فرشتہ 

فرشتہ 
رشیدہ نے کھانستے ہوئے ہاتھ میں پکڑے روپے دو تین بار گن ڈالے۔ سب خرچہ ہونے کے بعد نو سو روپے (900) بچ رہے تھے۔ اس کے لیے یہ روپیہ نو لاکھ سے کم نہیں تھے۔ پھر پھٹے ہوئے رومال میں پیسے رکھ کر زنگ لگے بکس میں نیچے کی طرف رکھ دیئے۔ اور بکس تخت کے نیچے کھسکا دیا۔ پھر آٹا گوندھنے کے خیال سے چل دی۔
آٹا گوندھتے ہوئے بیٹے کو دو تین آوازیں دے ڈالیں۔ رحمت او رحمت ارے کہاں چلا گیا ؟ مگر کوئی جواب نہ پا کر اپنے کام میں لگی
رشیدہ کے مرحوم شوہر کی اکلوتی نشانی رحمت دس سال کا ہے۔ یہی اس کا سرمایہ ہے۔ دنیا میں شوہر کے علاوہ کوئی اس کا اپنا نہیں تھا – غریب کا تو ویسے بھی کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا – وہ جینا نہیں چاہتی تھی – مگر بیٹے کی وجہ سے زندہ رہنے کے لیے مجبوری تھی – اس نے بیٹے کو پاس کے ایک سرکاری اسکول میں ڈال دیا تھا – وہ خود بیڑی بنانے والی ایک فیکٹری میں کام کرنے لگی تھی – تبھی رحمت کی آواز آئی ۔ ماں او ماں کہاں ہے؟ رشیدہ غصے سے بولی ارے کہاں مر گیا تھا؟ وہ ہنستے ہوئے بولا اگر میں بھی مر گیا تو کس کے لئے جئے گی۔ اس کے غم ذدہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تیر گئ۔ ارے یہ تو بتا کہا گیا تھا؟ محلے کی مسجد میں گیا تھا روزہ کھولنے کے لئے کھجور لے آیا ہوں۔ کیا ضرورت تھی؟ اماں امام صاحب بتا رہے تھے کھجور بہت فائدے مند ہوتا ہے۔ اگر دو کھجور کھا کر پانی پی لو طاقت بھی آتی ہے اور بھوک بھی نہیں لگتی۔ میں نے سوچا اگر شام کو کھانا نہیں ہوا تو اس کھجور سے کام چلا لیں گے۔ رشیدہ اپنے دس سالہ معصوم بچے کو دیکھتی رہ گئی۔
اچھا سن – – – -: – یہ لے دس روپے اور نمک لے آ۔ ماں کے ہاتھ میں پیسے دیکھ کر رحمت بولا۔ کیا فیکٹری سے پیسے مل گئے ماں،؟ تجھے میرے کپڑے بھی تو لانے ہیں اب تو کچھ ہی روزے بچے ہیں۔ ہاں ہاں چلیں گے کسی دن کپڑے لالے۔ اس کا جواب سن کر رحمت تو چلا گیا اور وہ اپنے جھوپڑے کو دیکھنے لگی۔ چھت کی جگہ پر کچھ لکڑیاں ان پر ٹاٹ اور پلاسٹک ڈال کر ڈھک رکھا تھا۔ اور جو مل جاتا چھت پر ڈال دیتی ……. پھر خود بڑ بڑائ۔ کب سے سوچ رہی ہوں۔ کہ چھت کا کچھ کام کرا لوں۔ مگر سوچ سوچ ہی رہ جاتی ہے۔ اور وہ ایک آہ بھر کر رہ گئی۔
ادھر کچھ دنوں سے رشیدہ کی طبیعت خراب رہنے لگی تھی فیکٹری میں بیڑی بناتے ہوئے اس کے پتوں اور تمباکو کی بو رشیدہ کو نقصان دے رہی تھی ۔ آج اسے تیز بخار تھا. ڈاکٹر نے دوا دی تھی۔ مگر اس سے آرام نہیں مل رہا تھا۔ سرکاری ڈسپنسری میں ساری جانچے نہیں ہو سکتی تھیں ۔ اس لئے ڈاکٹر نے باہر سے جانچ کرانے کے لیے کہہ دیا تھا۔ بیماری تو کمبخت پیچھا ہی نہیں چھوڑتی یہ سوچ کر رشیدہ نے جاچ نہیں کرائی۔ اور پھر ایک ہی تو بیٹا ہے جانچ میں پیسے چلے گئے تو بیٹے کی خواہش کیسے پوری ہوگی۔
عید کی تیاری زوروں پر تھی ۔ باہر خوب رونق تھی ہر آدمی خریداری کرنے میں مصروف تھا۔ مگر ایک بیچاری رشیدہ بیماری اور گھر کی فکر میں گھلی جارہی تھی۔ ادھر رحمت کی فرمائش بھی بڑھ رہی تھی۔ مگر اسے اپنے اللہ پر بھروسہ تھا رمضان کے آخری عشرے میں اس کی حالت بگڑتی جا رہی تھی اور سدھار کی کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی تھی۔
رحمت گھر میں آیا اور بولا اماں۔ کل انتیسواں روزہ ہے۔ اس نے کھانسی سے سکون پانے کے لیے چند گھونٹ پانی پی کر کہا کہ ہاں مجھے معلوم ہے بیٹا۔ تو چلو نہ۔ کپڑے لینے۔۔۔۔ ہاں ہاں چلیں گے ۔ کھانسی کی وجہ سے سر میں درد ہے۔ آج میرا روزہ بھی چلا گیا طبیعت کچھ ٹھیک ہو جائے تو چلیں گے۔ اماں دوا تو تم لاتی نہیں ہو۔ کیسے ٹھیک ہوگی رحمت کے اس طرح کہنے سے وہ چونکی ۔ مگر پھر بولی تو میری فکر مت کر۔ تو میرا راجہ بیٹا ہہے ۔ تیرے لیے کپڑے ضرور لاؤ نگی۔ رحمت اس کا چہرہ دیکھے جا رہا تھا اسے ماں کی طبیعت زیادہ خراب لگ رہی تھی وہ جیسے پتھر کی مورت بن گیا تھا۔ آہستہ آہستہ اسے قریب آیا اس کے بخار سے جلتے ہوئے ہاتھ پکڑ کر بولا۔ ماں ہم پہلے دوا لائینگے عیدیں تو بہت آئینگی۔ کپڑے بھی میں پہنتا رہوں گا۔ لیکن اگر تو نہیں رہے گی تو وہ کپڑے کون دیکھے گا۔
میں ابھی ڈاکٹر بابو سے پوچھ کر اور دوا لکھوا کر لاتا ہوں وہ ابھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ رحمت پہلے اندر کوٹھری میں گیا اورپھر تیزی سے باہر نکل گیا۔ جب رحمت لوٹا تو اس کے ہاتھ میں دوا کے ساتھ ساتھ دو پودھے بھی تھے۔۔ ارے یہ کہاں سے لایا ان کا کیا کام تھا۔ ماں کو دوا پکڑاتے ہوئے بولا ماں ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اپنی ماں کو پارک میں گھمانے لے جایا کرو تو تو جائے گی نہیں۔ اس لیے میں مالی کاکا سے دو پودھے مانگ لایا جھونپڑی کے باہر لگا دوں گا تو کچھ ہی دن میں اگ آئیں گے۔ کم سے کم تجھے پارک کا احساس تو ہوگا۔ جو پیسے تو نے میرے کپڑوں کے لیے رکھے تھے وہ میں ڈاکٹر بابو کو دے آیا کل وہ تجھے اپنے ساتھ جانچ کرانے لے جائیں نگے۔ ابھی تو یہ دوا فورن کھالے۔
میں نے سوچا ہے کہ ایک پودھا روز لگاؤں گا۔ وہ میرے ساتھ بڑے ہوجائیں گے۔ محلے کی آب و ہوا اچھی ہو جائے گی اور کسی کی ماں بیمار نہیں پڑے گی۔ پھر میری ایک ماں نہیں بہت سی مایئں ہونگی۔ اپنی ماں کے ساتھ ساتھ ان پیڑوں کی خوب خدمت کروں گا۔ اور سارے شہر کو ہرا بھرا کر دوں گا۔
ختم شد
چشمہ فاروقی جامعہ نگر نئ دہلی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے