غم حیات میں کوئی کمی نہیں آئی

غم حیات میں کوئی کمی نہیں آئی
نظر فریب تھی تیری جمال آرائی

وہ داستاں جو تری دلکشی نے چھیڑی تھی
ہزار بار مری سادگی نے دہرائی

تری وفا ، تری مجبوریاں ، بجا، لیکن
یہ سوزش غم ہجراں ، یہ سرد تنہائی

فسانے عام سہی ، مری چشم حیراں کے
تماشا بنتے رہے ھیں یہاں تماشائی

کسی کے حسن تمنا کا پاس ھے ورنہ
مجھے خیال جہاں ھے نہ خوف رسوائی

کہیں یہ اپنی محبت کی انتہا تو نہیں
بہت دنوں سے تری یاد بھی نہیں آئی

احمد راہی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے