فکر میں وحشتِ عمل کیا ہے

فکر میں وحشتِ عمل کیا ہے
اے غزالاں مری غزل کیا ہے
چاند اٹکا ہو جیسے شاخوں میں
اور صبر و رضا کا پھل کیا ہے
آج ہی کوئی انتظام کرو
میں نہیں جانتا یہ کل کیا ہے
زندگی تیرے عہد میں اے دوست
مسئلہ ہے کوئی تو حل کیا ہے
رات بھر کی قدم سرا شاید
جھونپڑا کیا ہے اور محل کیا ہے
آپ سمجھیں مجھے نہ سمجھائیں
زندگی کیا ہے اور اجل کیا ہے!
لیاقت علی عاصم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے