گلینا

گلینا
ایک روسی کہانی
گلینا وشنے وسکایا
1952 کا موسم بہار، میں ایک دن لینن گراد کی، نے وسکی سڑک پر بے فکری سے چہل قدمی کر رہی تھی۔ خوشیوں اور امنگوں سے بھرپور، دھوپ کھلی ہوئی تھی، موسم سہانا ہو رہا تھا۔موسم گرما کے باغ کی طرف سے، دائیں جانب گھومتے ہی میرے قدم دفعتاً رک گئے۔ ادا کاروں کی عمارت پر لگے ہوئے اشتہار پر نظر پڑی۔ بڑے بڑے حروف میں اعلان تھا:
"سویت یونین کے بالشوئی تھیٹر نے ست روز گروپ کے انتخاب کے لیے مقابلہ کا اہتمام کیا ہے۔”
بہت سے لوگ یہ اشتہار دیکھ رہے تھے، میں نے ان سے پوچھا ” آپ کو معلوم ہے ست روز کا کیا مطلب ہے؟”
"نوجوانوں کا گروپ، آج اس مقابلے کا تیسرا دن ہے۔ ”
اس سال گرمیوں میں بالشوئی تھیٹر کے نمائندے روس کے تقریباً سبھی بڑے شہروں میں گلو کاروں کی آواز کی جانچ کر رہے تھے، اس مقابلے کا پہلا دور مقامی شہروں میں ہوا تھا۔ دوسرا اور تیسرا دور ماسکو کے بالشوئی تھیٹر میں منعقد کیا گیا تھا۔ میری عمر اس وقت پچیس برس تھی اور میں نے اس وقت تک کسی مقابلے میں حصہ نہیں لیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر گانے والوں کے ایک گروہ میں شامل ہو کر میں نے سب سے پہلے پیٹ بھرنے کے لیے گانا شروع کیا تھا۔ یہ گروہ جنگ میں برباد و بدحال روسی علاقوں میں گھوما کرتا تھا۔ رات میں سونے کے لیے جہاں جیسی جگہ ملتی، سب اکٹھے سو جاتے۔ غسل خانے اور بیت الخلا ہمارے استعمال میں نہیں رہتے، اکثر راتیں سڑکوں پر گذرتیں۔ ان کھلی سڑکوں پر کڑاکے کا جاڑا پڑتا جو اکثر صفر سے تیس درجہ نیچے تک پہنچ جاتا، ہم سردی سے ٹھٹھرتے سمٹتے کلبوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے۔ ان کلبوں کی دیواریں برف سے ڈھک جاتیں۔ سپاہی اور ملاح اوور کوٹ اور ٹوپیاں پہنے زمین پر بیٹھے رہتے۔
بعد میں ، میں ایک یا دو مہینے کے لمبے سفر پر جانے لگی۔ ان اسفار کے دوران مجھے تقریباً ہر روز ایک پروگرام کرنا ہوتا۔ ایک قصبے سے دوسرے قصبے میں پہنچتی، گندے ہوٹلوں میں ٹھہرتی، کھٹملوں سے بھرے بستروں پر۔۔۔ ایک پروگرام کے لیے مجھے کل تیس روپیے ملتے۔
۔ ۔۔لیکن آج میں کھڑی ہوئی بالشوئی تھیٹر کا اشتہار پڑھ رہی تھی:
میں اندر داخل ہوئی، ہال چھوٹا اور تاریک تھا۔ ممتحن اسٹیج کے پاس میز لگائے بیٹھے تھے۔ میں نے چاروں طرف دیکھا۔ پیانو نواز یسودا پطروشوا نظر آ گئی، میں ان کے ساتھ کام کرتی تھی۔ وہ اپنے کسی دوست کی آواز کے امتحان کے لیے آئی تھی۔ ہم دونوں ساتھ ساتھ بیٹھ گئیں اور دو گھنٹہ تک نوجوان گلوکاروں کا گیت سنتے رہے۔ اچانک یسودا نے جھک کر مجھ سے کہا:
"تم بھی کیوں نہیں آزما کر دیکھتیں !”
"ہاں ، کیوں نہیں۔ ”
جب سستانے کے لیے مقابلہ تھوڑی دیر کے لیے روک دیا گیا تو میں ممتحن کے کمرے میں جا پہنچی اور بولی ” میں بھی آپ کو گیت سنانا چاہتی ہوں۔ ”
"ٹھیک ہے، ہم آج ہی شام چار بجے تمھارا امتحان لیں گے۔”
میں اپنی موسیقی کی استاد ویرانکو لائینویگرینا سے ملنے کے لیے دوڑ پڑی۔ گذشتہ دو سال سے وہ مجھے گانا سکھا رہی تھیں۔ انھوں نے گانے کا ریاض کرایا اور امتحان کے لیے چند خاص باتیں بتائیں۔
میں نے ممتحنوں سے کہہ رکھا تھا کہ’ اوپیتراومیا’ گاؤ ں گی کہ یہ کافی مشکل راگ ہے۔ میں نے ویرانکولائینو کے ساتھ اسی کا ریاض کیا تھا اور اسے خوب سجایا سنوارا تھا۔
میرا گانا ختم ہوا تو سامعین آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے” یہ کون ہے ؟ کہاں کی رہنے والی ہے؟”
ممتحنوں نے اپنے کمرے میں بلا کر مجھ سے پوچھا” کیا تم نے موسیقی اسکول سے امتحان پاس کیا ہے؟”
"نہیں ” میں نے جواب دیا ” میں نے ذاتی طور پر اپنی استاد کے زیر نگرانی موسیقی کا ریاض کیا ہے، اور کورس میں گاتی رہتی ہوں ، چار سال سے ایک اوپیریتا ( ہلکی پھلکی موسیقی) کمپنی میں گا رہی ہوں۔ ”
"اوپیریتا؟” ظاہر ہے ممتحنوں نے حقارت سے دیکھا ہو گا،” مقابلے کا اگلا دور بالشوئی میں ہو گا، ہم آج رات ماسکو روانہ ہو رہے ہیں ، تم آ سکو گی؟”
” یقیناً۔”
سویت یونین کے ہر گلوکار کا خواب، ملک کا سب سے اہم اور شہرت یافتہ مقام۔۔۔ ماسکو کا بالشوئی تھیٹر۔
یہ سب میرے لیے اتنا غیر متوقع تھا کہ میں گم سم اس کے سامنے کھڑی رہی۔ میں اس ادارے میں اپنا مقام ،اپنی حیثیت بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے پر مجبور تھی۔ اس کے لیے میرے پاس صرف دو چیزیں تھیں ؛
صلاحیت اور عزم!
اور وہ گھڑی آ پہنچی۔ میں دونوں طرف بیٹھے ہوئے گلوکاروں کے درمیان سے ہوتی ہوئی اسٹیج کی جانب بڑھی اور ممتحنوں کی میز سے آگے بڑھ گئی۔ میں نیند میں خوابیدہ سی چلی جا رہی تھی۔ میری جلد تمتما رہی تھی اور آنکھیں جل رہی تھیں۔ میں اسٹیج پر چڑھ گئی۔ رُواں رُواں گانے کے لیے مچل رہا تھا۔ میں نے ایک ہی راگ میں اتنا کیف و سرور بھر دیا جو کسی مکمل منظوم ڈرامہ(اوپیرا) کے لیے کافی ہوتا۔
مجھے اپنی اندرونی فتح(کامرانی) کا احساس ہوا۔ جی چاہتا تھا کہ میں سدا یوں ہی گاتی رہوں ، گاتی ہی رہوں۔ لیکن آخری بول بجے اور گیت ختم ہو گیا۔۔۔ میں خاموش ہو گئی۔۔۔ مجھے احساس ہوا کہ میں سنہری خوابناک دنیا سے کھنچ کر پھر زمین پر اتر آئی ہوں۔ ۔۔ میرے کانوں میں تالیوں کی گڑ گڑاہٹ گونج رہی تھی، میرا انگ انگ کانپ رہا تھا۔ عموماً بالشوئی تھیٹر کے مقابلوں میں فن کاروں کی تعریف و ستائش نہیں کی جاتی۔ یہ ایک حیرت انگیز واقعہ تھا۔
ہم میں سے تقریباً پندرہ فنکاروں کو مقابلے کے آخری دور کے لیے منتخب کیا گیا۔ آخر میں ممتحنوں نے اعلان کیا کہ سنجید ہ آواز والے ایک نوجوان اور میں ، صرف دو گلوکار بالشوئی نوجوان گروپ کے لیے منتخب ہوسکے۔
"تم شعبۂ ملازمت میں جاؤ ، وہاں تمھیں فارم دیا جائے گا، اسے بھر دو، پھر یہ شعبہ تمھارے بارے میں تحقیق کر کے اپنی رپورٹ دے گا۔ ”
بالشوئی تھیٹر کے گلوکاروں نے مجھے گھیر لیا۔ کچھ نے مبارکباد دی اور کچھ نے آگاہ کیا کہ” ابھی تمھیں خوش نہیں ہونا چاہیے "۔ ان لوگوں نے بتایا کہ مقابلہ میں کامیابی تو ادھورا سفر ہے، اہم بات تو یہ فارم بھرنا ہے۔ "تمھاری زندگی میں کوئی گڑبڑ تو نہیں ہوئی۔۔۔ ”
"نہیں ، کوئی نہیں ” اور تبھی وہ سفاک یاد خنجر کی تیز دھار کی طرح میرے احساس کو چیر گئی۔
یہ یاد میرے والد کی تھی۔ انھیں دفعہ58 کے تحت سزا ہو چکی تھی۔ اس دفعہ کے مطابق اسے عوام دشمن کہا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت لاکھوں لوگ جیل اور اذیت رساں کیمپوں میں پڑے سڑ رہے تھے۔ اگر ان لوگوں نے میرے والد کے بارے میں سب معلومات حاصل کر لی تو بالشوئی تھیٹر کے عہدیداران بلا تفتیش ہی مجھے نکال باہر کریں گے۔
آپ اگر بالشوئی تھیٹر کی جانب رخ کر کے سروداوف چوک پر کھڑے ہو جائیں تو بائیں جانب ایک چھوٹی سی عمارت دکھائی دے گی۔ یہ عمارت کسی لحاظ سے قابل ذکر نہیں ہے۔ بالشوئی تھیٹر کا شعبہ ملازمت اسی عمارت میں ہے۔ جو بھی فن کار حکومت کے اس عظیم الشان ،با وقار تھیٹر سے اپنا مستقبل وابستہ کرنا چاہتا ہے، ان کے لیے یہ شعبہ نا گزیر ہے، اسے یاد کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس چھوٹی سی عمارت میں روسی خفیہ محکمہ کے۔ جی۔ بی کے ایجنٹ کام کرتے ہیں۔ محکمہ کا چیرمین اپنے دفتر میں ایک موٹے دروازے کے پیچھے بیٹھتا ہے جس پر گدیاں اور کالا موم جامہ لگا ہے۔ آپ چاہے دنیا کے کتنے ہی بڑے گلوکار کیوں نہ ہوں ، کے۔ جی۔ بی۔ کے یہ ایجنٹ اگر نہ چاہیں تو آپ بالشوئی تھیٹر کے اسٹیج پر نہیں گا سکتے۔
میں نے فارم لے لیا۔۔۔یا خدا!کم از کم بیس صفحات پر مشتمل تھا، میں اسے بھرنے لگی ، سوالات کا ایک طویل سلسلہ تھا، تمھارے دادا، پردادا کون تھے؟ انقلاب سے پہلے وہ کیا کرتے تھے؟ کیا تمھارا کوئی عزیز یا رشتہ دار بیرون روس مقیم ہے؟ کیا تمھارے خاندان کا کوئی فرد جرمنوں کی قید میں رہا؟میں نے لکھ دیا کہ میرے والد جنگ میں لا پتہ ہو گئے تھے۔ میں نے یہ سوچ کر لکھا تھا کہ یہ لوگ اصل بات تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ کامیابی کی لذت سے ناآشنا میں لینن گراد لوٹ آئی۔ مجھے اکثر یہ خوف پریشان کرتا کہ کہیں یہ لوگ حقیقت کا پتہ نہ لگا لیں۔
ایک ماہ بیت گیا، کوئی خبر نہ آئی۔ میرے پاس پیسہ ختم ہو گیا۔ اس لیے بالشوئی تھیٹر کے بعد دوبارہ ایک جگہ سے دوسری جگہ گھوم پھر کر گانے لگی۔ گاؤں اور اجتماعی فارموں میں۔ اس طرح تین مہینے گذر چکے تھے کہ اچانک مجھے ٹیلی گرام ملا۔ "بالشوئی تھیٹر کے نوجوان گروپ کے لیے تمھیں منتخب کر لیا گیا ہے”۔ خواب حقیقت میں بدل گیا تھا۔ اب میں دنیا کے ایک اہم اور با وقار تھیٹر میں گایا کروں گی۔
میری ماں نصف جپسی اور نصف پولش تھی۔ ان کے جپسی خون کی وجہ سے گانے کی فطری صلاحیت اور شوق شاید مجھے وراثت میں ملا تھا۔ وہ اکثر گٹار بجا کر جپسی لوک گیت’ کالی آنکھیں ‘ گایا کرتی۔ میں تین سال کی عمر میں بھی ان کے گیتوں کی ہو بہو نقل کر لیتی تھی۔ میری آواز جنم سے ہی بڑو ں کی طرح سدھی ہوئی تھی۔ والد پرانے کمیونسٹ تھے،1921میں ستائیس سال کی عمر میں کروشتاد کی بالشویک نیوی بغاوت کی سرکوبی میں حصہ لیا تھا۔ شہر کروشتاد، فن لینڈ کے سمندر میں کوتلین جزیرے پر آباد ہے۔
میرے والد ایک مزدور کے بیٹے تھے۔ انھوں نے اپنے ہی لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ ان کی زندگی پر اس واقعہ کا گہرا اثر تھا۔ دل میں اتنا بڑا غم لیے کوئی روسی بھلا کر بھی کیا سکتا تھا؟ وہ شراب میں ڈوب گئے۔ بے تحاشا شراب پیتے، میں پانچ چھ سال کی عمر میں بھی ان سے شدید نفرت کرتی تھی۔ وہ سرخ سرخ آنکھیں لیے میرے سامنے اس انداز سے کھڑے ہو جاتے جیسے کسی جلسہ کے اسٹیج پر کھڑے ہوں۔ "خون چوسنے والو!ادھار کا مال کھانے والو!!میں تم سب کو مار ڈالوں گا۔ ہم لینن کے حامی ہیں ، ہم نے کس لیے جنگ لڑی تھی، انقلاب کے لیے ہی نا۔ ”
میں منھ کھولے کھڑی رہتی۔ میرے لیے انقلاب اور یہ خیالات اس پیکّڑ لینن پرست تک ہی مرکوز ہوتے۔ میں بہت چھوٹی تھی جب والدین نے مجھے چھوڑ دیا۔ دادی نے میری پرورش کی۔ اس کے بعد اکثر سنتی کہ لوگ مجھے یتیم جیسے ہمدردانہ الفاظ سے مخاطب کرتے۔ میری دادی، دایا الیکساندرواایوانوا، کروشتاد میں رہتی تھی۔ لینن گراد سے بذریعہ اسٹیمر دو گھنٹہ میں یہاں پہنچا جا سکتا تھا۔ ہمارا آبائی مکان پانچ بڑے کمروں پر مشتمل تھا۔ بڑا سا باورچی خانہ تھا جس میں 14 خاندان لکڑی جلا کر اپنا کھانا پکاتے، ایک بیت الخلا اور ایک غسل خانہ، جو ہم سب کے استعمال میں رہتا۔
ابتدائی جماعتوں میں بھی، میں اسکول کے گانے کے تقریباً تمام پروگراموں میں حصہ لیتی، اس لیے لوگ مجھے گالکا ا تستا(فن کار گالکا)کہتے، پہلی جماعت میں مجھے گانے کا پہلا انعام بھی ملا تھا۔ میں ہر وقت گانے پر آمادہ رہتی، سڑکوں ، گلیوں ، اسکول، گھر ہر جگہ میری آواز گونجتی رہتی،” وہ دیکھو!فن کار گالکا جا رہی ہے” بچے مجھے چڑاتے۔
یہ وہ دور تھا جب استالین اپنے مخالفین کا صفایا کر رہا تھا، اسکول میں ٹیچر ہمیں اخبار پڑھ کر سناتے۔ ہمیں ہر وقت یاد رکھنا ہوتا کہ استالین نے ٹراسٹکی حمایتی دشمنوں اور غیر ملکی جاسوسوں کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ استالین!استالین!!استالین!!!عظیم استالین نے ان کی قلعی کھول دی ہے، ان کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔ استالین۔۔۔ استالین۔۔۔ استالین۔ ۔۔ ہر سمت بس ایک ہی نام سنائی دیتا۔ آخر کار ہمیں یقین کر لینا پڑا کہ استالین کے بغیر ہماری زندگی بے معنی ہے۔ ہر شخص کو سب سے زیادہ استالین سے محبت جتانی ہوتی۔
استونیا جب” اپنی خواہش سے” سوویت یونین میں شامل ہو گیا، تو1941 میں میرے والد نے وہاں کام کیا۔ انھوں نے گرمیاں اپنے ساتھ گذارنے کے لیے مجھے بلایا، میں تاتو شہر میں ان سے ملی۔ جب جرمن فوج شہر میں داخل ہوئی تو میں گھر پر اکیلی تھی۔ والد شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ میں بھاگ کر فضائی فوج کے مرکزی دفتر پہنچ گئی۔ پیچھے پیچھے خصوصی دستہ آ رہا تھا جو اپنے پیچھے پُلوں کو تباہ و برباد کرتا چل رہا تھا۔ اس طرح مجھے جنگ میں پھنسنا پڑا اور انھیں حالات میں میرا بچپن بیت گیا، تب میری عمر 14 سال تھی۔
یکم ستمبر 1941کو کروشنداد اسکول حسب معمول کھلا، پڑھائی لکھائی میں کسی کا دل نہیں لگتا تھا۔ جرمن فوج لینن گراد کے قریب پہنچ چکی تھی۔ روز حملہ ہوتا اور بم برستے۔ ودیے وسکی مشہور غذائی مرکز کا تمام ذخیرہ جل کر برباد ہو چکا تھا۔ مکھن اور شکر پگھل کر سڑکوں پر بہہ نکلی۔ شہر کی ساری رسد بند کر دی گئی تھی۔
لینن گراد کا محاصرہ ہو چکا تھا۔ یہاں کے لوگوں کو نو سو دنوں تک شدید مصیبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ کروشنداد کے باشندے بھی بھوکے تھے۔ راشن کارڈ پر ملنے والی خوراک کی مقدار بھی گھٹ گئی تھی۔ آخر آخر میں صرف روٹی ملتی تھی اور وہ بھی برائے نام۔ ہر روز سو گرام راشن ملتا۔ جو آٹے کے خراب حصہ سے بنایا ہوا گیلا، چپچپا اور کالا ملیدہ ہوتا۔ کھانے کے نام پر بس یہی نصیب ہوتا۔
ایک رات میں سو رہی تھی۔ دادی چولھے کے پاس بیٹھی آگ تاپ رہی تھیں کہ انھیں نیند کا جھونکا آیا، ان کے کپڑے کا سرا اڑ کر چولھے کے کھلے دروازے میں چلا گیا اور کپڑوں میں آگ لگ گئی۔ میں دادی کو بچانے دوڑی، آگ بجھانے کے لیے کمبل پھینکا ، لیکن سارا بدن گھٹنوں سے گردن تک بری طرح جل گیا ، آخرکار اسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا، یہ فروری1942کا واقعہ ہے۔
میں خالی ڈھڈھار مکان میں اکیلی کمبلوں میں لپٹی کھانے پینے کے خواب نہیں دیکھتی، بلکہ میری آنکھوں کے سامنے قلعے، دلیر جنگ باز اور راجا آتے، میں عمدہ لباس اور اسکرٹ کے نیچے کرنولائن کا پیٹی کوٹ(اسکرٹ کو پھلانے کے لیے،نہ مسکنے والا کپڑا)پہنے باغ میں گھوم رہی ہوں۔ وہاں مجھے ایک خوبصورت شہزادہ دکھائی دیتا جو مجھ سے پیار کرنے لگتا اور پھر شادی کر لیتا ہے۔ میں خوشی سے گانے لگتی ہوں۔ ۔۔
لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔ ایک رات میں سڑک کی جانب ، عجیب سا شور سن کر جاگ گئی، کھڑکی سے باہر جھانکا، نیچے سڑک پر لاشوں سے بھرا کھلا ٹرک کھڑا تھا۔ موسم بہار کے ساتھ ہی وبا پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔ لوگوں کے گھروں سے لاشیں اکٹھی کرنے کے لیے عورتوں کا خصوصی دستہ بنایا گیا تھا۔ یہ عورتیں دن رات کام کرتیں ، ٹھنڈک سے پتھرائی لاشیں کھینچ کر سڑک پر لاتیں ، ان کے ہاتھ پیر پکڑ کر اٹھاتیں اور ایک دو تین کہہ کر ٹرک میں پھینک دیتیں۔ لاش گرنے سے ایسی آواز آتی جیسے برف کا گٹھا پٹک دیا گیا ہو، ہلکے نیلے رنگ کی لباس والی تقریباً چار سو عورتوں کا ایک اور دستہ تھا جسے لوگ نیلا ڈویژن کے نام سے پکارتے۔ میں بھی اس ڈویژن میں شامل ہو گئی اور ان عورتوں کے ساتھ کام کرنے لگی۔ ہم جلانے کے لیے لکڑی کے مکانات توڑتے، توڑنے کے لیے ہمارے پاس اپنے ہاتھ، کدال اور بیلچوں کے علاوہ کوئی اوزار نہ ہوتا۔ جگہ جگہ گندے پانی کے پائپ پھٹ گئے تھے۔ برف پگھلتے ہی نیلا ڈویژن کی مدد سے ان نالوں کی مرمت کر دی گئی۔ گھٹنوں گھٹنوں تک گندگی میں کھڑے رہنا پڑتا لیکن مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی کیوں کہ اس کام سے کم از کم پیٹ بھرنے کو خوراک تو مل جاتی تھی۔
جنوری1943کی ایک شام، میں اپنے کمرے میں تھی، ریڈیو بج رہا تھا، میرا دھیان کہیں اور تھا، اچانک اناونسر کی آواز آئی، "ہماری بہادر فوج نے لینن گراد کا محاصرہ توڑ دیا ہے۔”
اس سال گرمیوں میں ، میں نے نیلے ڈویژن سے سبکدوش ہونے کی درخواست دی۔ میں لینن گراد میں تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی۔ ڈویژن کا کمانڈنگ افسر بھلا ا دمی تھا، اس نے درخواست پر منظوری دے دی۔ جب میں لینن گراد پہنچی تو وہاں ایک بار پھر چہل پہل شروع ہو چکی تھی۔ میرے پاس مزدوروں کا راشن کارڈ تھا، جس کی وجہ سے دن بھر میں تقریباً آدھ کلو روٹی مل جاتی۔ کچھ عرصہ انتظار کے بعد لینن گراد کا ‘ریمسکی کورس کوف میوزک اسکول’ دوبارہ کھل گیا۔ مجھے گانا سیکھنے کے لیے داخلہ مل گیا۔ مجھ میں بچپن سے ہی گانے کی فطری صلاحیت تھی۔ میں جانتی تھی کہ پھیپھڑوں سے کس طرح آواز نکالی جائے اور کس طرح سانس لی جائے۔ خدا نے مجھے جس عطیہ سے نوازا تھا، اسے میرے استاد نے بے حد مشکل ریاض سے ضائع کر دیا۔ میری آواز کی رگیں بھنچ گئیں۔ آواز کی بلندی ختم ہو گئی، چھ مہینے بعد میں نے اپنے استاد سے رخصت لے لی۔
اب میں ایک دوست کے گھر سے دوسرے دوست کے گھر بھٹکتی پھرتی۔ مجھے بے پناہ تنہائی کا احساس ہوتا، اور یوں لگتا کہ دنیا میں ، میں بالکل اکیلی، بے سہارا ہوں ، میرا کوئی گھر نہیں۔ آخر کار اس اکیلے پن سے تنگ آ کر میں نے شادی کر لی۔1944 کی موسم گرما میں ، میں نوجوان ملاح جیوجی وشنے وسکی کی بیوی بن گئی۔ ایک ہی ہفتہ میں مجھے اندازہ ہو گیا کہ میں نے شادی کر کے سخت غلطی کی ہے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ میں گاؤ ں ، پڑھوں یا کسی پروگرام میں اپنا فن پیش کروں۔ جب ستمبر میں لینن گراد کے اوپیریتا تھیٹر میں کام کرنے لگی تو ہمارے درمیان شدید جھگڑا ہوا اور ہمارا ازدواجی رشتہ ختم ہو گیا۔ میرے نام کے ساتھ جڑا ہوا وشنے وسکی ہی اب مجھے اس شادی کی یاد دلاتا رہتا ہے۔ اوپیریتا تھیٹر میں ، میں اکیلی گانے والی کمپنی کی کشش اور لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ موسیقی کے زیادہ تر پروگراموں کا آغاز میرے ہی گانے سے ہوتا، لیکن رومانی گیتوں میں گلوکاروں کی رہنمائی کے لیے میرے گلے سے اب بلند آواز نہیں نکل پاتی تھی۔ یہ تھیٹر کمپنی ہی دراصل میرا اکلوتا اسکول تھا۔ بیماری کے باوجود مجھے گانا پڑتا، ٹانسل سوج جاتے، گلا پک جاتا یا بخار آ جاتا، کھانسی زکام کے باوجود مجھے گانا اور اداکاری کرنی پڑتی۔ اس کمپنی میں تقریباً چار سال کام کرنے کے دوران میں نے سیکڑوں پروگراموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس کی وجہ سے میں اسٹیج پر ہونے والی گھبراہٹ پر قابو پا لیا اور رقص و اداکاری بھی سیکھ لی۔
میں نے اپنے گروپ کے ایک ہدایت کار مائیک ایلچ روبن سے شادی کر لی۔ اس وقت اس کی عمر چالیس اور میری صرف اٹھارہ سال تھی۔ شادی کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ میں نے زندگی میں وہ سب کچھ حاصل کر لیا ہے جس کی مجھے خواہش تھی۔ گھر ، خاندان اور دیکھ بھال کرنے والا شوہر، جو مجھ سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ جلد ہی میں حاملہ ہو گئی۔ میں نے ایک بچے کو جنم دیا لیکن اسے چھوت کی کوئی بیماری لگ گئی۔ ان دنوں اینٹی بایوٹک دوائیں نہیں ملتی تھیں۔ ہم اپنی اولاد کو نہیں بچا سکے۔ ڈھائی ماہ کی عمر میں اس کا انتقال ہو گیا۔ مائیک اور میں نے لکڑی کے تختے کاٹ کر چھوٹا سا تابوت بنایا، اندر سفید کپڑا لگا کر ہم نے اپنے بیٹے کو اس میں لٹا دیا، کرائے پر کار لے کر قبرستان گئے۔ اس سال موسم بہار دیر سے آیا، ابھی برف گر رہی تھی، زمین کی برف بھی نہیں پگھلی تھی، قبر کھودنا بہت مشکل تھا، میرا دل درد سے تڑپ رہا تھا۔
ویرانکولائی نو سے ملاقات کے بعد میری زندگی کے دن رات بدل گئے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کے بغیر میں اپنی زندگی میں کبھی بھی اوپیرا کی اچھی گلو کارہ نہیں بن سکتی تھی۔
ایک دن میرے ایک دوست نے کہا ” میں تمھیں ایک بے حد بزرگ ماہر موسیقی کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں ، وہ موسیقی کی معلمہ ہیں اور پاس ہی رہتی ہیں ، کیوں نہ ان سے ملا جائے ؟”
"میں بہت سے موسیقی کے استادوں کو آزما چکی تھی ، سب کے سب ظاہری اور مکار ہیں۔ ”
پھر بھی اپنے دوست کے ساتھ وہاں چلی گئی۔ سفید بالوں والی ایک معمر خاتون نے دروازہ کھولا اور ہمیں لے جا کر ایک تنگ سے کمرے میں بٹھا دیا۔
"تمھاری آواز کیسی ہے ؟” انھوں نے سوال کیا۔
اب یہ بتانے سے کیا فائدہ کہ میری بلند آواز کیسے خراب ہوئی۔” میروسپرانو(درمیانی بلند)” میں نے کہا۔
"بہت اچھا، اب کوئی سرگم سناؤ۔”
میں نے آٹھ سپتک(آکٹیو) کے نچلے سُر سے گانا شروع کیا۔” ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، اچھا، بہت اچھا!!اب اس سے اونچا، اور اونچا”
"میں اور اونچا نہیں گا سکتی”
"ٹھیک ہے ، یہی۔۔۔ میری پیاری!تمھاری آواز مینرو(درمیانی) نہیں ہے، دراصل تم سپرانو (بلند) ہو۔ ”
میں حیرت زدہ رہ گئی۔” سچ، مجھے یاد ہے کہ میں کبھی بہت اونچی آواز میں گایا کرتی تھی لیکن اب اتنی آواز گلے سے نہیں نکلتی۔ میں نے جن اساتذہ سے موسیقی سیکھی ہے، انھوں نے مجھ سے کہا کہ میری آواز درمیانی ہے، یہ آپ نے کیسے جانا؟”
"میں آٹھ سپتک کی بلند استھائی کی لَے سے سمجھ گئی۔ ٹھیک ہے، میں تمھیں گانا سکھاؤ ں گی، ہم روز ایک ساتھ ریاض کریں گے، بس میری یہی ایک شرط ہے۔”
ویرانکولائی نو سے جب میری ملاقات ہوئی تب ان کی عمر اسی سال تھی۔ زندگی کا بیشتر حصہ غیر ممالک میں اپنا فن پیش کرنے میں گذرا تھا۔ سینٹ پیٹرس برگ کے ایک موسیقی کے آلات اور ساز بنانے والے سے شادی کے بعد انھوں نے آہستہ آہستہ گانا چھوڑ دیا۔ ان کا بورژ وا شوہر دوران انقلاب مارا گیا۔ اجتماعی رہائشی عمارت کی چھٹی منزل پر ان کا چھوٹا سا کمرہ تھا۔ جنگ کی وجہ سے لفٹ بند ہو گئی تھی۔ وہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی تھیں۔ اس لیے انھوں نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا۔ ان کا کوئی شاگرد روز کھانے اور چولہے کی لکڑی خرید کر دے جاتا۔ کمرے کی دیوار پر پرانے اشتہارات لگے تھے، جو پیلے پڑ گئے تھے۔ یہ ویرانکولائی نو کے موسیقی کے پروگرام کے اشتہارات تھے۔ اس کے علاوہ کئی قسم کے اور پرانے ہار اور گلدستے دیوار پر لٹک رہے تھے۔
میں روز صبح سویرے سبق لینے ان کے گھر پہنچ جاتی۔ تقریباً دو ہفتے تک انھوں نے ابتدائی تعلیم دی۔ ایک دن یکایک پڑھانا چھوڑ کر وہ مجھے ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگیں۔
” ویرانکولائی نو!آپ مجھے اس طرح کیوں گھور رہی ہیں ؟”
” تمھارے ماتھے پر ستارہ ہے”، انھوں نے کہا۔ یہ سن کر میں حیران رہ گئی۔
خصوصی ریاض کے ذریعہ میں نے اپنی زبان، نچلے جبڑے اور آواز کی رگوں کو ڈھیلا چھوڑ کر آرام دینا سیکھ لیا۔ چھ ماہ کے اندر میرے گلے کی اونچی تان(ڈھائی آکٹو) تک پہنچ گئی۔ میں بے تحاشا ریاض میں لگی رہتی۔ ویرا نکولائی نو کے بارے میں سوچتے سوچتے سو جایا کرتی۔
اس دوران یکایک مجھے بے حد تھکان کا احساس ہوتا۔ ایکسرے سے پتہ چلا کہ پھیپھڑے کے آدھے حصہ میں زخم ہو گیا ہے اور ہنسلی(کیلویکل) کے نیچے سوراخ ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ تپ دق کی بیماری ہے جو کافی پھیل چکی ہے۔ اس کا واحد علاج ہے نیوموتھوریکس، پھیپھڑا بند کر دیا جائے۔ ساری زندگی گا نہیں سکوں گی۔ میں نے اس علاج سے انکار کر دیا۔ مائیک نے بڑی مشکل سے لینن گراد کے قریب، تپ دق کے ایک اسپتال میں دو مہینے علاج کے لیے داخل کرنے کا انتظام کیا۔ روس میں اس وقت ‘سٹیپ ٹو مائی سن’ دوا نہیں آئی تھی۔ اونچے داموں چور بازار میں مل جاتی تھی۔ معالجوں نے مشورہ دیا کہ مجھے اس دوا کے انجکشن لگا کر دیکھنا چاہیے، انھیں یقین نہیں تھا کہ یہ دوا کارگر ہو گی یا نہیں۔ میں نے اور مائیک نے فیصلہ کیا کہ یہ دوا ضرور آزمانی چاہیے، ہم نے گھر کا اثاثہ بیچ کر’ سٹیپ ٹو مائی سن’ خریدی۔ میری حالت سدھرنے لگی ، پھر بھی ڈاکٹروں نے صاف لفظوں میں بتا دیا تھا کہ میں گانا بالکل نہ گاؤ ں۔ ڈاکٹروں کے اس مشورہ کا مجھ پر کوئی اثر نہ ہوا۔ میں چپ چاپ جنگل میں نکل جاتی اور گاتی۔ وہاں گھاس پھوس اکٹھا کر کے آگ جلاتی اور اس کے پاس کھڑی ہو کر خوشنچاسے مارخا کی تخلیق گاتی” خفیہ طاقتو!عظیم طاقتو!!عالم بالا میں جانے والی مرحوم روحو! میں تمھیں دعوت دیتی ہوں "۔ گذرتے دنوں کے ساتھ مجھے اندازہ ہوتا کہ میری توانائی لوٹ رہی ہے۔ میں اس حقیقت کا اعلان چیخ چیخ کر دنیا کے سامنے کرنا چاہتی تھی۔ میری بیماری ختم ہو گئی۔ ہنسلی کے نیچے کا سوراخ بھر گیا۔ ڈاکٹروں کی نظر میں یہ معجزہ تھا۔ ویرانکولائی نوسے دو سال تک موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں بالشوئی نوجوان گروپ میں کام کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھی۔ اس گروپ میں مجھے دو اہم کردار ادا کرنے تھے؛ایک چائی کوسکی کی منظوم تخلیق” یوگینی” کی ہیروئن تاتیانا کا، دوسرے بیتھون کی لیونور کا۔
بالشوئی کے آفیسر فیدے لیو کی پیش کش بہت وقیع اور اہم سمجھی جاتی تھی۔ روس کے تمام شائقین موسیقی کے لیے یہ بہت اہم موقع تھا۔ بیتھون کا یہ میوزیکل ڈرامہ سویت روس میں اب تک نہیں ہوا تھا۔ مجھے ابتدا ہی میں ایسا سنہری موقع نصیب ہوا جس کا تصور کوئی نو مشق نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے بعد میری زندگی بالشوئی تھیٹر کی چہار دیواری میں قید ہو گئی۔۔۔ صرف سونے کے لیے گھر جاتی۔
استالین براہ راست بالشوئی تھیٹر کے کام پر نظر رکھتا۔ ہر فن کار چاہتا کہ وہ استالین کے سامنے اپنا فن پیش کرے۔ وہ فن کاروں کے لیے ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرنے پر آمادہ رہتا۔ اس نے فن کاروں کی اونچی تنخواہیں مقرر کی تھیں۔ وہ پورے خلوص سے ان کی تکریم و تعظیم کرتا اور انھیں استالین ایوارڈ سے نوازتا۔
اب بھی مجھے ان راتوں کا خوف اور دہشت بھرا ماحول یاد ہے، جب استالین اوپیرا دیکھنے آتا۔ پہرے دار رات بھر تھیٹر کے چپے چپے کی تلاشی لیتے۔ جو گلوکار پروگرام میں حصہ نہ لیتے انھیں نکال باہر کیا جاتا۔ حصہ لینے والے فن کاروں کو خصوصی پاس جاری کیے جاتے۔ اس کے علاوہ انھیں اپنا پاسپورٹ بھی ساتھ رکھنا ہوتا۔
تو کیا استالین سچ مچ موسیقی سے پیار کرتا تھا؟ نہیں ، اسے دراصل بالشوئی تھیٹر بے حد پسند تھا، اس کی شان و شوکت اور چمک دمک اسے اچھی لگتی۔ یہاں وہ اپنے آپ کو بادشاہ تصور کرتا۔ وہ تھیٹر اور فن کاروں کے سرپرست کے طور پر احساس برتری محسوس کرتا۔ یہ فن کار اس کے غلام تھے۔ ان سے ہمدردی اور نرم برتاؤ کرنے میں اسے مسرت ملتی ہو گی۔ زار کی طرح وہ با صلاحیت فن کاروں کو انعام و اکرام سے بھی نوازتا۔ فرق صرف یہ تھا کہ وہ تھیٹر کے درمیان بنی ہوئی زار کی کرسی پر نہیں بیٹھتا تھا۔ اس کی جگہ ایک پردے کے پیچھے تھی، گلوکار اس باکس کو ” غسل خانہ کا لاکر روم” کہتے، وہاں ابلے انڈوں کا پیالہ رکھا رہتا، درمیانی وقفہ میں استالین اسے کھاتا۔
استالین کی موت کے ساتھ ہی ہماری اونچی تنخواہیں جادو کی طرح غائب ہو گئیں۔ اب یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ فن کاروں نے احتجاجاً ہڑتال نہیں کی۔ کسی کمیونسٹ ملک میں کوئی ہڑتال ہو ہی نہیں سکتی۔ وہاں کسی کمی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
بالشوئی میں بہ حیثیت نوجوان گلو کارہ داخل ہوتے ہی ثقافتی و تہذیبی شعبہ کے افسران نے مجھ پر قبضہ جما لیا اور مجھے سرکاری استقبالیہ پروگراموں میں گھمانے لگے۔۔۔ تقریبات اکثرسفارت خانوں یا میٹرو پول ریستوراں میں منعقد ہوتیں ، اہم تقریبات کریملن کے سینٹ جارجس ہال میں رکھی جاتیں۔
اسٹیجن مچھلیاں ، سور کا لذیذ گوشت اور مچھلی کے انڈوں کے اچار سے بھری میزوں کے پاس کھڑی میں وہاں موجود لوگوں کو سینٹک شراب کے گلاسوں میں روسی عوام کی خوشحال زندگی کی تمنا کرنے والے اپنے راہ نماؤ ں کے سوجے، تھل تھلاتے چہرے بغور دیکھا کرتی۔ اس وقت مجھے اپنا ماضی بہت یاد آتا، جب میں اس وسیع اور عظیم ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ماری ماری پھرتی تھی۔ لوگوں کی بدحالی اور قابل رحم بھکاریوں جیسی زندگی اور رہن سہن دیکھ کر خود سے سوال کرتی کہ شراب اور عمدہ خوراک سے مدہوش، اقتدار کے نشے میں چور، اپنے آپ کو بے حد اہم اور معزز سمجھنے والے یہ افسران کیا یہ جانتے ہیں کہ لوگ اپنی زندگی کیسے بتا رہے ہیں ؟
یقیناً یہ افسران عام لوگوں کی بے کسی اور بے بسی سے واقف تھے۔ لیکن صرف لوگوں کی بدحالی کو جان لینا ہی کافی نہیں ہوتا۔ عمدہ لذیذ کیک اور مچھلی کے انڈوں کا اچار ٹھونس کر یہ سب اپنے اپنے دفتر چلے جاتے اور جاگیرداروں کی طرح ظلم ڈھاتے۔
ایک دن شعبۂ ملازمت میں فون کر کے مجھے طلب کیا گیا، اگلے روز وہاں پہنچ کر میں نے دیکھا کہ صدر شعبہ کے علاوہ دو اور آدمی بیٹھے ہیں۔ ان میں سے ایک اپنا نام بتا کر بولا "میں کے۔ جی۔ بی میں میجر ہوں "۔ اس نے شناختی کارڈ بھی دکھایا۔ میرا دل خوف سے دھڑکنے لگا۔ تو کیا موت کی گھڑی آ پہنچی؟ کیا ان لوگوں نے میرے باپ کے بارے میں سب کچھ معلوم کر لیا؟ میں نے اپنے آپ کو قابو میں رکھا۔
” گلینا پاؤ لونا تم ایک اچھی گلو کارہ ہو، ہمیں تم سے بہت امیدیں ہیں ، تمھارے بارے میں ہم اور جاننا چاہتے ہیں ، بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا تم کل میٹرو پول ہوٹل آ سکوگی؟ ہوٹل کی تیسری منزل پر، داہنی طرف، وہاں ہم گفتگو کریں گے۔ ”
میں سمجھ گئی کہ یہ مجھے کے۔ جی۔ بی کا مخبر بنانا چاہتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح اب بھی بالشوئی تھیٹر کے تمام گلوکاروں کے سامنے یہ تجویز رکھی جاتی اور ان میں بیشتر کو مخبر بنا لیا جاتا۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ہر فن کار دوسرے ساتھی فن کار کی حرکات و سکنات پر نظر رکھے اور کے۔ جی۔ بی کا ہر اشارہ ماننے کے لیے تیار رہے۔ دوسرے روز میں میٹرو پول ہوٹل گئی، جو بالشوئی تھیٹر کے بالکل سامنے سڑک کی دوسری طرف تھا۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کے۔ جی۔ بی کا ایجنٹ بولا” گلینا پاؤ لونا!ہمیں تمھاری مدد کی ضرورت ہے۔ یہ ملک دشمنوں سے گھرا ہے۔ ہر روسی کا فرض ہے کہ وہ ان دشمنوں کو ڈھونڈھ نکالے، اور ملک کی حفاظت کرنے والے اداروں سے تعاون کرے۔”
میں نے آنکھیں پھیلا کر پوچھا” بھلا میں دشمنوں کا پتہ لگانے میں کس طرح آپ کی مدد کرسکوں گی، میرا کام تو ویسے ہی خاصا مشکل ہے، آپ جانتے ہیں میں گلو کارہ ہوں ، میرا مزاج بھی سنجیدہ نہیں جو بھی اوٹ پٹانگ ذہن میں آیا کہہ گئی”۔ لیکن ان پران باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ وہ اپنی بات پر اڑا رہا۔” دیکھو گلینا پاؤ لو نا!ہم تم سے کسی سنجیدہ بات کی درخواست نہیں کر رہے ہیں۔ ہم تو بس اتنا چاہتے ہیں کہ تم چند لوگوں پر نظر رکھو۔ کیا یہ واقعی مشکل کام ہے؟ تم تو بلا وجہ گھبرا گئیں۔ ہم تمھارا زیادہ وقت نہیں لیں گے۔ جب تمھاری ضرورت ہو گی مل لیں گے، الوداع”۔
ہفتے بھر تک کوئی بلاوا نہ آیا۔ میں بہت خوش تھی اور سمجھی کہ وہ مجھے بھول گئے ہیں۔ لیکن نہیں ، یہ لوگ بھولتے نہیں۔ کے۔ جی۔ بی کے اسی میجر کا فون آیا، اس کی آواز سن کر میں کانپ گئی۔ میٹرو پول ہوٹل جانا پڑا۔ وہ ایک دم مطلب کی بات پر آگیا”پیانو نواز پے تونِن سے تمھارے دوستانہ مراسم ہیں ، ہمیں پتہ چلا ہے کہ وہ سویت نظام کے خلاف باتیں کرتا رہتا ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟”
ان لوگوں کو درست خبر ملی تھی۔ پے تونِن حکومت وقت کے خلاف باتیں کیا کرتا تھا، ہم اکثر اسی موضوع پر گفتگو کرتے۔ لیکن میں نے چہرے سے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا” سچ!لیکن میں نے اس کے منہ سے ایسی کوئی بات نہیں سنی”۔
"کیا وہ تمھیں لطیفے سناتا ہے؟”
"ہاں ، لیکن میں انھیں آپ کے سامنے دہرا نہیں سکتی، بڑے فحش اور بے ہودہ ہوتے ہیں۔ ”
"نہیں ویسے نہیں ، سیاسی لطیفے، ہمیں باخبر ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ۔۔۔”
ظاہر ہے کہ تھیٹر کے ہی کسی آدمی نے میرے اور پے تونِن کے بارے میں خبر دی ہو گی۔
"لیکن آپ کو کسی نے فضول ہی یہ بات بتائی۔ پے تونِن تو نرا بدھو ہے۔ اس میں سیاسی لطیفے گڑھنے کی صلاحیت کہاں ؟”
"ٹھیک ہے یہ بات تحریری طور پر لکھ دو۔”
اس کے بعد اس نے مجھے یہ کام سونپا، "پے تونِن شطرنج کے کھلاڑی سمس لاوف کا دوست ہے جو حال ہی میں غیر ملکی دورے سے واپس آیا ہے۔ یہ پتہ لگاؤ کہ سمس لاوف نے پے تونِن سے کیا کیا کہا ہے؟”
دو ہفتہ بعد مجھے پھر بلایا گیا۔ میں ٹال نہیں سکتی تھی لہٰذا جانا پڑا۔ میٹرو پول ہوٹل کی تیسری منزل، دائیں طرف؛
"تو سمس لاو ف پے تونِن سے ملا؟ اس نے دوسرے ملک کے بارے میں اسے کیا کیا بتایا؟”
"کچھ نہیں بتایا، آپ جانتے ہیں ان دنوں کام میں الجھی رہی۔ دو دن بعد میرے پروگرام کا افتتاح ہونے جا رہا ہے۔ مصروفیت کی وجہ سے یاد ہی نہیں رہتا کہ کون کیا کیا کہتا ہے۔”
"کیا سمس لاوف غیر ممالک سے کچھ تحفے بھی لایا ہے؟”
"ہاں۔ اس نے پے تونِن کو ایک خوبصورت ٹائی دی ہے بس۔”
"یہ بات لکھ دو۔”
میں نے لکھا” سمس لاوف غیر ممالک سے پے نونِن کے لیے ایک خوبصورت ٹائی لایا”۔
کتنی احمقانہ بات ہے۔ میں نے سوچا مجھے یہ چھوٹے چھوٹے کام سونپ کر میجر چاہتا ہے کہ میں یہ تسلیم کر لوں کہ میں کے۔ جی۔ بی کے لیے کام کر رہی ہوں اور اب میں اس جال سے کبھی نہ نکل سکوں گی۔ یہ لوگ یقینی طور پر دیکھ رہے ہوں گے کہ میں ان حالات سے اپنے آپ کو نکالنے کی جان توڑ کوشش کر رہی ہوں لیکن ان لوگوں نے آہستہ آہستہ مجھے اس پھندے میں پھانسنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور یہ اس کی ابتدا تھی۔ اس کے باوجود انسانوں کے شکاری ان ایجنٹوں کے جال میں نہیں پھنسی اور اس کے بعد میٹروپول ہوٹل کی تیسری منزل پر دائیں طرف کبھی نہیں گئی۔ مجھے یہ کامیابی صرف اس وجہ سے ملی کہ بہت جلد میرا تعارف صدر نکولائی اے بلگانن سے ہوا۔میں نے ان سے شکایت کی اور انھوں نے مجھے مکڑی کے اس جال سے نکال لیا۔ اب یہ اور بات ہے کہ بعد میں وہ اس مدد کی قیمت طلب کرنے لگے۔
اپریل1955 میں ، میں نے غیر ملکی نمائندوں کی ایک تقریب میں حصہ لیا۔ ہم چند لوگ میز کے گرد بیٹھے تھے کہ ایک نوجوان نے آ کر ہم سب کو سلام کیا۔۔۔ کسی نے کہا:
"میں ان کا تعارف کراتا ہوں ، آپ،وائلن نواز ستی سلاوراستروپووچ ہیں اور آپ ہیں بالشوئی کی نئی اداکارہ گلیناؤشنو وسکایا۔ ”
وہ نوجوان ہمارے ساتھ بیٹھ گیا۔ میں باتوں میں لگی تھی اس لیے کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ میں نے پہلے کبھی اس کا نام نہیں سنا تھا۔ اتنا مشکل نام تھا کہ ایک کان سے سنتے ہی دوسرے کان سے نکل جاتا۔ یکایک اس نے ایک سیب میز پر میری جانب لڑھکا دیا۔ وہ لابیلے ہیلن کے ہیرو کی طرح تاؤ بھاؤ دکھا رہا تھا، میں جانے لگی تو وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
"کیا میں آپ کو گھر تک چھوڑ سکتا ہوں ؟”
"آپ چاہتے ہیں تو چلیں۔ ”
میں گھر پہنچی تو اس نے کہا "مجھے ایک دوست کی سالگرہ میں جانا تھا، لیکن آپ سے ملنے کے بعد کہیں جانا نہیں چاہتا۔”
"خوشامد، ایسی باتیں میں روز سنتی ہوں۔ ”
"کیا میں یہ مٹھائی آپ کو پیش کرسکتا ہوں ؟” اس نے کہیں سے چاکلیٹ کا بڑا سا ڈبہ نکالا۔ میں نے اسے قبول کر لیا اور رخصت لی اور اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
مائیک نے پوچھا کہ یہ مٹھائی کہاں سے لائی ہو، میں نے جواب دیا کہ موسیقی کے کسی پرستار نے تحفہ دیا ہے۔ میں نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ چاکلیٹ مائیک نے ہی کھائے۔ تب میری شادی کو دس سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ میرے اور مائیک کے تعلقات بہت خوشگوار نہیں رہے تھے۔ دونوں کو اندازہ ہو چکا تھا کہ طلاق یقینی ہے۔ پھر بھی ہم پرانے دوستوں کی طرح ساتھ رہتے تھے۔ میں کسی ایسے شخص کا انتظار کر رہی تھی جو عمر بھر مجھ سے بے انتہا پیار کرے، ایسا پیار جیسا مجھے اسٹیج سے تھا۔
کچھ دنوں بعد مجھے ثقافتی و تہذیبی محکمہ میں طلب کیا گیا اور غیر ملکی دورے کے لیے ایک سوال نامہ بھرنے کو کہا گیا۔ چیکوسلواکیہ جانا تھا، میں بہت خوش تھی، یہ میرا پہلا بیرونی سفر تھا۔
میں ناشتہ کرنے کے لیے پراگ کے الکرون ہوٹل میں گئی۔ کسی خالی میز کی تلاش میں اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی کہ وہی وائلن نواز دکھائی دیا جس کا نام زبان پر چڑھ ہی نہیں رہا تھا۔ وہ اسی طرف آ ر ہا تھا۔
"ہیلو! آپ سے مل کر کتنا اچھا لگ رہا ہے، ہماری میز پر ایک کرسی خالی ہے، براہ کرم ہمارے ساتھ بیٹھیں۔ ”
اسے معلوم تھا کہ میں یہاں آؤ ں گی۔ اس نے بطور خاص میرے لیے وہ جگہ خالی رکھی تھی۔ میز پر گفتگو کرتے ہوئے اس کے جذبات اور خیالات نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ اس دن میں نے اسے بہ غور دیکھا۔ وہ جوان تھا، اس کے سر کے بال اڑنے لگے تھے اور وہ چشمہ لگاتا تھا لیکن اس کی شخصیت با وقار اور متاثر کن تھی۔ وہ بہت من موجی، خوش مزاج اور پھرتیلا تھا، میں اس کی جانب مڑی؛
"ست، مست، معاف کیجیے آپ کا نام بڑا مشکل ہے۔”
"آپ مجھے صرف سلاوُ پکاریے، کیا میں آپ کو گالیا کہہ سکتا ہوں ؟”
"ٹھیک ہے” ، میں اس بے تکلفی سے اپنا نام سننے کی عادی نہیں تھی۔ یہ سلاوُ تو مجھے لڑکی سمجھ رہا ہے۔ اس نے مجھے اسی روپ میں دیکھا تھا، کبھی اسٹیج پر نہیں دیکھا تھا۔ اس کی نظر میں ، میں کوئی بگڑی ہوئی شوخ چنچل مزاج، اہم اوپیرا گلو کارہ کی بجائے ایک لڑکی تھی۔ وہ صاف لفظو ں میں مجھ سے اظہار محبت کرنے لگا۔ اسے میری گذشتہ زندگی سے کوئی سروکار تھا، نہ میرے آسمان کو چھوتے روشن مستقبل سے۔ یہ میری زندگی کا بڑا اہم اور عجیب تجربہ تھا۔ ناشتہ کے بعد ہم سڑک پر گھومنے نکل گئے۔ ایک عورت کے ہاتھ میں لیلی کے پھولوں کی ٹوکری دیکھ کر اس نے سارے پھول خرید لیے اور میری نذر کر دیے۔
اپنے خیالات کا تجزیہ اور اظہار کرنے کا وقت نہیں تھا لیکن میں اس کا انتظار کرنے لگی تھی۔
ایک دن وہ میرے ہوٹل کے کمرے میں آیا اور پیانو بجانے لگا؛
"افسوس، آج رات گانے کے ایک پروگرام میں حصہ لینا ہے، اس لیے یوگنین اوپیرا میں تمھارا گانا نہیں سن سکوں گا، تم تاتیانا کا کردار یقیناً بڑی عمدگی سے نبھاتی ہو گی ؟”
یکایک وہ اٹھا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، میں حیران رہ گئی۔
"معاف کرنا، ماسکو میں جب ہم پہلی بار ملے تھے، تو میں نے دیکھا تھا کہ تمھارے پاؤ ں بہت خوبصورت ہیں ، میں تمھارے پیروں کو چومنا چاہتا تھا۔ تمھیں جلد ہی تھیٹر جانا ہے، اس لیے جاتا ہوں ، کل پھر ملیں گے۔”
دوسرے روز سہ پہر ہم گھومنے گئے۔ اس سے پہلے میں نے خود کو کسی کے ساتھ اتنا مطمئن اور مسرور نہیں محسوس کیا تھا۔ ہم اس طرح باتیں کر رہے تھے جیسے لمبے عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ وہ امنگوں اور امیدوں سے کتنا بھرپور تھا۔ ہم دونوں اگرچہ تقریباً ہم عمر تھے لیکن وہ مجھے کوئی بے فکرا لڑکا ہی لگ رہا تھا۔ ڈنر کا وقت قریب تھا، ہم لوٹ رہے تھے، سڑک پر تیز تیز قدموں سے چلے آرہے تھے۔
"سلاو!دیکھو اچار، لیکن دکان بند ہو چکی ہے۔”
"کیا تمھیں اچار پسند ہے؟”
"بہت۔”
میں اپنے کمرے میں لوٹ آئی۔ رات کو سونے کے کپڑے نکالنے کے لیے میں نے الماری کھولی۔ سامان دیکھ کر میں ڈر سی گئی۔ الماری میں سفید بھوت لیلی کے پھول، سینٹک کا گلدستہ اور اچار رکھا تھا۔ میں سیدھے اس کے کمرے میں گئی اور پوچھا،” تم نے یہ کیوں کیا؟”
"تمھیں اچھا لگا نا! مجھے خوشی ہوئی، شب بخیر۔”
ہم ایک دوسرے کے نزدیک آتے جا رہے تھے۔ کوئی ارضی طاقت ہمیں روک نہیں سکتی تھی۔ عمر کے اٹھائیس برسوں میں ، میں نے اپنے تجربوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس کی بھری جوانی مستی اور جوش سے میرے دل کا گوشہ گوشہ جاگ اٹھا، برسوں سے خوابیدہ میرے جذبات جاگ اٹھے اور اسی دوران میں اس کی محبت میں شرابور ہو گئی۔
پراگ میں ہم چار دن ہی ساتھ گذار پائے، ہم نے فیصلہ کر لیا کہ ماسکو پہنچتے ہی ہم شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔ لیکن پراگ سے روانہ ہونے سے ذرا پہلے مجھے ثقافتی وہ تہذیبی محکمہ کا ٹیلی گرام ملا کہ مجھے فوراً یوگوسلاویہ کے سفر کی تیاری کرنی چاہیے۔ سرکاری نمائندوں کی کوئی جماعت بلغراد جا رہی تھی جس کے ساتھ چند فن کاروں کو بھی جانا تھا۔ اس جماعت کا کام بے حد اہم تھا۔ استالین اور مارشل ٹیٹو کے تعلقات منقطع ہونے کے بعد روسی نمائندے پہلی بار یوگوسلاویہ جا رہے تھے۔ ہم ایک ایسے شخص سے متکبرانہ سمجھوتا کرنے جا رہے تھے جسے ہمارے راہ نما کئی سال سے ” کرایے کا غدار”کہتے چلے آرہے تھے۔
بلغراد کے روسی سفارت خانے کے ایک پروگرام میں نکولائی اے بلگانن سے میری پہلی ملاقات ہوئی۔ وہ وزارتی کونسل کے صدر تھے۔۔۔ کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پہلے سیکریٹری نکیتا ایس خروشچیف سے بھی وہیں ملاقات ہوئی۔ بلگا نن نے مجھے اہم مہمانوں کی میز پر اپنے ساتھ کھانے پر مدعو کیا۔ مجھے بلگانن اور خروشچیف کے درمیان جگہ ملی۔ سامنے ٹیٹو اور ان کی اہلیہ بیٹھی تھیں۔ ٹیٹو خاموش اور سنجیدہ تھے۔ انھوں نے مہمانوں اور اپنے درمیان ایک دیوار سی کھڑی کر لی تھی جسے وہ ایک ہی دن میں نہیں گرانا چاہتے تھے۔ بلگانن نے شائستگی سے گفتگو جاری رکھنے کی کوشش کی۔ خروشچیف ہر کسی کو بوسہ دینے کی کوشش میں مصروف تھے۔
دوسرے دن بلگانن نے خوبصورت گل دستہ بھیجا۔ مجھے واقعی اس کی ضرورت بھی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ ہمارا یہ نیا زار اور با اختیار طاقتور حکمراں صرف اس لیے تحفہ میں پھول نہیں بھیجتا کہ ہم بہت اچھا گاتے ہیں۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا، اب کوئی شک نہیں رہ گیا تھا کہ صدر مجھ سے محبت کی پینگیں بڑھا رہے تھے۔
لیکن میں نے اس وجہ سے اپنے آپ کو مزید پریشان نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس وقت سب سے اہم اور ضروری بات بس یہ تھی کہ میں کسی طرح ماسکو پہنچ جاؤ ں۔ سلاو وہاں میرا انتظار کر رہا تھا۔
قانونی طور پر مجھے طلاق کی ضرورت نہیں تھی،کیوں کہ مائیک سے میری شادی کی باقاعدہ رجسٹری نہیں ہوئی تھی۔ جنگ کے دوران شادی ہوئی تھی۔ اس وقت کوئی بھی ضروری کاغذات بنانے کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔ جنگ کے بعد بھی ہم نے اس ضمن میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ مائیک خدا ترس اور بھلا آدمی تھا۔ اس سے علاحدگی پر دل اداس تھا لیکن اور کوئی راستہ بھی تو نہیں تھا۔ جھٹ پٹ شادی کرنے کے باوجود میری اور سلاو کی زندگی میں کبھی ناخوشگواری نہیں ہوئی۔ ہم نے ایک دوسرے کو اسٹیج پر کبھی نہیں دیکھا تھااس لیے ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے تعلق سے کوئی بھرم نہیں آیا۔ میرے لیے یہی ایک حیرت انگیز مسرت تھی کہ وہ بہت اچھا موسیقار تھا اور میں اس کے لیے ایک اچھی گلو کارہ۔
پہلا نقش ہمیشہ اہم اور دیرپا ہوتا ہے، میرے لیے وہ ایک ایسا مرد تھا جس کے تعارف کے کچھ ہی دنوں بعد میں اس کی بیوی بن گئی اور اس کے لیے میں ایک ایسی عورت تھی جس کے آگے وہ گھٹنوں کے بل جھک گیا۔
میری اور سلاو کی شادی کے چند ہی دنوں بعد ثقافتی و تہذیبی محکمہ کا فون ملا ” گلینا پاؤ لونا!ہم تمھیں جگہ جگہ تلاش کر رہے ہیں۔ آج بلگانن کی ساٹھویں سالگرہ ہے، شہر سے باہر ان کے داچے(دیہی مکان/ فارم) پر تقریب ہو گی۔ آدھ گھنٹے میں کار تمھارے گھر پہنچ جائے گی۔”
تقریب میں ، میں نے دیکھا کہ وہاں موجود تمام روسی ڈٹ کر شراب پی رہے ہیں۔ اس سال گرہ تقریب کا مرکزی ہیرو مجھے دیکھ کر بے حد خوش ہوا اور اپنے بازو میں جگہ دی۔ تمام حاضرین مجھے معنی خیز نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ میں بلگانن اور خروشچیف کے درمیان تھی۔ بہت گھبرائی ہوئی، یہاں بہت قریبی اور اہم مہمان ہی مدعو تھے۔ پولٹ بیورو کے ممبران، اہل خاندان اور گنے چنے فوجی افسران۔
میرے کان کے پاس سرگوشی میں سنائی دیا ” میں تمھارے گھر گیا تھا، مجھے بتایا گیا کہ تم اب وہاں نہیں رہتیں ، کہاں بھاگ گئی ہو؟”
"میں بھاگی نہیں ، میری شادی ہو گئی ہے۔”
"سچ؟ مبارک ہو "، اس نے دکھاوے کی حیرت اور بے خبری کا مظاہرہ کیا۔ سلاو نے جو فارم بھرا تھا، شاید اس کی جانچ پڑتال ہو چکی تھی۔
"شکریہ۔”
"کس سے شادی کی ہے؟”
"میرے شوہر وائلن نواز مستی سلاو لیو پووچ راستر پوچ ہیں۔ "میں نے اعتماد اور غرور سے جواب دیا۔
دوسرے دن صبح سویرے فلیٹ کی گھنٹی بجی۔ ایک تندرست ا و رتوانا جوان کرنل بڑا سا گلدستہ لیے دروازے پر کھڑا تھا۔ شام کو کریملن سے فون آیا، ” ہیلو گالیا!میں نکولائی الیکزیندروچ بول رہا ہوں۔ ”
میں صورت حال کی سنگینی اور سفاکی کو سمجھ چکی تھی پھر بھی عام سے لہجے میں بولی،” ہیلو نکولائی الیکزیندروچ!آپ نے بہت خوبصورت پھول بھیجے،شکریہ”۔
"لیکن مجھے تو تمھارا شکریہ ادا کرنا چاہیے، کیا آج رات تم کھانے پر آسکو گی؟”
میں نے بہانہ بناتے ہوئے کہا ، "آج رات تو تھیٹر میں میری ریہرسل ہے، رات گئے تک چلے گی۔”
"کوئی بات نہیں ، میں انتظار کروں گا۔”
میں اپنے آپ کو سادہ اور معصوم ظاہر کرتے ہوئے آمادہ ہو گئی، "آپ کتنے اچھے ہیں ، شکریہ، ہم لوگ آئیں گے۔”
ٹیلی فون کے دوسرے سرے پر دیر تک خاموشی رہی پھر بولا” میں کار بھیج دوں گا”۔
اس رات کے بعد مجھے ہر روز دعوت ملی۔ کبھی داچے پر، کبھی اس کے ماسکو والے مکان پر۔ ان موقعوں پر خوب شراب پی جاتی۔ بلگانن بھی پیتا اور سلاو کو بھی پلاتا۔ سلاو سے بار بار پینے کے لیے نہ کہنا پڑتا۔ وہ غصے میں پیتا اور بے تحاشا پیتا۔ دونوں نشے میں چور ہو جاتے تو بڈھا بیل کی مانند مجھے گھورتا اور سلاو سے کہتا "ہاں تو تم نے مجھ سے پہلے ہی اس پر حق جما لیا”۔
"بات تو یہی ہے۔”
"کیا تم اس سے محبت بھی کرتے ہو؟”
"ہاں میں اس سے بے پناہ محبت کرتا ہوں۔ ”
"نہیں تم بھلا اس سے کیسے محبت کر سکتے ہو، تم ابھی بچے ہو، جانتے بھی ہو کہ محبت کیا ہوتی ہے؟ اب میں اس سے محبت کروں گا۔”
سرکاری افسران کے سپاٹ اورسفاک چہروں کے درمیان بگانن کی شخصیت بالکل الگ دکھائی دیتی۔ محض اپنے انداز سے ہی وہ مہذب، شائستہ اور دانشور لگتا۔اس کی دلی تمنا تھی کہ میں اسے نرم دل، آزاد خیال حکمراں نکولائی سوم کے روپ میں دیکھوں۔
وہ ہمیشہ کہتا کہ مجھے اس کے گھر ا نے میں کوئی تکلیف یا ڈر نہیں محسوس کرنا چاہیے۔ممکن ہے وہ مجھ سے حقیقی پیار کرتا ہو، وہ اکثر سلاو سے کہا کرتا،” تمھیں ناراض نہیں ہونا چاہیے کہ میں اسے اکثر بلایا کرتا ہوں ، مجھے اس سے جی بھر کر محبت کر لینے دو، تم جوان ہو اور تمھیں زندگی میں بہت سی چیزیں مل سکتی ہیں ، میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ ”
یہ بکواس سن سن کر سلاو تنگ آ جاتا اور کبھی کبھی اسے بھی اس شخص کی بے چارگی پر ترس آ جاتا۔ گھر پہنچ کر مجھ سے کہتا، ” تم جانتی ہو، در اصل وہ بھلا آدمی ہے، لیکن وہ تم سے اظہار محبت کیوں کرتا ہے؟ اگر اس کی یہ نیت نہ ہوتی تو میں بہ خوشی اس کا دوست بن جاتا "۔
ابتدا میں تو یہ صرف ایک کھیل تھا۔ ایسی اعلیٰ سطحی جنگ میں کامیابی پر سلاو کو خوشی بھی ہوتی لیکن بہت جلد اسے اپنی کم تر حیثیت اور درجہ کا اندازہ ہو گیا۔
ایک رات معمول کے مطابق بلگانن کے گھر سے شراب پی کر لوٹنے کے بعد سلاو مجھ سے لڑنے لگا "وہ بڈھا تمھیں جس طرح دیکھتا ہے، میں اسے برداشت نہیں کرسکتا۔ اب وہاں کبھی نہیں جاؤ ں گا۔ تمھیں شاید وہاں جانا اور اپنے نئے زار کا اظہار محبت سننا اچھا لگتا ہے، تم یہ نہیں سوچتیں کہ یہ حالات میرے لیے کتنے توہین آمیز ہیں "۔
میں رونے لگی "میں کیا کرسکتی ہوں ؟ اسے دھتکار تو نہیں سکتی۔ کل جب وہ کار بھیجے تو تم اس بکھیڑے سے نکلنے کی کوشش کرنا”۔
سلاو انڈر ویر پہنے کھڑکی پر چڑھنے لگا، ” اگر یہ بات ہے تو میں ابھی باہر چھلانگ لگا دیتا ہوں "۔ نشے کی جھونک میں وہ بھول گیا تھا کہ کھڑکی اور زمین کے درمیان قریب بارہ فٹ کا فاصلہ ہے۔ میں بڑی زور سے چلائی ” رک جاؤ!تم کیوں کود رہے ہو، میں حاملہ ہوں "۔
یوں لگا جیسے آندھی کے تیز جھکڑ نے اسے کھڑکی سے اندر کمرے میں دھکیل دیا ہو۔ وہ میرے پاس کھڑا تھا۔ خوشی سے بے قابو، ” سچ!تم نے اب تک کیوں نہیں بتایا؟”
میرا چہرہ آنسوؤ ں سے بھیگ گیا”کیوں کہ میں۔ ۔۔ میں اچانک تمھیں حیران کرنا چاہتی تھی!”
ہم نے طے کیا کہ ہم بلگانن سے اپنا یہ عجیب و غریب رشتہ دھیرے دھیرے توڑ لیں گے، آخر ہم ایسے خونخوار شخص کو اپنا جانی دشمن بھی نہیں بنا سکتے تھے۔ میں تھیٹر کی مصروفیت کا بہانہ بنا کر کے اس کی دعوت سے انکار کرنے لگی۔ وہ میری چال سمجھ گیا اور ثقافتی و تہذیبی محکمہ کے ذریعہ کریملن کی تقریبات میں گانے کے لیے مدعو کرنے لگا۔ میں کہتی کہ تھکان کی وجہ سے میں گا نہیں سکوں گی تو بذات خود فون پر کہتا، ” گالیا!میں تمھیں تقریب میں حصہ لینے کے لیے دعوت دے دیتا ہوں "۔
آخر کار، ایک دن ان چھلاؤ ں سے تنگ آ کر میں خود پر قابو نہ رکھ پائی۔ اپنے آبائی مکان کی بدبو دار گیلری میں کھڑے ہو کر غصہ میں فون پر چلائی، "آپ اپنے آپ کو بے وقوف کیوں بنا رہے ہیں ، میں لوگوں کی سرگوشیوں اور کانا پھوسی سے تنگ آ چکی ہوں ، آپ کی تقریبات میں گانا نہیں چاہتی، مجھے سخت ناپسند ہے، گاتے ہوئے آپ سب کے ہنستے ہوئے جبڑے دیکھنا ناگوار گذرتا ہے، میں آپ سے التجا کرتی ہوں کہ آپ یہ اعزاز مجھے نہ بخشیں ، بس رخصت”۔
تھوڑی دیر بعد اس نے دوبارہ فون کیا ” گالیا!مجھے معاف کرو، میری درخواست ہے کہ سلاو اور تم کل رات کھانا میرے ساتھ کھاؤ ، میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔ ”
ہم مجبور تھے، کر بھی کیا سکتے تھے، کسی نے سچ کہا ہے کہ ہمیں دو برائیوں سے بچاؤ ، مالک کا غصہ اور اس کا پیار۔
لیکن اس کے بعد میں نے کسی سرکاری پروگرام میں گانا نہیں گایا۔
آج ان سب باتوں پر غور کرتی ہوں تو خیال آتا ہے کہ اگر مجھے پراگ نہ بھیجا جاتا اور میں سرکاری نمائندوں کے ساتھ بلغراد ہی تک گئی ہوتی تو کیا ہوتا؟ شاید میری اور سلاو کی ملاقات ہی نہ ہوتی اور ہم ایک دوسرے سے متعارف ہی نہ ہوتے اور اب یہ معلوم کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے کہ میری تقدیر کیا کروٹ لیتی۔ تب شاید سویت حکمرانوں کے اظہار محبت پر میرا رویہ بالکل مختلف ہوتا۔
1953 میرے لیے کئی اہم واقعات کا سال ہے، اس سال کتنی ہی باتیں زندگی میں پہلی بار ہوئیں ، حاملہ ہونے کے باوجود میں جرمنی کے سفر پر گئی۔ وہاں فیدلے لیو اور یوگینی موسیقی ڈراموں میں گیت گائے۔ماسکو لوٹنے پر مجھے” روس کا عوامی فن کار”کے اعزازسے نوازا گیا۔انھیں دنوں اوپیرا کی پہلی ریکارڈنگ کروائی۔مارچ میں ہماری پہلی بیٹی اولگا پیدا ہوئی، دوسری بیٹی ایلنا1958 میں پیدا ہوئی۔
1953 میں ہی کمیونسٹ پارٹی کا اجلاس ہوا، کسی کو امید نہیں تھی کہ کوئی نئی بات ہو گی۔ ہر کوئی سمجھتا تھا کہ وہی غیر ضروری بکواس ہو گی، تبھی خردشچیف نے اپنا’ خفیہ بیان’ جاری کیا جسے سن کر اجلاس میں موجود حاضرین حیران رہ گئے۔ وہ اس تقریر کی حقیقت بیانی سے حیران نہیں ہوئے کیوں کہ نمائندوں کو یہ باتیں پہلے ہی سے معلوم تھیں ، وہ تو اس بات پر حیران تھے کہ روسی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا جب وہ کمیونسٹ پارٹی کے اسٹیج سے سچ سن رہے تھے۔
خردشچیف کی یہ تقریر عام ہو گئی، اس کی باتوں کا ذکر مسلسل پھیلنے لگا، لوگوں کی نظروں میں استالین اب جلاد، بزدل، مجرم اور پاگل تھا۔ لوگ جو بات پہلے سوچنے سے ڈرتے تھے، اسے کھلے عام کہنے کا موقع پاکر ششدر تھے۔ وہ سرعام بے جھجھک باتیں کرنے لگے لیکن لوگوں نے اسے زیادہ اہم اور قابل مذمت نہیں جانا، عوام نے ان گناہوں کے لیے اپنی حکومت کو مجرم نہیں گردانا۔
میرے والد جیل سے رہا ہوئے۔ دس سال کی طویل قید کے باوجود وہ پکے کمیونسٹ عقیدے کے تھے، دوبارہ پارٹی ممبر بننے کی کوشش میں ماسکو آئے، سب سے پہلے وہ بالشوئی تھیٹر کے شعبہ ملازمت میں گئے اور میری برائی کی۔ انھوں نے کہا کہ” میری بیٹی نے آپ سے یہ بات چھپائی تھی کہ اس کا باپ دفعہ 58 کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ انھیں امید تھی کہ بالشوئی مجھے لات مار کر نکال باہر کریں گے۔ لیکن ان کا خیال غلط نکلا۔ وقت بدل چکا تھا۔ دو سال بعد پھیپھڑوں کے کینسر میں ان کا انتقال ہو گیا۔
1959 کے اخیر میں ،میں ‘ماسکو اسٹیٹ سمفنی آرکسٹرا’ کے ساتھ دو ماہ کے لیے امریکہ کے دورے پر گئی۔ سلاو ایک ہفتہ قبل ہی امریکہ کے کامیاب دورے سے لوٹا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد، پندرہ برسوں میں کئی روسی فن کار امریکہ میں اپنا فن پیش کر چکے تھے لیکن امریکیوں نے ابھی تک سویت روس کے کسی اوپیرا گلوکار کو نہیں سنا تھا۔ میں ایسی پہلی گلو کارہ تھی۔
دسمبر کی شام ہم نیویارک پہنچے، چند ہی گھنٹوں بعد ہم والڈوف اسٹوڈیا ہوٹل میں منعقد نئے سال کی تقریبات میں حصہ لے رہے تھے۔ عوامی تقریبات کے منتظم سول ہوروک نے ہماری کمپنی کے لیے یہاں شاندار پروگرام رکھا تھا۔ اگلے روز صبح سویرے، سب سے پہلے ہمیں سمجھانے بتانے کے لیے روسی سفارت خانے لے جایا گیا، سرمایہ داری پر تقریر سنائی گئی، کہا گیا کہ ہم دکانوں کے شوکیسوں میں رکھے سامان پر زیادہ توجہ نہ دیں۔ یہ سب نمائشی ہیں ، عام امریکی یہ چیزیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہاں لوگ بھوکوں مرتے ہیں۔
سڑکوں پر گھومنے اور جائزہ لینے کے بعد ہمیں اطمینان ہوا کہ یہاں بھوک سے مرے کسی کی پھولی لاش نہیں دکھائی دی۔ چند ایک متجسس روسیوں نے دکانوں پر جا کر پوچھ گچھ کی۔ انھیں بتایا گیا کہ اسٹیٹ سمفنی کا کوئی بھی فن کار اپنے دو ماہ کے قیام کے دوران، یہاں اتنا سامان خرید سکتا ہے کہ اس کے بوجھ سے ایک بڑا سمندری جہاز ڈوب جائے۔
اپنے پہلے پروگرام میں کارنیگی ہال کے اسٹیج پر یوگنین کے منظر میں تاتیانا کا کردار گا رہی تھی تو ناظرین نے مسحور ہو کر مجھے بے تحاشا سراہا، بعد میں اندازہ ہوا کہ امریکہ میں ناظرین سیٹی بجا کر فن کاروں کو سراہتے ہیں جبکہ روسی ہوٹ کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ مجھے دلی مسرت ہوئی۔ نیویارک ٹائمز نے تحریر کیا ” حسن اور موسیقی کے لحاظ سے میں بے مثال ہوں "۔
آئندہ پندرہ برسوں میں ، میں نے پانچ بار امریکہ کا سفر کیا۔ ان دوروں میں ، میں ہوٹلوں ، ہالوں اور اوپیرا گھروں کے علاوہ اور کچھ نہ دیکھ سکی۔میں اپنے فن کے مظاہرے پر خصوصی توجہ دیتی، سو اسی میں مصروف رہتی۔ روسی فن کار جب بھی غیر ملکی دورے پر جاتے ہیں ، ان کا پروگرام اتنا مصروف رکھا جاتا ہے کہ انہیں کچھ دیکھنے سننے کی فرصت ہی نہیں مل پاتی۔
اعلیٰ روسی افسران ہماری آمدنی لے لیتے اور اسے روسی سفارت خانے کے اخراجات اور ہمارے ہی پیچھے تعینات جاسوسوں کو بطور معاوضہ ادا کر دیتے۔ سویت یونین میں ہر فنکار کو اس کے معیار اور درجے کے مطابق مقررہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ پروگرام سے تھیٹر کو جو نقصان یا فائدہ ہوتا ، اس سے ہماری تنخواہ پر کوئی اثر نہ پڑتا۔
تنہا مجھے گانے کے لیے دو سو چالیس ڈالر ملتے، چاہے کئی ہزار حاضرین سے بھرے اسٹیڈیم میں ہی کیوں نہ گاؤ ں۔ غیر ملکی دورے پر جب میں بالشوئی تھیٹر کے فن کاروں کے ساتھ گاتی تو مجھے کمپنی کے دوسرے عام فن کاروں کی طرح دس ڈالر روزانہ ملتا۔ سویت فن کار غیرملکی دورے کے لیے ایک دوسرے کا گلا کاٹنے پر آمادہ رہتے کیوں کہ غیرملکی سامان روس میں کافی اونچے داموں بک جاتا۔
ہمارے خاندان کی مادی آسائش کا دارومدار غیر ملکی دورے پر ہی تھا۔ ہم دونوں نے بیس سال سے زائد عرصہ تک کام کیا، لہٰذا اتنا پیسہ جمع کر لیا تھا کہ داچا بنواسکیں اور کو آپریٹیو بنیاد پر فلیٹ خرید سکیں۔
1968کی موسم گرما میں ، میں نے پہلی بار لندن میں سلاو کے ساتھ شستا کوچ کی گیت مالا گائی، ایڈنبرا کے پروگرام میں گیت گائے اور انگلینڈ کے مختلف شہروں میں تنہا موسیقی سنائی۔
سلاو نے لینڈ روور کار خریدی۔ اس میں تیز قسم کا ہارن فٹ کروایا اور مجھ سے کہا کہ ہم اس میں بیٹھ کر یورپ کا دورہ کریں گے، کار میں ہی سوئیں گے، ہلکے گیس کے چولھے پر اپنا کھانا پکائیں گے، چھٹی منائیں گے اور سفر کا لطف اٹھائیں گے، ہمارے دوست برطانوی موسیقار بنجامن برٹن نے لینڈ روور کا نام بٹرکپ رکھا اور آغاز سفر کے موقع پر اس نام سے کینٹ یٹا( کورس) بھی لکھا۔
ہم نے فرانس اور سوئزرلینڈ کے راستے پر سفرکیا۔ سلاو اپنے اس نئے سفر سے بے حد خوش تھا۔ سوئزرلینڈ کے صاف ستھرے دیہاتوں سے گذرتے ہوئے ہماری گاڑی کے ہارن کی آواز دور دور تک پھیل جاتی اور سڑک پر چلتی کاریں راستہ چھوڑ دیتیں۔
ہم مشرقی یورپ کی سرحد تک پہنچ گئے۔ چیکوسلواکیہ میں واضح طور پر اندازہ کیا جاسکتا تھا کہ وہاں کے لوگ روسیوں سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ ہم نے طے کیا کہ ہم راستہ وغیرہ جرمن میں پوچھیں گے، تبھی ہماری بات کا جواب ملے گا۔ یہ خطرناک بات تھی۔ چیکوسلواکیہ کے عوام روسیوں سے کتنی نفرت کرتے ہیں ، اس کا اشارہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ روسی کے بجائے جرمن سننا پسند کرتے تھے۔ ہمیں 1955کا پراگ یاد آگیا۔ یہیں ہم دونوں پہلی بار ملے تھے۔ ان دنوں لوگ روسیوں سے کتنا پیار کرتے تھے۔ چیکوسلواکیہ کے گھر گھر میں روسیوں کا خیرمقدم کیا جاتا جیسے ہم آپس میں بھائی بھائی ہوں۔
آخرکار ہم پولینڈ روس سرحد پر بریسٹ پہنچے، ہم اپنے گھر میں تھے، ذہنی تناؤ سے آزاد، لیکن یہ کیا ! بیلو رشیا کی شاہراہ پر دور تک جاتی ہوئی فوجیوں ، اسلحوں ، ٹینکوں سے بھری گاڑیاں ، پورے دن ہم یہ سب دیکھتے رہے؛
"یا خدا!سلاو یہ کیا ہے؟ کیا جنگ چھڑ گئی ہے؟”
"نہیں ،نہیں یہ صرف فوجی مشق ہے۔”
ہمارے ذہن میں یہ بات قطعی نہیں تھی کہ ہمارا ملک چیکوسلواکیہ پر قبضہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ماسکو میں ہم نے چند دن گزارے، تین ہفتہ بعد، ہم سویت کلچرل میلہ میں شرکت کے لیے دوبارہ لندن جا رہے تھے۔ میلہ کی افتتاحی شام سے ایک دن پہلے21اگست 1968 کو ہم لندن پہنچ گئے، افتتاح کے موقعہ پر سلاو کو چیک موسیقار انتونن کی تخلیق’ کنچے ترو’ وائلن پر پیش کرنی تھی۔ صبح ناشتہ کے بعد ہم سیر کے لیے نکلے، سڑکوں پر ہجوم تھا، ان کے ہاتھوں میں تختیاں تھیں۔ ” روسیو!چیکوسلواکیہ سے نکلو "، ہمیں یقین نہیں آ رہا تھا۔ یہ روسی تاریخ کی سب سے توہین آمیز کارروائی تھی۔ ہم جلد ہی ہوٹل واپس آ گئے، ٹیلی ویژن کھولا، ہر چینل کے پروگرام میں پراگ کی سڑکوں اور چوراہوں پر روسی ٹینک نظر آرہے تھے۔ سلاو پاگلوں کی طرح کمرے میں ٹہل رہا تھا، "گالیا!ہمیں کیا کرنا چاہیے، کتنا شرم ناک فعل ہے، ہم مجرم ہیں ، مجھے آج رات اسٹیج پر شرم محسوس ہو گی۔ چند گھنٹے بعد سلاو، رائل البرٹ ہال کے اسٹیج پر تھا۔ ہال کے باہر، سڑکوں پر زبردست احتجاج ہو رہا تھا، ہال میں موجود تقریباً چھ ہزار تماشائی سوویت سمفنی کے فن کاروں کے سامنے دیر تک چلاتے رہے، ” روسی فاشسٹو!واپس جاؤ”۔ چند تو گلا پھاڑ کر چیخ رہے تھے۔ اسٹیج پر کھڑا سلاو پیلا پڑ گیا تھا جیسے پھانسی کے تختہ پر کھڑا ہوا۔ وہ اپنی حکومت کی بے عزتی سنتا رہا، میں نے آنکھیں بند کر لیں ، سر اٹھانے کی ہمت بھی نہ ہوئی، چپ چاپ اپنے بوتھ کے کونے میں بیٹھ گئی۔
بہت دیر بعد ہال میں سکون ہوا، راستروپووچ نے آنکھوں میں آنسو لیے،وائلن کے ذریعہ اپنا حال دل کہہ سنایا، وائلن سے دُوراک کی موسیقارانہ تخلیق، چیک عوام سے آخری رسوم کے نغمے کی مانند بیان کر رہی تھی، حاضرین نے اس عظیم فن کار کی یہ معذرت انہماک اور توجہ سے سنی۔ سلاو نے دُوراک کی اس موسیقارانہ تخلیق کے ذریعہ چیک عوام کی روحوں سے ہم آہنگی پیدا کر لی تھی۔ وہ چیک عوام کا کرب و درد محسوس کر رہا تھا۔ ان کے لیے خدا سے دعا کر رہا تھا، ان سے معافی کا خواستگار تھا۔
موسیقی کے اختتام پر پہنچتے ہی میں بے اختیار سلاو سے ملنے کے لیے دوڑ پڑی۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے اور آنکھوں میں آنسو تھے، اس نے میری بانہوں کا سہارا لیا اور تھیٹر سے جلد از جلد نکلنے کے لیے مجھے گھسیٹنے لگا،” چلو ہوٹل چلیں ، میں کسی سے نہیں ملنا چاہتا”۔
1968کی موسم بہار میں سلاونے ممتاز ادیب الیکزیندر ایساوچ سولزنستین سے ان کے گھر ‘ریازن’ جا کر ملاقات کی۔ وہ بغیر اطلاع دیے ان کا پتہ معلوم کر کے وہاں پہنچ گیا۔
"ہیلو!میرا نام راسترویووچ ہے۔ میں آپ سے ملنے آیا ہوں۔ ”
سولزنستین نچلی منزل کے چھوٹے سے فلیٹ میں رہتے تھے، سلاو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اتنا مشہور ادیب مفلسی اور گھٹن بھری زندگی گذار رہا ہے۔ رات دن ٹرکوں کے چلنے سے فلیٹ کی کھڑکیاں اور دیواریں جَھن جھناتی تھیں۔
اس کے بعد سلاو نے قریبی دوستوں کے گھروں پر ان سے کئی ملاقاتیں کیں۔ ایک دن اسے پتہ چلا کہ سولزنستین سخت بیمار ہیں اور ان دنوں زردیستمو نامی گانو کی کسی جھونپڑی میں مقیم ہیں۔ سلاو ان سے ملنے کے لیے ایک دم کار لے کر نکل پڑا۔
خروشچیف کے دور میں لوگوں کو باغ باغیچوں میں جھونپڑا بنانے کی اجازت مل گئی تھی تاکہ باغبانی کا سامان رکھا جاسکے۔ کی ایف جانے والی قومی شاہراہ پر ایسی ہی ایک جھونپڑی میں سلاو نے سولزنستین کو ڈھونڈ نکالا۔ خزاں کا وہ دن، بارش کی وجہ سے ٹھنڈی بڑھ گئی تھی۔ یہی ایک ایسی جگہ بچ گئی تھی جو اس ادیب کو اپنا کام کرنے کے لیے مل سکتی تھی۔ سولزنستین کے پہلے ناول” ایوان دینی سروچ کی زندگی کا ایک دن” سے انھیں بین الاقوامی شہرت مل چکی تھی۔ سویت اخباروں اور رسالوں نے بطور خاص اسے سراہا تھا۔ اس ناول میں استالین کے عہد میں روسی اذیت خانوں کا موثر بیان تفصیل سے کیا گیا تھا۔ اسی ناول پر استالین ایوارڈ کے لیے ان کا نام تجویز ہوا تھا لیکن عہدیداروں نے اپنی رائے بدل دی اور سولزنستین حکومتوں کی نوازشوں سے محروم کر دیا گیا۔
اپنے نئے دوست کو تنگی اور مشکلات میں گھرا دیکھ کر سلاو کے لیے یہ فطری ہی تھا کہ وہ سردیاں ہمارے داچے میں گذارنے کی درخواست کرے۔ ہم نے کچھ روز قبل ہی داچے کے پاس ایک چھوٹا مہمان خانہ بنوایا تھا۔
ایک دن تڑکے، میں نے کھڑکی سے جھانکا۔ گھر کے باہر پرانی مسکوچ کار کھڑی تھی۔ سلاو نے بتایا کہ الیکزینڈرو ایساوچ آج صبح سویرے چھ بجے آئے تھے اور سامان چھوڑ کر ریل سے ماسکو لوٹ گئے۔ کچھ دنوں بعد یہاں رہنے آئیں گے۔
"اچھا، کیا وہ مطمئن تھے، انھیں گھر پسند آیا؟ شاید انھیں کسی اور طرح کے فرنیچر کی ضرورت ہو؟”
ہم مہمان خانے میں گئے۔ گھریلو خاتون کی طرح میں نے چاروں جانب نظر دوڑائی۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا، بستر پر رکھی ایک عجیب سی گٹھری کے علاوہ کوئی نئی چیز نہیں تھی۔ میں نے اسے بہ غور دیکھا۔ یہ پھٹی ہوئی روئی دار کالی جیکٹ تار تار ہو چکی تھی۔ ایسی جیکٹ مشقت کیمپوں کے نظر بندوں کو دی جاتی تھی۔ سولزنستین کو تقریباً آٹھ سال تک کیمپوں میں رہنا پڑا تھا۔ اسے دیکھ کر میرا دل درد سے بھر گیا” سلاو!یہ وہیں کی ہے نا؟”
ہم اس گٹھری کو بار بار دیکھتے رہے۔ اس کی ایک ایک تہہ اور تھگلی سے ایک انسان کی حساس تکلیف اور مصیبت جھلک رہی تھی۔۔۔ تو ایلکزیندرو ایسیاوچ اس انمول خزانے کو ساتھ لیے دنیا بھر میں جگہ جگہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ وہ کبھی یہ نہیں بھولنا چاہتے کہ میں اس مشقت کیمپ کا باسی ہوں !
میں نے اور سلاو نے کبھی غور نہیں کیا تھا کہ اپنے گھر میں اس ناپسندیدہ شخص کے قیام کے کیا نتائج ہوں گے؟ ہم نے انھیں اس لیے پناہ نہیں دی تھی کہ ادیب سولزنستین نے جمہوریت کے لیے جدو جہد کی تھی۔ یہ سب ہم نے روس کی ناموس کو بچانے کے لیے کیا تھا۔۔۔ ہم نے ایک ایسے شخص کو صرف رہنے کی جگہ دی تھی جس کی حالت خستہ تھی۔ پڑوسیوں کی مدد کرنا ہم کوئی بہادری کا کام نہیں سمجھتے، ایک عام انسانی فریضہ مانتے ہیں۔
اس گٹھری کو دیکھ کر میرا دل عزت و احترام سے جھک گیا۔
اس ملک میں آپ ایسے شہری کی حیثیت سے نہیں رہ سکتے جس کے اس دنیا کے بارے میں اپنے خیالات ہوں ، جو اپنے خدا کے بنائے ہوئے احکام، اصولوں کے مطابق زندگی گذارنا چاہتا ہو، اس کے برخلاف اپنی روح، ذہن اور ضمیر سے خدا کو نکال دینا چاہیے اور اس کی جگہ مارکس، اینگلز، استالین اور لینن کے اقوال بھرے ہوں گے، آپ کا یہی مذہب ہونا چاہیے، سولزنستین کو اپنے گھر پناہ دے کر ہم نے یہ دکھا دیا تھا کہ ہم اس مذہب کے خلاف ہیں۔
1970 کے موسم خزاں میں سولزنستین کو نوبل انعام پیش کیا گیا۔ اب روس کے اخبار کھلے عام ان کی مخالفت اور پریشان کرنے لگے تھے۔ پاستر ناک کے ساتھ جب یہ برتاؤ ہوا تھا تو اس کی مخالفت کی ہمت کسی میں نہ ہوئی تھی لیکن سلاو نے اس بدسلوکی کی مخالفت اور سولزنستین کی حمایت کی۔
مجھے ماسکو کی وہ سرد صبح اچھی طرح یاد ہے جب داچے سے شہر آتے ہوئے سلاو نے مجھ سے کہا تھا کہ اس نے سولزنستین کی حمایت میں آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، اس نے وہ خط بھی دکھایا جو اس نے یرودا، ازدبستیا، لتراتورنایا، غزیلہ اور سویت کلچر کے مدیروں کو لکھا تھا۔
"لیکن تمھارا یہ خط کوئی نہیں شائع کرے گا، اس سے کیا فائدہ؟”
"سولزنستین ہمارے یہاں رہتے ہیں ، مجھے اپنے خیالات واضح کر دینا چاہیے، اگر اس وقت میں خاموش رہا تو کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔”
چند دنوں بعد جرمنی کے سفر کے لیے ایر پورٹ جاتے ہوئے اس نے یہ چاروں خط پوسٹ بکس میں ڈال دیے۔ دو ہفتہ بعد، غیر ملکی ریڈیو اسٹیشنوں سے یہ بیان دن میں کئی بار نشر کیا جانے لگا۔
میری زندگی اور فن پر بنائی گئی ٹیلی فلم پر پابندی لگا دی گئی۔ اب یہ فلم کبھی نہیں دکھائی جائے گی۔ روسی حکومت کا انتقامی سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔
سولزنستین چار سال تک ہمارے داچے پر رہے اور صرف لکھتے رہے۔ پَو پھٹتے ہی اٹھ جاتے اور شام تک لکھتے رہتے۔ کبھی کبھی باغ میں شیر کی طرح ٹہلتے، ان کی تحریر باریک اور خوبصورت تھی۔ ان کی تحریر کی خوبصورتی کا ذکر کرتی تو وہ ہنس دیتے۔
"کاغذات کے چھوٹے چھوٹے پرزوں پر زیادہ سے زیادہ لکھنے کی عادت مشقت کیمپ میں پڑی، انھیں آسانی سے چھپایا جا سکتا ہے۔”
1974 تک سولزنستین کو جلاوطن نہیں کیا گیا تھا۔ اکثر میں اپنے آپ سے پوچھتی ہوں کہ روسی عہدیداران نے اتنے طویل عرصے تک ہمارے گھر ان کا قیام کیسے برداشت کیا!وہ صرف اس بنا پر ہمیں اپنے گھر سے نکال سکتے تھے کہ انھوں نے یہاں قیام کی اطلاع افسران کو نہیں دی تھی۔
ہمارے پڑوسی ا ندرے سخاروف کو ان کے اپنے گھر سے نکال باہر پھینکا گیا تھا اور بلا مقدمہ گورکی بھیج دیا گیا تھا۔ اب کئی برسوں بعد، پوری دنیا اس رویے پر غصہ اور احتجاج کر رہی ہے لیکن روسی حکمرانوں پر اس مخالفت کا کوئی اثر نہیں دکھائی دے رہا جیسے بطخ کی پشت پر بہتے ہوئے پانی کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
سلاو کے خطوط بھیجنے کے بعد، برسوں بعد، افسران نے ہمارے ساتھ سختی برتنی شروع کی۔ خاص طور پر سلاو کے ساتھ، سب سے پہلے بالشوئی تھیٹر سے ہٹایا جہاں وہ مہمان موسیقار کے طور پر کام کرتا تھا، اس کے بعد دھیرے دھیرے اس کے تمام غیر ملکی دورے منسوخ کر دیے گئے اور آخر کار وہ دن بھی آگیا جب ماسکو کے سازندوں سے کہہ دیا گیا کہ وہ راستر پووچ کو موسیقی کے لیے نہ بلائیں۔ صرف یہی نہیں، روسی حکمرانوں نے ماسکو یا لینن گراد میں اس کے پروگراموں کے لیے کسی بھی ہال کے استعمال پر پابندی لگا دی۔ ان حالات میں سلاو نے صوبائی علاقوں کا دورہ شروع کر دیا۔ اس راہ پر ابھی تک اس کے لیے رکاوٹیں نہیں کھڑی کی گئی تھیں۔
میں اپنی مرضی سے بالشوئی میں گاتی رہی۔ مجھ پر کوئی پابندی عاید نہیں تھی۔1976 میں مجھے سوویت یونین کاسب سے اعلیٰ اعزاز”آرڈر آف لینن”سے نوازا گیا لیکن ملک کے اہم اور نمائندہ اخباروں نے میرے بارے میں لکھنا بند کر دیا۔ میری آواز ریڈیو، ٹی وی پر سنائی دینا بند ہو گئی۔ میں خلا میں گا رہی تھی۔ روسی افسران نہ صرف میری توہین اور تضحیک کی کوشش کر رہے تھے، بلکہ ملک کی تہذیبی و ثقافتی زندگی سے بھی مجھے علیحدہ کرتے جا رہے تھے۔
ان ساری باتوں کے باوجود اسٹیج پر میری اہمیت برقرار تھی۔ میں اب بھی دارالحکومت کے تھیٹر میں شان دار آرکسٹرا کے ساتھ اپنا فن پیش کرسکتی تھی۔ میری فنی کارکردگی پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا تھا لیکن راسترپووچ کی حالت بالکل مختلف تھی۔ امریکہ ، انگلینڈ اور جرمنی کے اہم اور منتخب آرکسٹراز کے ساتھ فن کا مظاہرہ کرنے کے بعد اب اسے ایسے موسیقاروں اور آرکسٹراز کے ساتھ وائلن بجانا پڑ رہا تھا جو اس جیسے چابکدست اور ماہر کے اظہار میں ناکام تھے۔ اسے ان لوگوں کے ساتھ چلنا اور آہستہ چلنا اور معمولی سطح کا فن پیش کرنا پڑتا۔ پروگرام کے بعد روسیوں کی پرانی بے ساکھی، سہارا’ ودکا’پیتا اور بے تحاشا پیتا اور کلیجہ تھام کر بیٹھ جاتا۔
جوانی کے دنوں میں ہر کوئی انگلیوں پر بید کی مار ہنس کرسہہ لیتا ہے لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بلوغت آتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی کے سنہرے سال چھن چکے ہیں۔ آپ زندگی میں جو کچھ اور جتنا کچھ کرنا چاہتے تھے، اس کا آدھا بھی نہیں کر پائے۔ اپنے فن کی بے عزتی، زندگی کی سب سے قیمتی شے ہے۔ آپ مایوس اور اداس ہو جاتے ہیں ، جھنجھلا جاتے ہیں۔ سوال یہ تھا کہ راسترو پووچ اس صورت حال کو کب تک برداشت کر سکے گا؟
1973 کے موسم بہار میں ہمیں اولگا ندی کے کنارے منعقد موسیقی کے پروگرام میں الیانوسکی کے سمفنی آرکسٹرا کے ساتھ حصہ لینے کے لیے مدعو کیا گیا، سلاو آمادہ ہو گیا۔ اس کی خاطر میں بھی تیار ہو گئی۔
سلاو وہاں پہنچا تو سڑک پر سب سے پہلے اس کی نظر ایک اشتہار پر پڑی جس میں آئندہ کے اہم پروگراموں کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ پروگرام خرگوشوں کی نمائش کا تھا۔ اس اشتہار کے نیچے والے پوسٹر کے شروع اور آخر میں اس کا نام راستر۔۔۔چ جھلک رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ ضلع کمیٹی کے سکریٹری کو حکم دیا گیا ہو گا کہ خرگوش کی نمائش کا اعلان، موسیقی کے پروگرام کے اعلان کے اوپر چسپاں کر دیا جائے۔ لوگ سمجھیں کہ موسیقی کا پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہے۔ لیکن ان لوگوں کے پاس اتنے اشتہارات نہیں تھے کہ جن سے راستروپووچ کا نام ڈھکا جا سکتا۔ اس کے باوجود اولگا کنارے ہمارا سفر جاری رہا اور تقریباً ایک ماہ تک چلتا رہا۔ اس دوران ہم نے بیس پروگرام کیے، جن پر تبصرے شائع ہوئے، یہ تبصرے ہمیشہ مسرت آمیز ہوتے، جس میں وائلن نواز اور گلو کارہ کی فنی صلاحیت کا اعتراف کیا جاتا۔ میرا اور سلاو کا نام غائب ہوتا۔ بات واضح تھی کہ مرکزی کمیٹی نے پورے ملک میں اپنے احکامات روانہ کر دیے تھے۔
اس سال موسم خزاں میں بالشوئی تھیٹر کے فن کار میلان کے دورے پر جا رہے تھے۔ سفر پر روانہ ہونے سے ایک شام قبل کافی رات گئے بالشوئی کے شعبہ مالیات میں کام کرنے والی ایک خاتون میرے پاس آئی۔ وہ اپنے ساتھ چارسو امریکی ڈالر لائی تھی، مجھ سے کہا کہ میں یہ رقم دفتر میں کام کرنے والے فلاں شخص کے لیے لے جاؤ ں جو میلان پہنچ چکا ہے۔ وہ شخص بھی میرا دوست تھا۔
"لیکن وہ یہ روپیہ اپنے ساتھ کیوں نہیں لے گیا، دو روز پہلے ہی تو یہاں سے گیا ہے۔”
"میں نہیں جانتی، اس نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ رقم تمھیں دے دوں۔ ”
"لیکن تم اور وہ شخص اچھی طرح جانتے ہو کہ کسٹم کے افسران تلاشی لے سکتے ہیں ، انھیں شبہ ہوسکتا ہے کہ میں سولزنستین کا مسودہ باہر لے جا رہی ہوں ، اگر انھیں ڈالر مل گئے تو میں مصیبت میں پڑ سکتی ہوں ، بہت بڑا جرم ہے یہ۔”
"لیکن تمھاری تلاشی کی ہمت کسے ہو گی؟” اس نے مجھے آمادہ کرنے کی آخری کوشش کی۔
"نہیں میں ڈالر نہیں لے جاؤ ں گی۔”
میرا جواب سن کر وہ خاموش ہو گئی اور جلد ہی چلی گئی۔
یقینا روسی عہدیداروں نے سوچا ہو گا کہ میں ڈالر رکھ لوں گی، کسٹم افسران میری تلاشی لیں گے اور اس جرم میں مجھے سفر سے محروم کر دیا جائے گا۔ غیر قانونی زر مبادلہ کے کاروبار کا الزام لگا کر دنیا بھر میں شور مچایا جائے گا کہ سولزنستین نے یہ ڈالر دیے تھے۔ اس نے سونے کی خاطر ملک کی عوام کو بیچ دیا۔
ایک دن بالشوئی کے دو گلوکار ہم سے ملنے آئے، ان کی گفتگو سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ خوش نہیں ہیں ، ان میں کوئی امنگ یا حوصلہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ خیر مقدمی کلمات کے بعد وہ سلاو کو اس کے مطالعہ کے کمرے میں کھینچ لے گئے۔ کچھ دیر بعد سلاو اچانک باہر آیا اور مجھے آواز دی۔
"کیا ہوا؟”، میں نے پوچھا۔
"انھیں خود بتانے دو، میں دستخط نہیں کروں گا۔”
ان میں سے ایک بولا”سنو گالیا!تم سلاو کو سمجھاؤ ، ہمیں بہت با اثر اور ذمہ دار لوگوں نے بھیجا ہے، سخاروف کے خلاف ایک خط لکھا جا رہا ہے۔ سلاو اس پر دستخط کر دے تو وہ کل سے ہی بالشوئی میں موسیقی دینا شروع کر دے گا۔” اس دوران سلاو وہاں سے چلا گیا تھا۔
"آپ چاہتے ہیں ، میں اسے سمجھاؤ ں ؟ نہیں۔ اس نے اگر ایسے کسی خط پہ دستخط کیے تو میں اپنے ہاتھوں سے اس کا گلا گھونٹ دوں گی۔”
"لیکن ایسی کیا خاص بات ہے۔ ایسے خط پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ سب یہی کرتے ہیں۔ سلاو دستخط کر دے تو اسے بالشوئی تھیٹر کا صدر بھی بنایا جا سکتا ہے اور اگر نہیں کیے تو بالشوئی کے دروازے اس پر ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔”
"تو کیا ہوا، یہی نا کہ وہ بالشوئی میں موسیقی نہیں سنا سکے گا لیکن با ضمیر انسان تو رہے گا، ہماری اولاد، اپنے والد کے نام سے شرمندہ تو نہیں ہو گی۔ وہ راستروپووچ تو رہے گا ہی۔”
میری آنکھوں میں خون اتر ا یا، جیسے سر پھٹ جائے گا۔ یہاں سے جانا ہو گا۔ جہاں تک ممکن ہو جلد از جلد نکلنا ہو گا، میرا تھیٹر بھاڑ میں جائے۔ ایسا تھیٹر، سارا خاندان مصیبت میں پھنس گیا ہے۔
بعد میں ، میں نے اپنے شوہر سے کہا ” سلاو!اب مزید بہانہ بنانے کی ضرورت نہیں ، تم برزنیف کو خط لکھو۔ ان سے درخواست کرو ہمارے پورے خاندان کو دو سال کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے”، سلاو حیران رہ گیا”کیا تم واقعی سنجیدہ ہو؟”
"اتنی سنجیدہ کہ اتنی سنجیدگی میں نے زندگی میں کبھی نہیں برتی۔ فرض کرو میں اگر بالشوئی میں کام کرتی رہی، تب بھی تمھارا انجام قریب ہے۔ روس کے دوسرے حساس با صلاحیت افراد نے جو راستہ اپنایا ہے تم بھی یقینی طور پر وہی راستہ اختیار کرو گے۔یا تو شراب میں ڈوب کر نالی میں گر پڑ کر مر جاؤ گے یا کوئی مضبوط ہُک تلاش کر کے پھانسی پر لٹک جاؤ گے۔”
مقدس شبیہ کے سامنے کھڑے ہو کر ہم نے قسم کھائی کہ آج جو فیصلہ ہم کر رہے ہیں ، اس کے لیے ایک دوسرے کو کوئی الزام نہیں دیں گے۔۔۔ میں اس کے بعد مطمئن ہو گئی جیسے میری چھاتی پر سے بھاری پتھر اتر گیا ہو۔ چند منٹ بعد ہی برزنیف کے نام ہمارا خط تیار تھا۔ خط بھیجے آدھا گھنٹہ ہی گذرا ہو گا کہ ہم نائب وزیر برائے ثقافتی و تہذیبی امور وسی لیاکو کراسکی کے دفتر میں بیٹھے تھے۔
"براہ کرم یہ بتائیں کہ آپ نے یہ درخواست کس وجہ سے بھیجی ہے؟ ہمیں اس ضمن میں مرکزی کمیٹی کو رپورٹ روانہ کرنی ہو گی۔”
"برسوں پرانی توہین اور اہانت، راستروپووچ کے پروگراموں کو منسوخ کرنا، ایک اہم اور با صلاحیت موسیقار کو ان کی حیثیت اور صلاحیت کے مطابق کام نہ دینا۔۔۔”
"لیکن آپ لوگوں نے پہلے اس بارے میں ہم سے بات کیوں نہیں کی؟”
"بات نہیں کی؟” سلاو چلا یا” میں نے خود برزنیف کو کئی خطوط اور تار روانہ کیے، ان سے درخواست کی کہ وہ میری زندگی کی حفاظت کریں۔ ۔۔ بات نہیں کی یا کسی نے توجہ دینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی؟”
"درخواست دینے کے بعد آپ اسے واپس نہیں لے سکتے۔ آپ یہ امید بھی نہ رکھیں کہ کوئی آپ سے درخواست واپس لینے کے لیے کہے گا۔”
"میں سمجھتا ہوں کہ آپ در اصل سمجھ ہی نہیں رہے ہیں کہ یہاں آپ کن لوگوں سے بات کر رہے ہیں "۔ میں نے کہا ” شاید کچھ دن پہلے سمجھانے بجھانے کا اثر ہوتا، لیکن اب کوئی فائدہ نہیں ، ہم فیصلہ کر چکے ہیں ، جواب کے لیے دو ہفتہ انتظار کریں گے”۔
ہم بلا توقف اپنے بچوں کو ملک چھوڑنے کا فیصلہ سنانے داچے گئے،میں تمام کمروں میں گھومی، میرے دل میں ذرہ برابر بھی دکھ یا افسوس نہیں تھا۔ اب ہم شاید زیادہ دنوں تک اس جگہ کو نہ دیکھ پائیں ، سلاو خیالوں میں گم کمرے میں اکیلا کھڑا رہا۔
"سلاو کسی کے بارے میں سوچ کر پریشان مت ہونا۔”
"میں نے اتنی محنت اور محبت سے یہ گھر بنایا تھا۔”
"گھر کی فکر مت کرو، اپنی زندگی کی کرو۔”
ہم اپنی دونوں بیٹیوں ایلنا(5اسال) اور اولگا (18 سال) کے پاس گئے۔ انھیں بڑی محبت سے بتایا کہ ہم نے دو سال کے لیے روس سے باہر گذارنے کی درخواست کی ہے۔ انھوں نے اندازہ کر لیا کہ ہم دونوں روس سے باہر جانے کے لیے کتنے مضطرب اور بے چین ہیں۔ انھوں نے اپنی خوشی چھپانے کی کوشش کی لیکن چہروں پر مسکراہٹ آ ہی گئی، اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکیں اور بے قابو ہو کر ہم سے لپٹ گئیں۔ دو ہفتہ گذر گیا۔ وزیر برائے ثقافتی و تہذیبی امور نے فون کیا کہ آپ کو، یعنی آپ اور آپ کے بچوں کو ملک سے باہر دو سال گذارنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
مجھے مزید دو ماہ ماسکو میں گذارنا تھا تاکہ اولگا موسیقی کا امتحان دے سکے۔ اس کے مستقبل کے لیے یہ امتحان بے حد ضروری تھا لیکن سلاو کو جہاں تک ممکن ہو جلد سے جلد رخصت کرنا بھی ضروری تھا۔ اگرچہ برزنیف نے بذات خود ہمیں روس سے باہر جانے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی لیکن اس کی کوئی گارنٹی نہ تھی کہ یہ اجازت واپس نہ لے لی جائے۔ سب سے زیادہ فکر مجھے اس کی تھی کہ روسی عہدیداران کہیں سمجھا بُجھا کر روس میں قیام پر آمادہ نہ کر لیں۔
میری سوچ اور شک تواس وقت دور ہو گئے تھے جب روسی افسران نے ہمیں جانے کی اجازت دی تھی لیکن بعد میں سلاو نے مجھے بتایا کہ وہ چپ چاپ باورچی خانہ میں جا کر رویا کرتا تھا۔ اس جیسا ذہین شخص اور با صلاحیت فن کار اب بھی پر امید تھا کہ روسی عہدیداران فن کی دنیا میں اس کا بائیکاٹ ختم کر دیں گے اور اسے وہیں رہنے کی درخواست کریں گے اور وہ بلا توقف ان کی بات مان لے گا۔ وہ اب بھی اپنے ملک، اپنے عوام کے لیے کام کرنا چاہتا تھا۔
سلاو کو رخصت کرنے اس کے دوست احباب اور شاگرد ایئر پورٹ پر آئے، مشکوک انداز میں پولس کے سپاہی بھی آس پاس منڈلا رہے تھے۔ سلاو کی یہ رخصتی آخری رسومات کی طرح تھی۔ ایئر پورٹ کے باہر سب بھاری دل اور بوجھل پلکیں لیے کھڑے تھے۔ وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا۔ یکایک سلاو نے میرا بازو پکڑا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ مجھے کھینچتا ہوا کسٹم کی جانچ کرانے چل دیا۔
"میں اب اور زیادہ ان کے ساتھ نہیں رہ سکتا، یہ لوگ اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے میں کوئی لاش ہوں۔ ”
کسی سے ملے بغیر وہ دروازے کے پیچھے غائب ہو گیا۔ مجھے اس کے ساتھ جانے دیا گیا۔
"اپنا سوٹ کیس کھولو، کیا آپ کا کل سامان یہی ہے؟”
"ہاں "، سلاو نے سوٹ کیس کھول دیا، کسٹم افسران تلاشی لینے لگے۔ دوسرے افسر نے اس کا بٹوہ لے لیا اور میرے محبت نامے پڑھنے لگا۔ سلاو انھیں ہمیشہ اپنے پاس رکھتا تھا۔ افسر انھیں پڑھتا رہا اور ہم کھڑے دیکھتے رہے، مجھے یوں لگا جیسے میں بدنام زمانہ گستاپو کے شکنجے میں ہوں۔
"ان چھوٹے چھوٹے ڈبوں میں کیا ہے؟”
"یہ میرے اعزاز و تمغے ہیں بیرون ممالک سے ملے اور غیر ملکی اداروں سے دیے ہوئے اعزازات اور تمغے۔”
ڈبوں کو کھول کر میز پر بچھا دیا گیا۔ مقدس زمین کی تعمیرو ترقی اور ماسکو کی آٹھ سویں سالگرہ پر سلاو کو یادگاری تمغہ دیا گیا تھا، وہ بھی اس میں شامل تھا۔ یہ تمغہ ماسکو کے ہر شہری کو دیا گیا تھا۔
کسٹم افسران نے ٹین کے یہ دونوں تمغے راستروپووچ کی جانب بڑھا دیے،”آپ انھیں لے جا سکتے ہیں، باقی نہیں ، یہ سونا ہے۔”
سلاو کا پورا جسم کانپنے لگا” سونا؟ نہیں یہ سونا نہیں ، یہ میرا لہو ، میری زندگی ہیں ، میرے فن کا انعام ہیں ، میں نے اپنے ملک کی عزت بڑھائی ہے، اس کے وقار میں اضافہ کیا ہے، لیکن تمھارے نزدیک یہ تمغے صرف سونا ہیں ، تمھیں کیا حق ہے کہ۔۔۔”
سلاو جذبات سے بے قابو ہو رہا تھا، میں نے اسے کھینچ کر خاموش کیا اور دوسرے کونے میں لے گئی، میز کے پاس لوٹ کر میں نے سوٹ کیس سے پاجامہ نکالا اور اس کے سِروں پر گانٹھ لگائی اور تمغوں کے سارے ڈبے اس میں بھر لیے، سلاو دونوں ہاتھوں میں وائلن لیے پاسپورٹ کی جانچ کرانے چلا گیا۔ میں پاجامے کو کاندھے پر ہینڈ بیگ کی طرح لٹکائے، رخصت کرنے والوں کے درمیان لوٹ آئی۔
"آپ کے کندھے پر کیا ہے ؟” لوگوں نے پوچھا۔
"سلاو کے تمغے واپس لے جا رہی ہوں۔ سوویت یونین سے جو تمغے باہر لے جاسکتے ہیں وہ نِرے گوبر کے ہیں۔ ”
بعد میں برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے ریڈیو پروگرام میں ہم نے لندن ایئرپورٹ سے سلاو کی آواز سنی،” میں روسی حکومت کا ممنون ہوں ، اس نے ہماری حالت پر توجہ دی اور دو سال باہر گذارنے کی اجازت مرحمت فرمائی، میرے بیوی بچے ابھی روانہ نہیں ہوئے ہیں۔ ”
میں ایک ایک دن گننے لگی، کب وہ گھڑی آئے گی جب اس ملک سے جاؤ ں گی، اس ملک سے جس سے اور جس کے بالشوئی تھیٹرسے میرا اتنا پرانا رشتہ ہے۔ بالشوئی تھیٹر جسے میں نے اپنا حسن، اپنے جذبات، اپنا فن، اپنی نوجوانی، اپنا خون اور اپنی صلاحیت سبھی کچھ تو پیش کر دیا تھا۔
26جولائی1974۔۔۔ ہم ہوائی جہاز میں سوار ہیں۔ یا خدا!ہم اتنی دیر سے یہاں کیوں بیٹھیں ہیں ، جہاز چل کیوں نہیں رہا؟ جہاز میں جب کوئی نیا مسافر داخل ہوتا تو میں لرز اٹھتی، شاید وہ ہمیں تلاش کرنے آیا ہو، اب ہم سے اترنے کے لیے کہا جائے گا۔ اگر کچھ دیر اور یہی حالت رہی تو میرا دل بیٹھ جائے گا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں اور ایک ایک لمحے گننے لگی، بالآخر جہاز کے دروازے مضبوطی سے بند کر دیے گئے اور وہ اڑن پٹی پر بڑھنے لگا۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، جہاز کانپنے لگا، اس کی رفتار تیز ہو گئی۔۔۔ تیز تر، اب زمین سے اٹھنے لگا، مجھے میخائل لے من توف کی نظم کے ابتدائی مصرعے یاد آ گئی:
ہمیشہ کے لیے رخصت، بھولے بھالے روس!
حاکموں اور غلاموں کے وطن،
آنکھوں میں آنسو آ گئے، کچھ دیر پہلے میرے بچوں کے چہرے خوشی سے کھلے ہوئے تھے لیکن اب ان کی آنکھوں سے خوف اور تشویش جھلک رہی تھی۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ مجھے اس عالم میں دیکھیں۔ سسکیاں روکنے کی کوشش کرتے ہوئے چہرہ کھڑکی سے لگا دیا۔نیچے اپنی سرزمین دکھائی دے رہی تھی۔ سیاہ چوڑے فیتے کی طرح، میرے پیروں کے نیچے سے تیزی سے پھسلتی جا رہی تھی، میں آسمان میں اوپر اور اوپر اٹھتی جا رہی تھی۔
آسمان میں جتنا اوپر اٹھتی جا رہی ہوں ، اتنا ہی حیرت انگیز طور پر آسمان کا رنگ سورج کی کرنوں سے بدلتا جا رہا ہے، اچانک اس کا رنگ زمردی ہرے رنگ کی چراگاہ میں تبدیل ہو گیا، جیسے موسم بہار کی بوچھار سے نہا گیا ہو۔ مجھے محسوس ہوا کہ سفید لباس پہنے، بالوں میں لال ربن باندھے ایک چھوٹی سی لڑکی چراگاہ میں دوڑ رہی ہے، اب وہ زمین چھوڑ کر ہوا میں اڑنے لگی اور ہاتھ پھیلا کر مجھ سے التجا کرنے لگی،
لوٹ آؤ۔۔۔وا۔۔۔ پس۔۔۔ لو۔۔۔ٹ۔۔۔آ۔۔۔ؤ!
ارے یہ چھوٹی لڑکی میں ہی تو ہوں۔ ۔۔۔ گالیا اتس تسکا۔
یا خدا میری مدد کر، مجھے سہارا دے، میری حفاظت کر، مجھ پر رحم کر۔
الوداع!
وہ بچی چھوٹی اور چھوٹی ہوتی جا رہی ہے۔ اب وہ صرف ایک دھبا بن گئی ہے، کچھ دیر بعد آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔ زمین بے شکل، بے رنگ۔
اور سفید بادل پردے کی طرح اسے چاروں طرف سے ڈھک لیتے ہیں۔
پس نوشت:
روس سے آنے کے چار سال بعد گلینا وشنوسکی اور مستی سلاو راستروپووچ کی سویت روسی شہریت ختم کر دی گئی۔ وہ اب واشنگٹن ڈی سی میں امریکہ کی نیشنل سمفنی آرکسٹرا کے ڈائریکٹر ہیں۔ 1981 میں گلینا نے پیرس میں اوپیرا سے ریٹائرمنٹ لے لیا۔ اس موقع پر انھوں نے چائی کووسکی کے اوپیرا یوگینی انیگن کی اداکارہ تاتیانا کا کردار ادا کیا۔ بالشوئی تھیٹر کے اسٹیج پر پہلی بار انھوں نے یہی کردار نبھایا تھا۔
راسترو پووچ نے دسمبر 1988 میں دہلی، کولکاتہ، بنگلور اور ممبئی اور جنوری 1989 کو گوا میں اپنا فن پیش کیا تھا۔
ترجمہ: شاہد ندیم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے