Gamm Majood Hai

غزل
(حفیظ جالندھری )

غم موجود ہے آنسو بھی ہیں، کھا تو رہا ہوں پی تو رہا ہوں
جینا اور کسے کہتے ہیں، اچھا خاصا جی تو رہا ہوں

یارو میں نے اپنا سینہ اپنے ہاتھوں چاک کیا ہے
سچ کہتے ہو لیکن دیکھو اپنے ہاتھوں سی تو رہا ہوں

خون جگر آنکھوں سے نہ ٹپکا، منہ سے شعلہ بن کر لپکا
شعبدہ گر ہوں مجھ پر ہنسئے، میں بھی ہنستا ہی تو رہا ہوں

سیم و زر سے برتر و بالا شائد کوئی شے پا جاؤ
راکھ ذرا میری بھی کریدو، کیمیا گر میں بھی تو رہا ہوں

ہاں میں حفیظ ہوں تیرا بندہ – بت خانے کے اندر اب تک
میری نیت پوچھتا کیا ہے – تیری مشیت تھی تو رہا ہوں​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے