گیلی ہجر کی قبریں

گیلی ہجر کی قبریں
کفن اس کی رداؤں کا
تعفن ہے صداؤں کا
کہ ہنگامہ سا برپا ہے
خموشی کی اداؤں کا
سلگتی ہے
سسکتی ہے
قیامت سی گزرتی ہے
جو لمحات جدائی کو
کسی اجلی سی چادر میں اٹھاتے ہیں
زمیں میں جیسے مردے کو دبا کر لوٹ آتے ہیں
مگر وہ بھول جاتے ہیں
یہ قبریں ہجر کی نیلی
ہمیشہ گیلی رہتی ہیں
نیل احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے