غضب کرپشن کی عجب کہانی

 

غضب کرپشن کی عجب کہانی

ہمارے ملک کی ترقی کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے۔اس ملک میں چند افراد کو چھوڑ کر صرف وہی کرپشن نہیں کرتا جس کو موقع نہیں ملتا۔ورنہ حسب توفیق سب اس کرپشن کی لعنت سے اپنے اعمال کو داغدار کر رہے ہیں اور ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔کرپشن ایک اسٹرا کی مانند ہے جو ہمارے ملک کے جسم کے ہر مسام میں پیوست ہے اور جسم کی طاقت کو نچوڑ رہا ہے۔ایک غلط فہمی کا ازالہ کرنا بھی ضروری ہے کہ کرپشن صرف روپے پیسے کی ہوتی ہے بلکہ ہر طرح کی بے ایمانی،قانون شکنی،اختیارات سے تجاوز کرنااورہر قسم کی امانت میں خیانت کرنا کرپشن ہی کے زمرے میں آتا ہے۔ آپ کے کام کا وقت جس کی آپ اجرت لیتے ہیں اس وقت میں وہ کام نہ کرنا اور وقت ضائع کرنا بھی کرپشن ہے۔جس کرسی پر آپ براجمان ہیں اس کے تقاضے پورے نہ کرنا بھی کرپشن ہے۔اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنا اور اپنی طاقت کے بل بوتے پر سرکاری مال میں خیانت کرنا اور اس سے اپنے ذاتی اثاثوں میں اضافہ کرنابھی کرپشن کی بد ترین صورت ہے۔یہاں یہ عالم ہے کہ پیسے لیتے پکڑے جاؤ اور پیسے ہی دے کر چھوٹ جاؤ۔ہم صرف حکمرانوں کو روتے ہیں لیکن بڑی معذرت کے ساتھ یہ کرپشن کم یا ذیادہ خودہمارے لہو میں شامل ہو چکی ہے۔غور طلب نکتہ یہ ہے کہ جس کو پانچ ملتے ہیں وہ پانچ نہیں چھوڑتا،جسے دس ملتے ہیں دس نہیں چھوڑتا،اسی طر ح جسے کروڑ ملے وہ کروڑ کیوں چھوڑے گا؟؟؟دوسری طرف حیرت کی بات وہ دہرا معیار ہے کہ مسجد سے جوتا چور کو باندھ کر مارنا سب کے لیے باعث اجر و ثواب ہے اور کروڑوں کی چوریاں کرنے والے کی جوتیاں سیدھی کرنا بھی ہمارے ہاں عین عبادت سمجھی جاتی ہے۔ ایک طالب علم لاکھوں کی کرپشن نہیں کر سکتا لیکن وہ نقل کر سکتا ہے تو وہ اس میں دل و جان سے ملوث پایا جاتا ہے اور پورا ذہن لڑا کر نقل کا ہر طریقہ آزماتا ہے۔ایک کنڈیکٹر لاکھوں کی کرپشن نہیں کر سکتا لیکن وہ انجان مسافروں سے کرایہ ذیادہ لینے کی کوشش ضرور کرتا اور بقایا واپس نہ کرنے جیسی کرپشن کا اہتمام ضرور کرتا ہے۔ایک دودھ والا ڈنکے کی چوٹ پر دودھ میں پانی ملاتا ہے اور اس پر اپنی ایمانداری پر بھی اتراتا ہے کہ قسم لے لیں صرف پانی ہی ملاتا ہوں۔پٹرول پمپ والا پیمانہ کم کر کے سارا دن کی کمائی کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے کہ آج میرے بچے صحیح عیاشی کریں گے۔ایک ریڑھی والا بھی مال کوئی اور دکھائے گا اور نظریں چرا کر برا مال آپ کے سر تھوپ دے گا اور خوش ہو گا کہ لو میں اس گاہک کو بھی دھوکا دینے میں کامیاب ہو گیا۔ایک خاکروب جس کو آپ اس معاشرے کا کمزور ترین فرد سمجھ سکتے ہیں،وہ اپنی تنخواہ کے باوجود صرف اس گھر سے کوڑا اٹھائے گا جس سے اس کو ماہانہ پیسے ملتے ہوں گے۔باقیوں کی بات تک نہیں سنے گا اور آپ اس کے متعلقہ افسر کو اس کی شکایت بھی نہیں کر سکتے کیوں کہ وہ خود اپنی کرپشن کی وجہ سے اس کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتا۔وہ خاکروب اسی افسر کو پیسے دے کر ہی تو چھٹی کرتا ہے۔ایک استاد پورا وقت بچوں کو پوری دلجمعی سے نہیں پڑھاتا،ایک عالم منبر پر حق سچ بات بیان نہیں کرتا۔ہر شخص ملاوٹ کے زریعے اپنا مال دو گنا کرنے کے چکر میں ہے۔ غرض آپ یہاں اس موضوع پر کس کی مثال چھوڑ سکتے ہیں۔یقین مانیے اگر ہم خود کرپٹ نہ ہوتے تو حکمرانوں کی کرپشن کو کبھی گوارا نہ کرتے۔ان کے دھوکے میں کبھی نہ آتے۔ان کی رسی کبھی دراز نہ کرتے۔یہ حکمران اتنے بڑے بڑے غبن کرنے کے باوجود کبھی علی الاعلان یہ نہ کہتے کہ ہم عوام کی عدالت میں اپنا مقدمہ لڑیں گے۔انھیں علم ہے کہ عوام خود اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔عوام کے مزاج میں کرپشن رچ بس گئی ہے۔ہمارے تو بڑے بڑے وزیر فرما گئے کہ ڈکری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی۔حیرت ہے کہ جس ملک کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا ہوا ہو وہ ملک اتنے سالوں سے پھر بھی چل رہا ہے۔یقینا ابھی بھی پروردگار کا بہت بڑا فضل ہے۔اس کرپشن کے حل کی بات کریں تو اس کا حل بھی بہت مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس کا حل صرف سزائیں دینا ہے لیکن سوال یہ ہے سزا کون دے گا؟سزا تو وہ دے جس کے ہاتھ خود صاف ہوں۔جس کا دامن پاک ہو گا۔سزا دینے والے کو ہی تو سب سے ذیادہ خوف ہے کہ اگر سزا دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا تو پھر قانون کے ہاتھ خود اس کے گریبان تک بھی آ جائیں گے۔اس لیے قانون پر عمل درآمد کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی وہ خود ہی ہے۔ہمارے آقاؐ کا فرمان ہے جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔جس نے ذخیرہ اندوزی کی،جھوٹ بولا اس پر لعنت ہے۔واضح حکم ہے کہ کسی کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ۔لیکن آج کسی کو کسی کی پرواہ نہیں۔کوئی خوف خدا نہیں۔اپنے اپنے دائرہ اختیار میں سب اس میں ملوث ہیں بس رسائی اور پہنچ کا فرق ہے۔شاید حالات کسی بڑے انقلاب کے انتظار میں ہیں۔آج اگر ہمارے ملک میں کرپشن نہ ہوتی تو یہ دنیا کا سب سے خوش حال ملک ہوتا۔یہاں رہنا کسی کا خواب ہوتا۔یہ دنیا میں مثل چمن ہوتا۔لیکن کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا۔

اویس خالد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے