جنریشن گیپ

جنریشن گیپ
السلام عليكم
کل بات ہو رہی تھی زمانہ کی تیز رفتاری اور بڑھتے ہوئے جنریشن گیپ کے بارے میں ۔ دیکھیں جنریشن گیپ تو ہر زمانے میں ہوتا ہے ، زمانہ ترقی کرتا جائے گا جو وقت کے ساتھ چلے گا وہ کامیاب ہے جو پیچھے رہ جائے گا وہ صرف اپنا نقصان کرے گا ، اس سے کسی اور کو کوئی فرق نہیں پہنچے گا ۔
کچھ لوگ being old school اور زمانے کے ساتھ evolve نا ہونے کو مکس اپ کر دیتے ہیں ۔ میں آپکو کسی کی مثال نہیں دے سکتی، اپنے گھر کی دوں گی کیونکہ میں کسی اور کے گھر میں 24 گھنٹے نہیں گزارتی ۔
پہلے تو یہ سمجھنے کی بات ہے کہ دنیا 5 سال کے بچے کو xbox دے رہی ہے یا play station ، وہ دنیا کی صوابدید پر منحصر یے ۔ اپنے بچے کی wellbeing کے ذمہ دار آپ خود ہیں ۔ بچے کے لئیے ٹائم نکا لیں ۔ اسے کرکٹ، soccer , جوڈو کراٹے جو بھی physical activity آپ کی جیب اور وقت اجازت دے اس طرف ڈالیں ۔ مٹی میں کھیلنے والا اور گندم کھانے والا بچہ کم ہی بیمار ہوتا یے ۔
اپنے بچپن سے اپنے بچے کا بچپن انکے سامنے compare مت کریں اس سے بچہ اپنے آپ کو superior محسوس کرتا ہے ۔ ہاں بچوں کو زندگی کی آسانی اور انکی خوش قسمتی کا احساس دلوائیں ۔
مثال کے طور پر میں بچیوں کو کہتی ہوں کہ تم لوگ رات کے گیارہ بجے باہر بائیسکل چلا لیتے ہو، جوگنگ کر لیتے ہو ۔ جب ہم تمہارے ہم عمر تھے تو یہ ممکن نا تھا ، تم لوگ خوش قسمت ہو، اللہ کا شکر ادا کرو ۔
بچہ اگر ٹیکنالوجی میں ایڈوانس ہے تو اسکو appreciate کریں یہ لائف skill ہے ماشاءاللہ آپکا بچہ ذہین ہے اور اسکو اس رخ سے دیکھیں کے آپکے بچپن میں Ipad , home printers تھے ہی نہیں اگر ہوتے تو آپ بھی سیکھ جاتے ۔
ہماری ٹین ایج میں ماں باپ خصوصا باپ بچیوں سے شادی کے موضوع پر بات نہیں کیا کرتے تھے ، میری رخصتی سے ایک ہفتہ پہلے میرے چچا نے مجھ سے پاکستان چھوڑنے ، جوائنٹ فیملی سچوئیشن اور کچھ اور باتیں کیں ۔ آخر میں کہا کہ باپ عموما بیٹیوں سے یہ باتیں نہیں کرتے لیکن میرا فرض تھا میں تمکو بتاوں ۔
It was a huge thing for him cause at that time this type of conversation was not usual between father figures and daughters .
لیکن میرے میاں صاحب اپنی بچیوں سے اعلی تعلیم اور شادی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر انھیں کہتے ہیں کہ بچہ ٹی وی ، دوست، فون سب یہیں رہ جائے گا ۔ لیکن یہ 5 سال بہت crucial ہیں یہ وقت واپس نہیں آئے گا ۔ اگر آپ extra ordinary کام نہیں کریں گی تو معمولی سے کالج کے چار سال پورے ہونے کے بعد مجھے آپکی شادی کرنی پڑے گا ۔ یہی دنیا کا دستور ہے ، لیکن دوسری طرف اگر آپ کچھ بن رہی ہیں ، Ivy league collage ہے سکالر شپ ہے تو سر دھڑ کی بازی لگا دو be something extra ordinary ۔ I am standing beside you and will honor your each and every decision.
کوشش کریں کہ چھوٹی موٹی چیزیں سیکھیں ، ہمارے گھر کا اصول ہے کہ سب کے email pwd اور سوشل میڈیا اکاونٹ pwd ایک جیسے ہیں ۔ گھر میں پاکستانی اور انڈین ٹی وی ڈرامہ کوئی نہیں دیکھتا ۔ at least اس عادت کو پروموٹ نہیں کیا جاتا ۔
بچوں کو ہمیشہ کہتے ہیں کہ جو بھی پہنو ، decent لگو، اپنے وقت کا اور انکے وقت کا کوئی موازنہ نہیں ۔
ہمیں snap chat نامی بلا بہت عجیب لگتی ہے لیکن صرف بچوں کے snap chat اکاونٹ میں in رہنے کی خاطر ہم نے اسکو سیکھا ۔
بچیوں کو کھانا پکانا گھر کے کام کاج اس نیت سے نا سکھائیں کے دنیا کیا کہے گی بلکہ بچے کو کہیں کہ لڑکا ہو یا لڑکی بچہ یہ life skill ہے اسکو سیکھو ۔ آدمی کو ہر کام آنا چاہئیے ۔
جنریشن گیپ کو بڑھنے نا دیں،اس ناگن کا سر پکڑ کر رکھیں ۔ بچوں کو یہ پتا ہو کہ باس کون ہے ۔ اور یہ اپنے عمل سے ثابت کریں ڈرائیں دھمکائیں مت ۔
ہمارے وقت میں اگر کسی کام کے لئیے اجازت درکار ہوتی اور جواب نا میں آتا تو اتنی ہمت نا ہوتی کہ پوچھ لیں بھئی آخرکار اجازت نا دینے کی وجہ کیا ہے ، کیونکہ straight up no ہو جایا کرتی تھی۔ لیکن ہم نے اس پریکٹس کو فالو نہیں کیا ۔ ہم بچوں کو explain کرتے ہیں کہ اس کام کو کرنے کی اجازت نا دینے کی کیا وجہ ہے ۔ ہمیں لگتا ہے کہ ایسے بچہ چور دروازے نہیں ڈھونڈتا ۔
بچے کے سامنے کبھی اپنی کمزوری نا show کریں ، آپ بچے کے supper man or supper woman ہیں . بچہ چاہے 5 سال کا ہو چاہے اٹھارہ کا اسے کوئی مسئلہ ہو تو وہ سیدھا آپکے پاس آئے ۔ درمیان میں کوئی مڈل مین نہیں ہونا چاہئیے ۔ بچے کے ذہن میں بچپن سے یہ بات ڈال دیں کہ بچہ اپنے پاوں پر کھڑے ہونا ہے
Otherwise
کوئی زندگی نہیں ۔
سیکھیں سیکھیں سیکھیں اور بس نئی چیزیں سیکھتے رہیں ۔ زمانے کے ساتھ چلیں، جو پیچھے رہ گیا وہ رہ گیا ، یہ ٹرین کسی کے لئیے نہیں رکے گی ۔
اپنی اقدار کو زمانے کے ساتھ لے کر چلیں انھیں مت چھوڑیں ۔ تمیز تہذیب ، پہناوا evolve ہو جگہ اور زمانے کے ساتھ لیکن جڑ وہی رہے ۔
ف ع

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے