فضائے شہر محبت بدلنے والی ہے

فضائے شہر محبت بدلنے والی ہے
دل تباہ کی قسمت بدلنے والی ہے
بدلنے والی ہے اب سے ردائے لالہ و گل
ہوائے دشت کی نیت بدلنے والی ہے
پھر ایک جلوۂ صد رنگ کے تسلسل میں
نگاہ آئینہ ، حیرت بدلنے والی ہے
بس ایک بار تجھے ہم قریب جاں دیکھیں
پلٹ کے دیکھ، یہ حسرت بدلنے والی ہے
کہیں پہ نیم اجالا، کہیں پہ تاریکی
شب ملال کی صورت بدلنے والی ہے
قمر نے ایک نئے برج میں قدم رکھا
زمیں پہ ہجر کی ساعت بدلنے والی ہے
فسون مرگ میں ہے زندگی کئی دن سے
سو اپنا جامۂ وحشت بدلنے والی ہے
ہمیں تو عشق نے ہجر و وصال میں رکھا
سنا ہے وجہ رفاقت بدلنے والی ہے
خبر ہوئی کہ ہے دل ہی نگار خانۂ حسن
نظر کی سمت مسافت بدلنے والی ہے
نئی صدی ہے اور اس کے نئے تقاضے ہیں
ہر آدمی کی ضرورت بدلنے والی ہے
ثمینہ راجہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے