غیب کے دشت میں ہوتے ہیں ٹھکانے میرے

غیب کے دشت میں ہوتے ہیں ٹھکانے میرے
بیٹھی رہتی ہے سدا یاد سرہانے میرے
رات آتے ہی اگر نیند سفر پہ نکلوں
مجھ سے ملتے ہیں کئی خواب پرانے میرے
وقت بے وقت کے رونے کا نتیجہ ہے کہ اب
زنگ آلود ہوئے آئنہ خانے میرے
مجھ کو معلوم نہیں ہے شبِ فرقت کی قسم
کس طرح ختم کیے اشک خدا نے میرے
ہے جو اک پیڑ اداسی کا مرے آنگن میں
وہ مجھے روز سناتا ہے فسانے میرے
صورتِ حال سے معلوم ہُوا ہے مجھ کو
ہیں جہاں بھر کے سبھی درد دوانے میرے
مجھ کو تنہائی سرِ شام بتاتی ہے سعید
کیسے گم گشتہ ہوئے سارے زمانے میرے
مبشر سعید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے