Gar Ishq sy Kuch mujh par

گر عشق سے کچھ مجھ کو سروکار نہ ہوتا
تو خوابِ عدم سے کبھی بیدار نہ ہوتا

یارب میں کہاں رکھتا ترا داغِ محبت
پہلو میں اگر میرے دلِ زار نہ ہوتا

دنیا میں تو دیکھا نہ سوائے غم و اندوہ
میں کاشکے اِس بزم میں ہشیار نہ ہوتا

یوں نالہ پریشاں نہ نکلتا یہ کبھی آہ
سینے میں جو میرا یہ دل افگار نہ ہوتا

خمیازے بہت کھینچتا پھرتا میں جہاں میں
گر تیری مئے عشق سے سرشار نہ ہوتا

کرتا میں حسنِ قُدس کے عالم ہی میں پرواز
ہستی کا اگر اپنی گرفتار نہ ہوتا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے