غلط نہیں ہے کسی کو یہ مشورہ دینا

غلط نہیں ہے کسی کو یہ مشورہ دینا
کہ حبس بڑھنے لگے تو دِیا جلا دینا
ہَوائے وصل بھٹکتی ہوئی سرِ راہے
کہیں ملے تو ہمارا پتا بتا دینا
کھڑے ہوئے ہیں پسِ کاروانِ تنہائی
کسی سے کیسے کہیں ہم کہ راستہ دینا!
یہ کارِ عشق سراسر زیاں کا سودا ہے
زیاں نہ ہو تو یہ دوکانِ دل بڑھا دینا
کہاں ملیں گے تمھیں ہم سے قدر دانِ سخن
میاں جو شعر بھی لکھّو ہمیں سنا دینا
مزاجِ دل زدگاں بھی عجیب ہے غائر
جہاں بھی بیٹھنا اک مسئلہ اُٹھا دینا
کاشف حسین غائر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے