فن کار

فن کار
میں نے جو گیت ترے پیار کی خاطر لکھے
آج ان گیتوں کو بازار میں لے آیا ہوں
آج دکّان پہ نیلام اٹھے گا اُن کا
تو نے جن گیتوں پہ رکھی تھی محبت کی اساس
آج چاندی کے ترازو میں تلے گی ہر چیز
میرے افکار، مری شاعری ، میرا احساس
جو تری ذات سے منسوب تھے ان گیتوں کو
مفلسی جنس بنانے پہ اتر آئی ہے
بھوک تیرے رخِ رنگیں کے فسانوں کے عوض
چند اشیائے ضرورت کی تمنائی ہے
دیکھ اس عرصہ گہِ محنت و سرمایہ میں
میرے نغمے بھی مرے پاس نہیں رہ سکتے
تیرے جلوے کسی زر دار کی میراث سہی
تیرے خاکے بھی مرے پاس نہیں رہ سکتے
آج ان گیتوں کو بازار میں لے آیا ہوں
میں نے جو گیت ترے پیار کی خاطر لکھے
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے