گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر

گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی

مر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی

سب ہی پڑھتا کاش کیوں تکبیر آدھی رہ گئی

کھنچ کے قاتل جب تری شمشیر آدھی رہ گئی

غم سے جان عاشق دلگیر آدھی رہ گئی

بیٹھ رہتا لے کے چشم پر نم اس کے رو برو

کیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو برو

بات کرنے میں نکلتا ہے دم اس کے رو برو

کہہ سکے ساری حقیقت ہم نہ اس کے رو برو

ہم نشیں آدھی ہوئی تقریر آدھی رہ گئی

تو نے دیکھا مجھ پہ کیسی بن گئی اے راز دار

خواب و بیداری پہ کب ہے آدمی کو اختیار

مثل زخم آنکھوں کو سی دیتا جو ہوتا ہوشیار

کھینچتا تھا رات کو میں خواب میں تصویر یار

جاگ اٹھا میں کھینچنی تصویر آدھی رہ گئی

غم نے جب گھیرا تو چاہا ہم نے یوں اے دلنواز

مستی چشم سیہ سے چل کے ہو ویں چارہ ساز

تو صداے پا سے جاگا تھا جو محو خواب ناز

دیکھتے ہی اے ستمگر تیری چشم نیم باز

کی تھی پوری ہم نے جو تدبیر آدھی رہ گئی

اس بت مغرور کو کیا ہو کسی پر التفات

جس کے حسن روز افزوں کی یہ اک ادنی ہے بات

ماہ نو نکلے پہ گزری ہوں گی راتیں پان سات

اس رخ روشن کے آگے ماہ یک ہفتہ کی رات

تابش خرشید پر تنویر آدھی رہ گئی

تا مجھے پہنچائے کاہش بخت بد ہے گھات میں

ہاں فراوانی اگر کچھ ہے تو ہے آفات میں

جز غم و رنج و الم گھاٹا ہے ہر یک بات میں

کم نصیبی اس کو کہتے ہیں کہ میرے ہات میں

آتے ہی خاصیت اکسیر آدھی رہ گئی

سب سے یہ گوشہ کنارے ہے گلے لگ جا مرے

آدمی کو کیوں پکارے ہے گلے لگ جا مرے

سر سے گر چادر اتارے ہے گلے لگ جا مرے

مانگ کیا بیٹھا سنوارے ہے گلے لگ جا مرے

وصل کی شب اے بت بے پیر آدھی رہ گئی

میں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھر گئے

پر نصیب اپنا انھیں جاتا سنا جوں پھر گئے

دیکھنا قسمت وہ آئے اور پھر یوں پھر گئے

آکے آدھی دور میرے گھر سے وہ کیوں پھر گئے

کیا کشش میں دل کی اب تاثیر آدھی رہ گئی

ناگہاں یاد آگئی ہے مجھ کو یارب کب کی بات

کچھ نہیں کہتا کسی سے سن رہا ہوں سب کی بات

کس لیے تجھ سے چھپاؤں ہاں وہ پرسوں شب کی بات

نامہ بر جلدی میں تیری وہ جو تھی مطلب کی بات

خط میں آدھی ہو سکی تحریر آدھی رہ گئی

ہو تجلی برق کی صورت میں ہے یہ بھی غضب

ہاں چھ گھنٹے کی تو ہوتی فرصت عیش و طرب

شام سے آتے تو کیا اچھی گزرتی رات سب

پاس میرے وہ جو آئے بھی تو بعد از نصف شب

نکلی آدھی حسرت تقریر آدھی رہ گئی

تم جو فرماتے ہو دیکھ اے غالبؔ آشفتہ سر

ہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے گیا کیوں اس کے گھر

جان کی پاؤں اماں باتیں یہ سب سچ ہیں مگر

دل نے کی ساری خرابی لے گیا مجھ کو ظفر

واں کے جانے میں مری توقیر آدھی رہ گئی

مرزا اسد اللہ خان غالب

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے