فلک سے نکلا ہوں شجرے میں لکھ دیا جائے

فلک سے نکلا ہوں شجرے میں لکھ دیا جائے
زمیں کا دکھ مرے حصّے میں لکھ دیا جائے
جوان رہتا ہے مجھ ایسا ایک بوڑھا شخص
کہ خود کو دیکھ کے بیٹے میں, لکھ دیا جائے
مکیں تھی پہلے اداسی اور اب اندھیرا ہے
ہمارے بعد یہ کمرے میں لکھ دیا جائے
یہاں کسی کا بھی دائم کہاں بسیرا ہوا
یہ قول جسم کے پنجرے میں لکھ دیا جائے
یہاں قفس میں ہے سایہ بھی اور پرندے بھی
یہ ایک پیڑ پہ رستے میں لکھ دیا جائے
ہماری پیاس ہمیں کھا چکی ہے اندر سے
کچھ ایسا آنکھ کے کوزے میں لکھ دیا جائے
کہاں ہوا تھا میں ارشاد یونہی سربسجود
کوئی تو بات تھی چہرے میں , لکھ دیا جائے
ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے