گھر کا رستہ بھولنے والے کی خیر

گھر کا رستہ بھولنے والے کی خیر
شہرِ یاراں چھوڑنے والے کی خیر

چار دن کی دل لگی کے واسطے
میرے دل سے کھیلنے والے کی خیر

بےوفائی کا گلہ کس سے کروں
مجھ کو تنہا چھوڑنے والے کی خیر

سرخ پھولوں کی بجائے تحفتاً
زرد کلیاں بھیجنے والے کی خیر

کرچیاں بکھری ہوئی ہیں چار سُو
شیشہء دل توڑنے والے کی خیر

لمحہء فرصت,میں روٹھے یار کو
بےتحاشا سوچنے والے کی خیر

جو برا چاہے اسی کا ہو بھلا
سب کا اچھا چاہنے والے کی خیر

بعد از بہتان مجھ کو گاڑ کر
پہلا پتھر مارنے والے کی خیر

منزہ سید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے