گلی کوچوں میں سنّاٹا ہے یا رب خیر کرنا

گلی کوچوں میں سنّاٹا ہے یا رب خیر کرنا
وبا کا چار سُو سایہ ہے یا رب خیر کرنا
سبھی ملنے ملانے سے گریزاں ہو رہے ہیں
دلوں پر خوف کا پہرہ ہے یا رب خیر کرنا
ابھی ویران ہیں مسجد ,کلیسا اور مندر
ابھی انسان کو خطرہ ہے یا رب خیر کرنا
زمیں کی رونقیں کر دے بحال اک بار پھر سے
تجھے ہر چیز کا یارا ہے یا رب خیر کرنا
معالج ہو گئے ناکام اپنی کوششوں میں
فقط ہونٹوں پہ اب گریہ ہے یا رب خیر کرنا
ترے غصے پہ تیرا رحم غالب ہے خدایا
ترا سب سے بڑا رتبہ ہے یا رب خیر کرنا
تری دنیا کے ہر انسان کی خدمت میں دل سے
دعاؤں کا یہ گلدستہ ہے یا رب خیر کرنا
منزہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے