جینیٹک کوڈ

’’جینیٹک کوڈ‘‘
زمانے بھر کے کھیتوں میں
مری قسمت کا گیہوں اُگ رہا ہے۔
رسوئی میں مری گندم کی تالی بج رہی ہے ۔
کھڑے پانی میں دھانی اوڑھ کر لہراتے چاول پر وحید احمد لکھا ہے۔
جڑوں کو کھول کر سوندھے اندھیرے میں
میں دھرتی ماں کے رس کو چوستا ہوں۔
کوئی پھولے تھنوں کو بھینچ کر
میری رسیلی دھار کو پیتل پہ لیتا ہے
تو تازہ دودھ پر جو جھاگ ہنستا ہے،سراسر باپ جیسا ہے۔
چمکتے چاند کی پیڑھی پہ بیٹھی میری نانی
میرے تن کا سوت بنتی ہے۔
مری سانسوں میں سورج کی ہمکتی ہانپ چلتی ہے۔
مری آنکھوں میں تاروں کی سلگتی آنچ ہلتی ہے۔
کہیں پر کہکشاں کی راکھ میں تارے دبے تھے
میری ماں نے وہ مٹھی بھر کے اپنی کوکھ بھر لی تھی
تو میں پیدا ہوا تھا۔
سمندر ہے
سمندر میں مجھے بجرا پڑا ہے۔
مری قسمت پڑی کے کوڈ میں
میرے لہو کی روشنائی سے لکھا
شجرہ پڑا ہے۔
وحید احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے