گردش کے انتخاب کی حالت میں مرگیا

گردش کے انتخاب کی حالت میں مرگیا
گرداب اضطراب کی حالت میں مرگیا

سورج کی خودکشی نے نظارے بجھا دیے
اور آسماں سراب کی حالت میں مرگیا

اس خوابناک شہر میں دیکھا کسی نے کب
اک شخص ماہ تاب کی حالت میں مر گیا

جو راستہ تمہاری محبت کا فیض تھا
اک روز وہ شباب کی حالت میں مر گیا

پھر ڈھونڈتی رہی اسے تعبیر کوبکو
جو ایک خواب خواب کی حالت میں مر گیا

خوشبو کے ساتھ میری نہیں بن سکی عتیق
میں باغ میں عتاب کی حالت میں مرگیا

ملک عتیق

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے