گوری کرت سنگھار

گوری کرت سنگھار
بال بال موتی چمکائے
روم روم مہکار
مانگ سیندور کی سندرتا سے
چمکے چندن وار
جوڑے میں جوہی کی بینی
بانہہ میں ہار سنگھار
کان میں جگ مگ بالی پتّہ
گلے میں جگنو ، ہار
صندل ایسی پیشانی پر
بندیا لائی بہار
سبز کٹارا سی آنکھوں میں
کجرے کی دو دھار
گالوں کی سُرخی میں جھلکے
ہر دے کا اقرار
ہونٹ پہ کچھ پھُولوں کی لالی
کُچھ ساجن کے کار
کَساہوا کیسری شلوکا
چُنری دھاری دار
ہاتھوں کی اِک اِک چُوڑی میں
موہن کی جھنکار
سہج چلے ، پھر بھی پائل میں
بولے پی کا پیار
اپنا آپ درپن میں دیکھے
اور شرمائے نار
نار کے رُوپ کو انگ لگائے
دھڑک رہا سنسار
پروین شاکر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے