غم کا باب وا ہوا

غم کا باب وا ہوا
دل کا حق ادا ہوا
دل بنا، دوا ہوا
درد کیا سے کیا ہوا
تم مٹے کہ ہم مٹے
جو ہوا برا ہوا
میرا تذکرہ ہی کیا
میں تو بیوفا ہوا
یہ کرم بجا مگر
وہ غرور کیا ہوا
ہم کہیں بھی کچھ تو کیا
تو نے جو کہا ہوا
باقیؔ ان سے مل کے درد
اور بھی سوا ہوا
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے