انشاء کا اعظمی کو پہلا خط

۵/۵ جہانگیر روڈ، کراچی
۱۷ ستمبر ۱۹۵۵ء

برادرم اعظمی صاحب

آپ کا کرم نامہ ملا۔ آپ نے جو کچھ لکھا ہے اس کا مستحق تو میں نہیں لیکن آپ کے الفاظ سے بوئے وفا آتی ہے اس لئے قبول کرکے ممنون ہوں۔ علی گڑھ میں مجھے آپ ہم زبان نظر آئے تھے اور آپ کی تحریروں سے آپ کے مزاج کا اندازہ کیا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ اندازہ غلط نہ نکلا۔ امید ہے کہ آپ برابر خط لکھتے رہیں گے۔ آپ نے فکر و نظر میں جوش کے متعلق جو کچھ لکھا ہے اس سے بھی میں خوش ہوں۔ خطابیّت کے رجحان نے ہماری شاعری سے خلوص، تفکر اور گھلاوٹ چھین کر اسے بہت Debase کیا ہے۔ پسند عام کی راہ سے ہٹ کر ریاضت کرنا اور نئی راہیں نکالنا۔۔۔۔۔ہمارا آپ کا کام ہے۔ سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے۔ میاں آزاد

تمھاری سینہ فگاری کوئی تو دیکھے گا
نہ دیکھے اب تو نہ دیکھے کبھی تو دیکھے گا

بعض موانع کی وجہ سے میں اس میں چند نظمیں شامل نہیں کر سکا۔ کوجے کی لڑائی سویرا میں اور شاہراہ میں چھپی تھی اور "کوریا کی خبر” میں نے کہیں بھیجی ہی نہیں۔ موقع ملا تو آپ کو دکھاؤں گا۔ ڈاکٹر محمد حسن صاحب سے مجھے ارادت ہے۔ وہ ہمارے Age Group کے آدمیوں کے لئے باعثِ افتخار ہیں۔ افسوس کہ آل انڈیا ریڈیو سے میں ان کا تبصرہ نہ سن سکا۔ میرے ریڈیو نے وقت پر غداری کی۔ اب میں آپ کو ایک نہیں دو دو تکلیفیں دوں گا۔ حسابِ دوستاں در دل، مجھے ان کے تبصرے کی نقل درکار ہے۔ مل سکے گی؟ دوسرے علی گڑھ میگزین کا حالیہ علی گڑھ نمبر چاہئے۔ بہت شہرت سنی ہے لیکن یہاں بازار میں تو آتا نہیں کہ دیکھنے کو ملتا۔ بس۔ تیسری بات یہ فرمائیے کہ فکر و نظر کا دوسرا نمبر کب نکلے گا۔

آپ کے یہاں علی گڑھ میں اتنے اچھے لوگ جمع ہیں کہ آپ پر رشک آتا ہے۔ میری ریسرچ کی میعاد دسمبر میں ختم ہو رہی ہے لیکن رفتارِ کار تسلی بخش نہیں۔ مجھے مصروفیتیں بہت رہتی ہیں۔ میرے نگراں مولوی عبدالحق صاحب ہیں۔ انہوں نے بہت ڈھیل دے رکھی ہے۔ آپ کی دلچسپی کے لئے لکھ رہا ہوں کہ میرے مقالے کا موضوع کیا ہے۔

Tradition of nazm (to the exclusion of ghazal) in Urdu poetry, a historical and critical survey from the earliest times to date.

بہت وسیع موضوع ہے اور میں محنت سے بھاگنے والا۔ ہر چہ بادا باد۔ لکچرر شپ ایک آدھ سال کر کے چھوڑ دی۔ اس میں پیسے بہت کم ملتے ہیں۔ بہت ہوا سب کچھ ملا کر ڈھائی سو ہو گئے، تین سو ہو گئے۔ اب بھی یہی ارادہ ہے کہ ذمہ داریوں کا بار ذرا ہلکا ہو تو کسی کالج میں چلا جاؤں۔ ممکن ہے ڈاکٹریٹ کے بعد (جو فی الحال ایک منزل موہوم ہے) کچھ اچھے پیسے مل جائیں لیکن کمپی ٹیشن پھر بھی بہت ہے۔ خیر دیدہ باید شد۔

ڈاکٹر محمد حسن صاحب سے میں نے درخواست کی ہے کہ وہ مجھے چاند نگر کے متعلق تفصیلی رائے لکھیں۔ انھوں نے وعدہ بھی کیا ہے۔ آپ اگر فکر و نظر میں یا ہندوستان کے کسی اور پرچے میں اس کے متعلق کچھ لکھ دیں (آپ نگار میں بھی تو اکثر لکھتے ہیں) تو بہت اچھا ہو۔۔۔۔۔افسوس کہ ہندوستان میں یہاں کی کتابیں زیادہ نہیں جاتیں۔ علی گڑھ، دلی اور لکھنؤ کے اچھے تاجرانِ کتب کو یہاں کے اچھے ناشرین کی کتابیں منگانی تو چاہیئں۔ چاند نگر تو کہاں پہنچی ہوگی۔

اب رخصت۔ محمد حسن صاحب کو میرا سلام کہئے اور میری فرمائش یاد رکھئے۔ ممنون ہوں گا۔

آپ کا
ابن انشا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے