؟“

اب اس کا اعتماد بحال ہو چکا تھا۔ وہ غور سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔

”پاکھ اندھیرا میری قسمت ہے۔ تم بتاؤ، مجھ جیسی ادمادی اماہ کی راتیں کیسے گزارے؟ لیکن تم کون ہو اور مجھے کیسے جانتے ہو؟“

”تمہیں پتا چل ہی گیا ہو گا کہ ہم کون ہیں اور یہاں کیوں آئے ہیں؟“

تم بڑے انہماک سے دعا مانگ رہے تھے۔ میں نے سب سن لیا ہے اور ویسے بھی ہم جانتے ہیں کہ طالبان حملہ آور ہونے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ تم اپنی بات کرو؟“

اس نے آہستہ سے پریشہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا ”میں گل شیر ہوں، وہی گل شیر جس کی تلاش میں تم اماوس کی سیاہ راتوں کو مسجد میں آتی ہو۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے پریشہ کو اپنے ساتھ لگا لیا۔ وہ تھوڑا سا کسمسائی اور پھر وفور بے خودی میں اس کے ساتھ چمٹ گئی۔ گل شیر نے جوش دیوانگی سے اسے باہوں کے حصار میں لے لیا۔ کچھ دیر بعد گلہ مند لہجے میں گویا ہوئی،

”میں نے تمہیں زندگی میں کبھی نہیں دیکھا لیکن تم سے منسوب ہو چکی تھی۔ تم علاقہ ہی چھوڑ گئے اور ہمارے دشمنوں کے ساتھ جا ملے۔ مجھے یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن تم ضرور واپس آؤ گے۔“

”بہت سال اجاڑ، تپتی ہوئی، بے منزل راہوں پر بھٹکنے کے بعد ہمارا گروہ ادھر آیا تو میں اس مسجد کی طرف کھنچا چلا آیا۔ کل رات ہم حملہ کرنے والے ہیں۔ اچھا ہوا تم مجھے مل گئی ہو۔ اپنے خاندان کے ساتھ فوراً اس شہر کو چھوڑ جاؤ۔“

وہ ہچکچائی۔ دھکا دے کر خود کو اس سے علیحدہ کیا۔ کہنے لگی،

”ہم بزدل نہیں جو دشمن کے ڈر سے ہجرت کر جائیں۔ ہمارا جینا مرنا اس مٹی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ہمارا خون دھرتی کے ہاتھوں کی مہندی بن جائے گا۔ ہم نے ملک پہلے چھوڑا، نہ اب چھوڑیں گے۔ تمہارا مقابلہ کریں گے۔“ کچھ دیر خاموش رہی پھر بولی،

”تم سوچو، کب تک اپنوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہو گے؟“

وہ لاجواب ہو چکا تھا۔ طرح طرح کے خیالات اس پر غلبہ جما رہے تھے۔ وہ ایک گروہ کا سربراہ تھا۔ پچھلے بیس سال سے وہ اس صحرا میں، اس دریا کے اردگرد حملہ آور ہوتے رہے تھے۔ ان کی گزران ہی لوٹ مار پر ہوتی تھی۔ یہ پورے گروپ کا فیصلہ تھا کہ اس بستی پر حملہ آور ہوا جائے۔ وہ انہیں نہیں روک سکتا تھا۔ یہ فیصلہ اٹل تھا۔ کل اپنا ملک، اپنا شہر، اپنے لوگ، یہ نخلستان، یہ ریگزار اور یہ گل ریگزار پریشہ جو دو دہائیوں سے اس کا انتظار کر رہی تھی، سب ان کے نشانے پر ہوں گے ۔ وہ بندوقوں سے آگ برساتے اس شہر میں داخل ہوں گے ۔ بے پناہ تباہ کاری سے کچھ نہیں بچے گا۔ اس ریگزار کی پیاس خون سے بجھائی جائے گی۔

آخری حربے کے طور پر اس نے پریشہ کو ڈرانا شروع کر دیا، ”تمہیں کابل سے مدد نہیں ملے گی۔ ان کو اطلاع مل بھی گئی تو وہ فوج نہیں بھیجیں گے۔ طیارے آسمان سے اندھا دھند آگ برسائیں گے۔ بم تم پر ہی گریں گے۔ کیا تم میرے ساتھ چل کر اس بربادی سے نہیں بچنا چاہتی ہو؟“

”ہم پشتون ہیں۔ میں اپنے لوگوں میں ہی واپس جاؤں گی چاہے نجیب اللہ کی طرح مجھے بھی چوراہے میں لٹکا دیا جائے لیکن یہ یاد رکھنا کہ اس طرح تمہیں بھی فتح حاصل نہیں ہوگی۔ یہ ایک اور خانہ جنگی کا آغاز ہوگا۔“

گل شیر اپنی چادر کندھے پر ڈالتا ہوا اٹھا کھڑا ہوا۔ ”تم سب کچھ جان چکی ہو، مجھ پر فرض ہے کہ تمہیں ابھی قتل کر دوں۔“

”میں تمہارے اختیار میں ہوں۔ مجھے خوشی ہو گی کہ میں اپنے محبوب کے ہاتھوں اپنے محبوب ملک کے لئے قتل ہوئی لیکن تم میرے خون سے آلودہ ان ہاتھوں سے اس ملک میں امن نہیں لا سکو گے۔ تمہارا ضمیر تمہیں کچوکے لگاتا رہے گا کہ تم نے ایک ایسی عورت کی جان لی جو کسی سازش یا جنگ میں شریک نہیں تھی۔“

وہ جسے اپنی طاقت پر گمان تھا اس کا سارا غرور مٹی میں مل گیا۔ ایک کمزور سی عورت نے حقائق بتلا کر اسے پشیمان کر دیا۔ وہ تو فتح کے بعد محلات کے سپنے دیکھ رہا تھا۔ اس عورت نے جتلا دیا کہ یہ ریگستان ہے یہاں بالو پر سپنوں کے مکانات نہیں سجائے جا سکتے۔ پہلے اس زمین پر انسانی رشتوں کو استوار کرنا پڑے گا پھر امن و سکون سے حکومت کی جا سکے گی۔

اندھیرا بڑھ رہا تھا۔ رات کے کالے ستم گر سیاہ ماتھے پر ندامت ہی ندامت چھا چکی تھی۔ وہ سر جھکائے کھڑا تھا۔ بے کراں دشت کے سناٹے میں اس کا دل بھی دھڑکنا بھول گیا تھا۔ یک دم مہیب خاموشی کو توڑتی ہوئی کچھ آوازیں سنائی دیں۔ گل شیر چونک گیا یہ اس کے اپنے ساتھی ہی تھے۔ انہیں دیکھ کر گل شیر اپنی بندوق سیدھی کر لی اور پریشہ کو دھکا دیتے ہوئے چلا یا ”بھاگ جاؤ۔ یہ تمہیں مار ڈالیں گے۔ اندھیرے پاکھ کی تیرگی تمہاری نہیں میری قسمت ہے۔ میری یاد آئے تو اماہ کی کالی راتوں کو اس مسجد میں آ کر میرے نام کا دیا جلا دیا کرنا۔“ وہ بھاگنے کی بجائے گل شیر کے پاس آئی۔ اس کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور اطمینان سے اندھیری گپھاؤں میں گم ہو گئی۔

ایک لمحہ بعد وہ چاروں اسلحہ تانے اس کے مقابل کھڑے تھے۔

سیّد محمد زاہد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے