گاؤں کی رانی​

گاؤں کی رانی

چینا پر بیٹھ کر ہم نے جن دیہاتوں کو دیکھا تھا، آئیے، ان میں سے ایک کی طرف چلتے ہیں۔ کھیتوں پر کھینچی ہوئی متوازی لکیریں کھیتوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان میں سے بعض محض دس فٹ چوڑے ہیں اور انہیں پتھر کی دیواریں سہارا دیے ہوئے ہیں جن کی اونچائی تیس فٹ تک ہے۔ ان تنگ کھیتوں میں ہل چلانے کے لیے کہ جن کے ایک طرف پہاڑی اور دوسری طرف عمودی ڈھلوان ہو، کافی خطرناک کام ہے اور اس کے لیے چھوٹا ہل اور مقامی طور پر پائے جانے والے مویشی ہی استعمال ہوتے ہیں جو سخت جان اور مختصر جسامت کے ہوتے ہیں اور ان کو پہاڑی ڈھلوان پر چلنے کی عادت ہوتی ہے۔ وہ جفاکش لوگ جو ان کھیتوں کو بناتے اور کاشت کرتے ہیں، خود پتھر سے بنے گھروں کی قطاروں میں رہتے ہیں جن پر سلیٹ کی چھتیں ہوتی ہیں۔ یہ گھر بھابھر سے میدان کو جانے والی تنگ اور خستہ حال سڑک پر بنے ہوتے ہیں۔ اس دیہات کے لوگ مجھے پہچانتے ہیں کہ ایک بار جب انہوں نے ہرکارے کے ذریعے نینی تال سے مجھے تار بھجوایا تھا اور میں موکما گھاٹ سے فوراً ہی آدم خور سے ان کی جان بچانے پہنچ گیا تھا۔
مجھے اس طرح بلوانے کا سبب جو واقعہ بنا، وہ دوپہر کے وقت ان گھروں کے عین پیچھے ایک کھیت میں ہوا تھا۔ ایک عورت اپنی بارہ سالہ بیٹی کے ساتھ گندم کاٹ رہی تھی کہ اچانک شیر نمودار ہوا۔ لڑکی بچاؤ کے لیے اپنی ماں کی سمت بھاگی اور شیر نے اس پر پنجہ مار کر اس کا سر تن سے الگ کر دیا اور ابھی اس بچی کی لاش زمین پر نہیں گری تھی کہ شیر اسے اٹھا کر بھاگ گیا۔ اس بچی کا سر اس کی ماں کے قدموں کے پاس جا گرا۔ ہنگامی تار بھی ترسیل میں بہت وقت لگاتے ہیں اور مجھے ہزار میل سے زیادہ کا فاصلہ بذریعہ ریل طے کر کے آنا تھا اور آخری بیس میل کا پیدل سفر بھی تھا۔ سو تار کی روانگی سے میری آمد کے درمیان ایک ہفتہ گزر گیا تھا اور اس دوران آدم خور نے ایک اور شکار کر لیا تھا۔
اس بار ایک عورت اس کا شکار بنی جو اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ برسوں تک نینی تال میں ہمارے صحن سے ملحق ایک گھر میں رہتی تھی۔ یہ عورت کئی دوسری عورتوں کے ساتھ گاؤں کے اوپر پہاڑی پر گھاس کاٹ رہی تھی شیر نے حملہ کیا اور اس کی ساتھی عورتوں کے سامنے اٹھا کر بھاگ گیا۔ عورتوں کی ڈری ہوئی چیخوں کی آواز سن کر گاؤں سے مرد جمع ہوئے اور انہوں نے نہایت بہادری سے شیر کو بھگا دیا۔ ہندوستانیوں کے اعتبار سے کہ میں ان کا تار ملتے ہی پہنچ جاؤں گا، انہوں نے اس عورت کی لاش کو چادر میں لپیٹ کر ایک تیس فٹ اونچے درخت کی بالائی شاخ سے لٹکا دیا۔ بعد کے واقعات سے اندازہ ہوا کہ شیر کہیں پاس لیٹ کر یہ سب دیکھ رہا تھا کہ بصورتِ دیگر شیروں میں سونگھنے کی حس نہیں ہوتی اور وہ اس لاش کو کبھی تلاش نہ کر پاتا۔
جب ان عورتوں نے نینی تال یہ اطلاع دی، متوفیہ کا شوہر میری بہن میگی کے پاس آیا اور اسے اس واقعے کی اطلاع دی۔ اگلی صبح پو پھٹتے ہی میگی نے ہمارے کچھ آدمیوں کو اس لاش والے درخت مچان بنانے کو بھیج دیا کہ میں اس روز پہنچنے والا تھا۔ گاؤں سے مچان کا سامان لے کر یہ لوگ دیہاتیوں کے ساتھ لاش والے درخت کو پہنچے تو دیکھا کہ شیر نے اس درخت پر چڑھ کر کمبل پھاڑا اور لاش کو لے کر فرار ہو گیا تھا۔ ایک بار پھر انتہائی دلیری سے، کہ وہ سب غیر مسلح تھے، انہوں نے نشانات کا پیچھا کیا اور ادھ کھائی لاش تلاش کر کے اس کے ساتھ موجود درخت پر مچان باندھ دی۔ جونہی مچان مکمل ہوئی، نینی تال سے ایک شکار اتفاق سے وہاں آن پہنچا اور میرے ساتھیوں سے کہا کہ وہ میرا دوست ہے اور انہیں واپس بھیج کر خود مچان پر بیٹھ گیا۔ جب میرے آدمی واپس نینی تال پہنچے تو میں آ چکا تھا اور انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ بندہ اپنے بندوق بردار اور سامان اٹھانے والے بندے کے ساتھ مچان پر بیٹھ چکا ہے۔
راتیں تاریک تھیں کہ چاند نہیں تھا اور اندھیرا چھانے کے ایک گھنٹے بعد بندوق بردار نے شکاری سے شکایت کی کہ اس نے آدم خور کو لاش کیوں لے جانی دی اور گولی کیوں نہیں چلائی۔ شکاری کو اس بات پر یقین نہیں آیا کہ شیر آیا ہوگا، اس نے لالٹین جلا کر رسی سے نیچے لٹکایا تاکہ لاش کو دیکھ سکے کہ رسی اس کے ہاتھ سے چھوٹی اور جلتا ہوا لالٹین نیچے گر گیا اور وہاں جھاڑ جھنکار کو آگ لگ گئی۔ اس وقت ہمارے جنگل انتہائی خشک تھے اور مئی کا مہینہ تھا۔ انتہائی بہادری سے وہ نیچے اترا اور اپنے کوٹ سے آگ بجھانے کی کوشش کی کہ اسے آدم خور یاد آ گیا اور وہ واپس مچان پر لوٹ آیا۔نیچے اس کا مہنگا کوٹ جل رہا تھا۔
آگ کی روشنی سے صاف دکھائی دیا کہ لاش غائب تھی مگر اب شکاری کو شکار کی بجائے اپنے تحفظ اور سرکاری جنگل کو آگ سے ہونے والے نقصان کی فکر پڑ گئی تھی۔ تیز ہواؤں سے آگ درخت کی مخالف سمت بڑھنے لگی اور آٹھ گھنٹے بعد جب تیز بارش اور ژالہ باری سے آگ بجھی تو کئی مربع میل کا جنگل جل کر تباہ ہو چکا تھا۔ آدم خور کے سلسلے میں یہ اس شکاری کا پہلا اور آخری تجربہ تھا جس میں وہ پہلے زندہ جلنے اور پھر ٹھٹھر کر مرنے سے بال بال بچا۔ اگلی صبح جب وہ تھکا ہارا ایک راستے سے نینی تال لوٹ رہا تھا تو میں اس سے بے خبر دوسرے راستے سے وہاں جا رہا تھا۔
میری درخواست پر دیہاتی مجھے اس درخت کو لے گئے جہاں لاش لٹکائی گئی تھی اور میں شیر کی ہمت دیکھ کر حیران ہوا کہ شیر نے کتنی محنت سے لاش پائی ہوگی۔ پھٹا ہوا کمبل زمین سے کم از کم 25 فٹ اونچائی پر تھا اور درخت پر لگے ناخنوں کے نشانات اور نرم زمین کی حالت اور جھاڑیوں کی حالت سے اندازہ ہوا کہ شیر کم از کم بیس مرتبہ درخت سے گرا ہوگا کہ پھر اس نے جا کر کمبل پھاڑا اور لاش نکالی ہوگی۔
اس مقام سے شیر لاش کو نصف میل دور مچان والے درخت تک لے گیا تھا۔ آگے کے نشانات آگ سے مٹ گئے تھے۔ مگر اندازے سے شیر کی متوقع سمت کو چلنے پر ایک میل دور مجھے اس عورت کا جلا ہوا سر ملا۔ اس سے ایک سو گز آگے گھنا جنگل تھا جہاں تک آگ نہیں پہنچی تھی اور کئی گھنٹے تک میں اس میں شیر کو تلاش کرتا رہا مگر ناکام رہا (شکاری کی مچان پر آمد سے شیر کی ہلاکت تک پانچ مزید انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔)
شیر کی تلاش میں ناکام ہونے کے بعد میں شام گئے واپس اس دیہات آیا تو نمبردار کی بیوی میرے لیے کھانا تیار کر چکی تھی اور اس کی بیٹیوں نے تانبے کی پلیٹوں میں مجھے کھانا پیش کیا۔ سارا دن کچھ نہ کھانے کی وجہ سے مجھے سخت بھوک لگی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد میں پلیٹوں کو دھونے کی نیت سے اٹھا ہی تھا کہ نمبردار کی بیٹیاں بھاگ کر آئیں اور ہنستے ہوئے یہ کہہ کر پلیٹیں لے لیں کہ سفید فام سادھو کی کھائی پلیٹوں کو دھونے سے ان جیسے برہمنوں کی ذات بھرشٹ نہیں ہوگی۔
نمبردار اب زندہ نہیں اور اس کی بیٹیاں شادی کے بعد اس گاؤں سے جا چکی ہیں مگر اس کی بیوی ابھی زندہ ہے اور ہماری آمد پر ہمارے لیے چائے لازمی بنائے گی جو پانی کی بجائے دودھ سے بنی ہوگی اور اس میں چینی کی بجائے گُڑ ہوگا۔ ڈھلوان سے اترتے ہوئے گاؤں والے ہمیں دیکھ لیں گے اور ہماری آمد سے قبل ہی قالین کا ایک ٹکڑا بچھا کر اس پر دو موڑھے رکھ دیے جائیں گے جن پر گڑھل کی کھالیں منڈھی ہوں گی۔ ان کے ساتھ کھڑی نمبردار کی بیوی ہمیں خوش آمدید کہے گی کیونکہ یہاں پردے کا رواج نہیں اور آپ اسے نظر بھر کر دیکھ سکتے ہیں کہ وہ بہت خوبصورت ہے۔ اس کے بال اب برف کی مانند سفید ہو گئے ہیں مگر جب میں نے پہلی بار دیکھا تھا، سیاہ کالے تھے اور اس کی گالیں جو اب سفید ہیں اور جھریوں سےپاک، تب سرخ ہوا کرتی تھیں۔ سو نسلوں سے برہمنوں کی بیٹی کی رگوں میں دوڑتا خون اتنا ہی خالص تھا جتنا کہ سو نسل قبل تھا۔
ہر انسان اپنی خالص نسل پر فخر کرتا ہے اور ہندوستان سے زیادہ خالص نسل کو کہیں اور عزت نہیں ملتی۔ اس گاؤں میں بہت ساری ذاتوں کے لوگ موجود ہیں مگر یہ خاتون ان سب پر حاکم ہے۔ مگر اس کی وجہ صرف اس کا برہمن ہوناہے جو ہندوستان میں سب سے معزز نسل سمجھی جاتی ہے۔
حالیہ برسوں میں زرعی اجناس کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے اس گاؤں میں بھی خوشحالی آئی ہے اور اس خاتون کو بھی پورا حصہ ملا ہے۔ اس کی گردن میں اس کے جہیز سے آیا سونے کے منکوں کا ہار موجود ہے۔ چاندی کے زیورات اس خاندان کے دیگر قیمتی سامان کی مانند چولہے کے ساتھ موجود سوراخ میں دفن ہیں مگر اب اس کی گردن میں ٹھوس سونے کے زیور ہیں۔ پہلے اس کے کان خالی ہوتے تھے مگر اب سونے کے کئی جھمکے اور بالیاں پہنے ہوئے ہے۔ اس کی ناک میں موجود چوڑی پانچ انچ چوڑی ہے اور اس کا وزن سہارنے کو اس کے دائیں کان سے سونے کی باریک زنجیر لٹکی ہوئی ہے۔ اس کا لباس دیگر اونچی ذات والی پہاڑی خواتین جیسا ہے جو ایک شال، گرم کپڑے سے بنے لباس پر مشتمل ہے۔ اس کے پاؤں ننگے ہیں کہ آج بھی ان پہاڑوں پر جوتے پہننے والے کو کم ذات سمجھا جاتا ہے۔
یہ بوڑھی خاتون اب گھر کے اندر جا کر ہمارے لیے چائے بنا رہی ہے اور جب تک وہ مصروف ہے، آئیے ہم بنیا کی دکان کو دیکھتے ہیں جو اس تنگ سی سڑک کی دوسری جانب ہے۔ بنیا میرا پرانا دوست ہے۔ اس نے ہمیں سلام کیا اور سگریٹ کا پیکٹ تھما کر واپس اپنی چوکی پر پالتی مار کر بیٹھ گیا جہاں اس کا سامانِ تجارت موجود ہے۔ اس کے پاس دیہاتیوں اور مسافروں کی ضرورت کی عام چیزیں رکھی ہیں جو آٹا، چاول، دال، گھی، نمک، دیہاتی مٹھائیاں(جو اس نے نینی تال کے بازار سے سستے داموں خریدی ہیں)، پہاڑی آلو جو بہترین ہیں، بہت بڑی اور تیز مولیاں، سگریٹ، ماچسیں، مٹی کے تیل کا ڈبہ اور اس کے عین ساتھ ہی ہلکی آنچ پر لوہے کی پتیلی میں دودھ کاڑھا جا رہا ہے جو سارا دن رکھا رہتا ہے۔
جب بنیا اپنی چوکی پر بیٹھتا ہے تو اس کے گاہک پہنچ جاتے ہیں۔ سب سے پہلے ایک چھوٹا بچہ ہے جو اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ آیا ہوا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک پیسہ (ایک پیسہ بہت چھوٹی سی رقم ہے مگر اس میں مزید تین چھوٹے سکے یا تین پائیاں ہوتی ہیں۔ چار پیسے مل کر ایک آنہ بناتے ہیں، سولہ آنے کا ایک روپیہ بنتا ہے) ہے جس سے وہ مٹھائی خریدے گا۔ اس کے ہاتھ سے سکہ اٹھا کر بنیے نے ڈبے میں رکھا۔ پھر اس نے مٹھائیوں پر ہاتھ سے مکھیاں اور بِھڑ اڑائے اور پھر گڑ سے بنی ایک مٹھائی کا ٹکڑا اٹھا کر اسے دو حصوں میں توڑ کر دونوں بچوں کو ایک ایک حصہ تھما دیا۔
اگلی گاہک ایک اچھوت ذات کی عورت ہے جس کے پاس دو آنے ہیں۔ وہ ایک آنے کا آٹا لے گی جو موٹا پسا ہوا اور ہمارے پہاڑیوں کی عام خوراک ہے اور دو پیسے سے وہ سب سے سستی دال خریدے گی اور باقی کے دو پیسے سے وہ تھوڑا سا نمک اور ایک مولی لے گی اور پھر بنیے کو احترام سے سلام کر کے کہ سبھی بنیے کا احترام کرتے ہیں وہ اپنے گھر والوں کا کھانا بنانے چلی جائے گی ۔
جتنی دیر اس عورت نے سامان خریدا، سیٹیوں اور شور سے پتہ چلا کہ مال بردار خچروں کی قطار پہنچنے والی ہے جو مراد آبا دسے دستی کھڈیوں پر بنا کپڑا لا رہے ہیں۔ سخت چڑھائی کی وجہ سے خچر پسینے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ جتنی دیر خچروں کو سانس لینے کا موقع ملا، اتنی دیر ان کے ساتھ موجود چار آدمی بنیے کے ساتھ رکھی بنچ پر بیٹھ گئے اور سگریٹ اور دودھ کا مزہ اٹھانے لگے۔ اس دکان پر دودھ سے زیادہ بہتر کوئی مشروب نہیں بکتا۔ پہاڑی علاقوں میں بنیے کی سینکڑوں دکانوں میں کسی کسی پر شراب بکتی ہے کہ ہمارے پہاڑی بالعموم شراب نہیں پیتے۔
میرے ہندوستان میں عورتیں کبھی شراب نہیں پیتیں۔ دیہاتوں میں کوئی اخبار نہیں آتے اور واحد خبر جو پہنچتی ہے، وہ نینی تال جانے والے کسی دیہاتی یا راہ گزرتے مسافروں سے آتی ہے جن میں مال بردار تاجر اہم ترین ہیں۔ پہاڑوں کو آنےو الے یہ تاجر دور دراز کے میدانی علاقوں کی خبریں اپنے ساتھ لاتے ہیں اور مہینہ یا دو بعد واپسی پر پہاڑوں کی خبریں ان کے ذریعے میدانی علاقوں تک پہنچتی ہیں۔
ہماری میزبان نے ہمارے لیے چائے بنا لی ہے۔ لبا لب بھرے ہوئے پیالے سے چائے پیتے ہوئے احتیاط کیجیے گا کیونکہ وہ بہت گرم ہے۔ اب لوگوں کی توجہ تاجروں سے ہٹ کر ہم پر مرکوز ہو چکی ہے اور واضح رہے کہ آپ کو چاہے پسند ہو یا نہ ہو، آپ کو اس گرم اور میٹھے مشروب کا آخری قطرہ تک پینا ہوگا کہ پورا گاؤں ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہم ان کے مہمان ہیں۔ اگر آپ نے تھوڑی سی بھی چائے بچا دی تو یہ تاثر جائے گا کہ یہ چائے آپ کے معیار کے مطابق نہیں تھی۔
دوسرے تو شاید یہ غلطی کر جائیں، مگر ہم کسی بھی قیمت پر اس معزز خاتون کو چائے کی قیمت دینے کی کوشش نہیں کریں گے اور نہ ہی بنیے کو سگریٹ کی قیمت۔ یہ لوگ اپنی مہمان نوازی پر بہت فخر کرتے ہیں اور قیمت کا تذکرہ بھی ان کے لیے ذلت کا سبب ہوگی۔ یہ گاؤں ان ہزاروں دیہاتوں میں سے ایک ہے جو ہم نے چینا پر بیٹھ کر دوربین سے اس وسیع علاقے میں دیکھے تھے۔ میں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ یہیں گزارا ہے اور ہر بار یہاں آتے ہوئے آپ کو ایسا ہی استقبال ملے گا اور روانگی پر دوبارہ جلد لوٹنے کی تاکید بھی کی جائے گی۔ یہی وہ جذبات ہیں جو ہندوستان کے لوگ خوشی خوشی ظاہر کرتے ہیں۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے