گویا انداز شاہانہ ہے امیروں جیسا

گویا انداز شاہانہ ہے امیروں جیسا
میرے اندر کا ہے انسان فقیروں جیسا

ہم نے چہرے پہ سجا رکھی ہے شہر کی رونق
میرے دل کا عالم ہے ویران جزیروں جیسا

اس کے اوصاف و خصائل نے مجھے جیت لیا
میرے مریدوں میں وہ شخص تھا پیروں جیسا

اس سے پہلے تھی اسیری بھی رہائی جیسی
اب کے آزادی میں ہے حال اسیروں جیسا

اسکو گنوا کر ہیں خسارے اب تک محسن
وہ جو ایک شخص تھا میرے پاس ہیروں جیسا

محسن نقوی​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے