فیس بک پر شادیوں کا رجحان

فیس بک پر شادیوں کا رجحان

پیام سحر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اویس خالد

پاکستان کی ثقافت بڑی دلچسپ اور دیدہ زیب ہے ۔ مذہبی رسومات اور تہواروں سے لے کر معاشرتی رواجوں تک ،تہذیب و تمدن سے لے کر سوچ و افکار تک ہر موقعہ محل خوب صورتی اور دل کشی میں اپنی مثال آپ ہے ۔ ہ میں اسلامی طرزِ معاشرت میں کسی بھی تہذیب سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں ،بل کہ ہم دوسری تہذیبوں کے لیے ایک مثالی نمونہ رکھتے ہیں اور ان کے لیے مکمل قابل تقلید ہیں ۔ اسلام کا بتایا ہوا ہر طور طریقہ بہترین ہے اور اسی میں راحت و عزت ہے ۔ طریقہ رسمِ نکاح ان میں سے ایک ہے ۔ نکاح سنت نبوی ہے اور معاشرے اور نسلِ انسانی کی بقا کا وہ مبارک ومعتبر زریعہ ہے جس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ خود پروردگار نے اسے حضرت انسان کے لیے منتخب فرمایا ہے اور اس میں بے حساب ثواب اور برکتیں رکھ دی ہیں ۔ لیکن افسوس کہ اپنی شاندار ثقافت جسے ہم نے دوسری ثقافتوں کی ملاوٹ سے بد نما اور قابل اعتراض بنا دیا ہے ۔ جہاں ہم نے آپ اپنے ہاتھوں سے باقی طرز معاشرت کی خوبیوں کا گلا گھونٹا ہے وہیں نکاح کی بھی باقاعدہ بے حرمتی کی ہے ۔ بے جا رسم و رواج جن کا دور دور تک بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے بل کہ وہ الٹا اسلام کے دشمنوں کی پہچان ہیں ، انھیں ہم نے اپنا لیا ہے ۔ جہاں اس میں بے شمار قباحتیں دیکھنے کو ملتی ہیں وہیں اب ایک اور رواج بڑی تیزی سے ہمارے معاشرے میں فروغ پا رہا ہے اور وہ ہے فیس بک کے زریعے شادیوں کا رجحان،جس کی ابتدا ہی نا محرم لوگوں کے آپس کے تعلقات سے ہوتی ہے جس کی کسی صورت بھی شریعت اجازت نہیں دیتی ۔ ان شادیوں میں شرعی اعتبار سے کیا مسائل و نقاءص ہیں یہ جاننے سے پہلے اس کے معاشرتی نقصانات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
شادی صرف دو افراد کا ایک بندھن میں بندھنا ہی نہیں بل کہ دو خاندانوں کی تطبیق بھی ہے،اس سے دو خاندانوں کی خوشیاں باہم ایک ہو جاتی ہیں ،کئی نئے رشتوں سے انسان کو تقویت ملتی ہے ۔ سسرالی رشتوں کی اپنی بہاریں ہوتی ہیں ۔ دو خاندانوں کو ایک دوسرے کو جاننے اور پہچاننے کا موقعہ ملتا ہے،اعتبار کی ایک فضا قائم ہوتی ہے ۔ بڑوں کی زیر سر پرستی عہد ہوتے ہیں توان کی حیا بھی ہوتی ہے ۔ آپس کے قول و قرار میں وزن ہوتا ہے،گھر کے بڑے اپنے تجربات کی روشنی میں اپنے بچوں کو نئی زندگی کی شروعات کراتے ہیں ۔ بزرگ پند و نصاءح سے اور اپنی تربیت سے بچوں کوزندگی میں پیش آنے والے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے قابل بناتے ہیں اور مشکل وقت میں آگے بڑھ کر غلط فہمیوں کو دور کر کے رشتوں کو جوڑے رکھتے ہیں ، جب کہ اس قسم کی شادیوں میں جن کو صرف جذباتی شادیاں کہا جا سکتا ہے ،نوجوان نسل کو اپنے اچھے برے کی ذرا بھر پہچان نہیں ہوتی ۔ کسی نا محرم سے چند دنوں کی کتابی گفتگو سے بے قرار ہو کر اپنوں کی محبت کو بھلا دیتے ہیں ۔ لفظوں کے جذباتی سیلاب کے ریلوں میں بہہ کر ماں باپ کی پرورش و شفقت تک کو فراموش کر دیتے ہیں ۔ والدین کی مرضی کے بغیر ،بل کہ انھیں ناراض کر کے جانے کس سُکھ کی تلاش میں ہوتے ہیں ۔ اور سونے پر سہاگہ یہ کہ کچھ لوگوں نے اپنے ذاتی ویب چینلز اور یو ٹیوب چینلز کے ناظرین کی تعداد بڑھانے کی خاطر ایسی کہانیوں کو ایک عمدہ روش اور کامیاب لو سٹوری قرار دے کر اچھالتے ہیں ،کبھی کسی کم عمر جوڑے کو لیلیٰ مجنوں بنا کر پیش کیا جا رہا ہوتا ہے تو کبھی کسی سکول و کالج کے طالب علموں کو پسند کی شادی کرنے پر مبارک باد دی جا رہی ہوتی ہیں اور انھیں ان کی بہادری پر سلام پیش کیا جا رہا ہوتا ہے اور کبھی کسی غیر ملکی دلہن کو پورے ملک کی بھابھی بنا کر دکھایا جا رہا ہوتا ہے اور نوجوان نسل کو اس میں مالی فوائد دکھا کر ایسے اقدامات کرنے پر اُکسایا جا رہا ہوتا ہے ۔ ایسی شادیاں اکثر خاندانوں میں پھوٹ کا زریعہ بنتی ہیں ۔ اسی طرح اگر دینی لحاظ سے دیکھیں تو اس میں نا قابل تلافی قباحتیں ہیں ،سب سے بڑا جو گناہ ہے وہ ایک تو مخلوط ملاقاتیں ہیں جو سراسر بے حیائی کا فروغ ہے اور دوسرا اکثر ایسے افعال والدین کی ناراضی کا موجب بنتے ہیں جن سے آخرت تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی ہے ،ان مذموم طریقوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ آخرت تو دنیا کی کھیتی ہے ہی دنیا بذاتِ خود مکافات عمل ہے ۔ یہی حال رہا تو والدین سے محبت،شفقت اور ان کے ڈر جیسی برکتوں کو ہم کھو دیں گے ۔ یہ وہی کلچر ہے جہاں ماں باپ کو اتنی جرات نہیں کہ وہ اولاد کو ان کی مرضی سے روک سکیں ۔ یورپی تہذیب میں تو قانون والدین کو اپنی ہی اولاد کے کاموں میں مداخلت کی قطعاً اجازت نہیں دیتا،تو کیا یہ وبال ہم اپنے معاشرے میں برداشت کر سکیں گے- کیا ہم ایسی گستاخیوں کے متحمل ہو سکیں گے
اتنا ٹھیک ہے کہ نکاح سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھ لینا شرعی حق ہے لیکن والدین کی مرضی کے بر خلاف اول تا آخر تمام امور اپنی مرضی سے انجام دینا اور ان کی حیثیت کو ہی ختم کر دینا سخت گناہ کا کام ہے ۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اولاد کی مرضی پر بھی غور کر لیں محض سخت روی سے کام لیتے ہوئے اولاد کو باغی ہونے کا موقع فراہم نہ کریں یا پھر شروع سے اپنی اولادوں کی تربیت اس نہج پر کریں کہ اولاد ان کے آگے اُف تک نہ کر سکے ۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے