فادر ڈے

"فادر ڈے”
ماہ جون میں ویسے تو بہت سارے عالمی دن منائے جاتے ہیں جیسے ماحولیات کا عالمی دن، موسیقی کاعالمی دن، انسانیت کا عالمی دن وغیرہ وغیرہ لیکن راقم کا موضوع یہاں فادر ڈے باپ کا عالمی دن ہے یہ دن ماہ جون کی تیسری اتوار کو منایا جاتا ہے_ جسے اس سال 2020ءمیں 21جون کو منایا جارہا ہے_ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس دن کو ہم رسمی دن کے بجائے تہوار کے طور پر مناتے لیکن چونکہ ہم ماں کو جنت کی ہوا سمجھتے ہیں اس لیے ماں کے دن کو ہی خاص اہمیت دیتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دن کو عیسائیوں نے منانا شروع کیا لیکن اب تمام مذاہب عالم میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ ہمیں اسلامی نقطہ نظر سے مناناچاہے اور باپ کے تمام حقوق کا پورا خیال کرنا چاہئے۔آئے سب سے پہلے ہم یہ طے کرلیں کہ ہم باپ کا عالمی دن اسلامی نقطہ نظر سے منائیں گے۔ باپ ہے کیا یہ خواندہ اور ناخواندہ دونوں کو اچھی طرح علم ہے لیکن میں اس موضوع کے ذریعے نئی نسل کو باپ کی حیثیت کے بارے میں ضرور آگہی دوں گا_ حدیث نبوی ہے: "والد کی دعا (اللہ کے خاص) حجاب تک پہنچ جاتی ہے۔” (سنن ابن ماجہ)
اسی لیے ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھناچاہے کہ باپ کی ناراضگی ہمیں جہنم میں پہنچاسکتی ہے۔پس ہمیں باپ کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کرنا چاہئے کیونکہ سیدنا ابو دردا سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "باپ جنت (میں داخلے) کا سب سے بہترین دروازہ ہے اب تم اس کے دروازے (نا فرمانی او ربرے سلوک کے ذریعے) ضائع کرو یا (اطاعت و فرمانبرداری کے ذریعے) اس کو محفوظ کرلو”(ابن ماجہ)
ہمیں ماں اور باپ دونوں کا احترام کرنا چاہئے اور دونوں کا دن اسلامی نقطہ نظر سے منانا چاہئے کیونکہ دونوں کی خدمت مساوی کرنا ہماری ذمہ داری ہے حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا "یا رسول اللہﷺ ! ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے_” ارشاد فرمایا۔ "ماں باپ ہی تمہاری جنت ہیں اور ماں باپ ہی تمہاری دوزخ "(ابن ماجہ)
پس والدین قابل قدر احترام، واجب العزت ، والا کرام اور لائق خدمت احسان ہیں گرچہ کافر ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ رب ذوالجلال نے اپنی شکر گزاری کے ساتھ ساتھ ان کی بھی شکر گزاری کی تاکید فرمائی ہے_
ہم جس سماج میں رہتے ہیں اس میں دو طرح کے طبقات بستے ہیں پہلا طبہ امراءکا ہے اور دوسرا طبقہ غرباءکا ہے۔ ان دونوں طبقوں کے باپ اپنی اولاد کی تربیت ، تعلیم، صحت کا خیال اپنی حیثیت سے بڑھ کر کرتے ہیں لیکن ان (باپ) کی آخری زندگی تقریباًایک جیسی ہی گزرتی ہے ،نتیجہ صفر ہی رہتا ہے دونوں باپ کی اولاد کی زبان پر ایک ہی سوال ہوتا ہے آپ نے ہمارے لیے کیا کیا؟امراءطبقہ کا باپ: یہ باپ اپنے پورے خاندان کو اپنی دولت کے سہارے اپنے آخر وقت تک یونٹی کے ساتھ رکھتا ہے یہاں تک کہ تمام بہووئیں اور داماد بھی ساتھ ہی رکھتا ہے اور دنیا کو نظر آتا ہے کہ اس خاندان میں کتنا اتحاد ہے_ جب کہ اندر کی کہانی کچھ اور ہوتی ہے جو اس باپ پر اس کے آخری وقت میں عیاں ہوتی ہے یہی بیٹے اور بیٹیاں اپنا اپنا حصہ مانگنے لگتے ہیں اس لیے کہ اس پورے خاندان کو اس باپ نے جو چھت دی ہے اس کی مالیت میں ہوتی ہے۔ حصہ نہ ملنے پر ایک یہی سوال دہراتا ہے آپ نے ہمارے لیے کیا کیا ہے ؟ جب کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس اولاد کو اپنے باپ کی خدمت،فرمانبرداری او راطاعت میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتنی چاہئے تھی۔ لیکن کیا کریں اس سماج کا جو اسلامی تعلیمات کو بھول چکا ہے۔
غرباءطبقہ کا باپ بھی امراءطبقہ کے باپ کی ذہانت و فطانت رکھتا ہے اپنے Talentکو بھرپور استعمال کرتا ہے کم وسائل ہونے کے باوجود سخت محنت کرکے، کافی ساری مشکلات ہونے کے باوجود اپنی پوری ایمانداری سے یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد کا نام اس سماج میں شہرت کا حامل ہو۔ لیکن ان سب کا رزلٹ اس کو کیا ملتا ہے اولاد کے سن شعور میں آنے کے بعد سے ہی اس کو یہی سننا پڑتا ہے آپ نے ہمارے لیے کیا کیا ہے ؟
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ کیا فادر نام کی کسی چیزکا وجود بھی ہمارے معاشرے میں ہے؟ کیونکہ مدر ڈے کا بہت شور سنا ہے، ہر تیسری گاڑی کے پیچھے لکھا ہوا پڑھا ہے کہ ”یہ سب میری ماں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے” اور اس ڈے سے بھی زیادہ شور و غل اور دھومیں ویلنٹائن ڈے کی سنیں بلکہ دیکھی بھی ہیں مگر فادر ڈے غریب کی تنخواہ کی طرح آتے ہی گزر جاتا ہے۔
ذہن پر زور دینے سے یاد آیا کہ ہرگھر میں ایک باپ ہوتا تھا یا ہوتا ہے جو صبح صبح محنت مزدوری کرنے گھر سے نکلتا ہے اور واپس گھر پہنچنے پر بیوی کی جھڑکیاں پہلے اورکھانا بعد میں اسے کھانا نصیب ہوتا ہے۔ بچے بالخصوص جوان بچے اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ فادر نامی چیز یا مخلوق نے ان کے لیے جن آسائشوں کا اہتمام کیا ہوتا ہے وہ انھی میں یا اپنی اپنی بیگمات میں مگن رہتے ہیں۔ بیشتر اولادیں اپنے باپ کی خدمت کے دوران اس امر کی متمنی بھی ہوتی ہیں کہ قبل اس کے کہ اس کے سرہانے سورۃ یٰسین پڑھنے کا وقت آئے وہ اس سے پہلے کسی وکیل کو بلوا کر جس کا جتنا حق بنتا ہے وہ اس کے نام لکھوا دے۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ محض چند دہائیوں میں باپ بیٹے کے رشتے کا تصور ہمارے معاشرے میں یکسر تبدیل ہوکے رہ گیا ہے۔ اب اولادوں کی وہ نسل ناپید ہوتی جا رہی ہے جس نے گھر میں اپنے باپ کو ولی، اوتار یا گاڈ فادر کا درجہ دیا ہوا تھا، اور اس سچائی سے بھی انکار ممکن نہیں کہ باپ تقریباً سارے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں لیکن اولادیں یکسر بدل چکی ہیں_ آج کی اولادوں کی اکثریت اپنے باپ کو بوجھ سمجھتی ہے، اپنے راستے کی دیوار جانتی ہے اور اس سے تنگ و نالاں بھی ہے اسے وہ کریک، فالتو، مینٹل، نفسیاتی، بے کار اور دماغ کی دہی کہتی ہے۔
قارئین کرام!!!
ہمارے مشاہدے میں یہ بات بھی ہے کہ ایک بیٹا اپنے باپ سے اختلاف کی وجہ سے اس کے جنازے میں بھی نہیں آیا جب کہ ایک گھرانے میں بیٹے نے اپنے باپ سے تنگ آکر پولیس بلالی اسے گرفتار کرانے کے لیے کہ یہ ہمیں اور ہماری ماں کو بہت تنگ کرتا ہے۔ پولیس آئی اور بیٹے کو لعنت ملامت کرکے واپس چلی گئی۔ اس بات میں دو رائے نہیں ہوسکتی کہ تمام تر خواہشات کی تکمیل، آسائشوں کی فراہمی کے باوجود آج کا باپ ”رول ماڈل” نہیں صرف ”اے ٹی ایم مشین” ہے اپنے گھر والوں کے لیے۔ باپ ساری عمر جھڑکیاں اور دھکے کھا کر بھی اپنی فیملی کی کفالت کی راہ نہیں چھوڑتا۔
مکان بنواتا ہے، بچوں کو اپنی حیثیت کے مطابق تعلیم دلواتا ہے، بچوں کی شادیاں کراتا ہے، بعض اوقات پردیس کی مٹی بھی پھانکتا ہے لیکن آخر میں جوان بچے اسے یہی کہتے ہیں کہ ”آپ نے کیا ہی کیا ہے؟ کوئی ڈھنگ کا کام کرلیتے تو ہماری زندگی سنور جاتی۔” دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ فادر ڈے پر مدر ڈے کی طرح بڑے بڑے لوگوں کی طرف سے کوئی چھوٹے چھوٹے جملے تک کہیں سننے یا پڑھنے کو نہیں ملتے۔
اگر ماں کے قدموں میں جنت ہے تو باپ کی رضا خدا کی رضا سے ہم آہنگ ہوتی ہے، زندگی میں اس کا بنیادی اور مرکزی کردار ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ماں کے نام پر بڑے بڑے اسپتال اور رفاحی ادارے بنانیوالے کہیں اپنے باپ کے نام کی تختی بھی لگا دیتے۔ حالانکہ باپ اولاد کے لیے ڈھال ہوتا ہے اور کبھی اپنی اولادوں سے غافل نہیں ہوتا۔ باپ اپنے بچوں کے لیے مضبوط سائبان ہوتا ہے جو گرم سرد تھپیڑوں سے انھیں بچاتا ہے، اپنی پوری فیملی کے لیے پرابلم کا حل ہوتا ہے۔ باپ کے بغیر بڑے اور بھرے پرے گھر بھی سونے سونے سے لگتے ہیں۔
آٹے میں نمک کے برابر ہی اب ہمارے معاشرے میں ایسے گھر بچے ہیں جہاں بوڑھے باپ کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے، بہوئیں اور بیٹے، پوتے پوتیاں ان کی خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔کاش والدین کی ذات کی اہمیت سے انحراف کرتی آج کی نئی نسل اس حقیقت کو مان لے کہ والدین بچوں کے لیے نعمت ہوتے ہیں وہ کبھی زحمت نہیں ہوتے ان کا کوئی مول کوئی بدل کوئی ثانی ہو ہی نہیں سکتا۔ نظر اندازی یا عدم توجہی کے دشت میں اپنی عمر تمام کرتے باپوں کی آنکھوں میں اگرکہیں سے کوئی توجہ کا پھول کھل پاتا تو پورے دشت کی آبرو بچ جاتی لیکن افسوس ایسا کچھ نہیں ہے دور دور تک۔
اللہ پاک ہمیں اس عظیم نعمت کو سمجھنے کی توفیق دیں_
عامر جٹ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

2 comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے