فلک کی قید سے ڈر کر نہیں نکلے زمیں زادے

فلک کی قید سے ڈر کر نہیں نکلے زمیں زادے
جہاں پر خاک ہونا تھا وہیں نکلے زمیں زادے
یہ لازم تو نہیں ماتھے پہ سجدوں کا نشاں ابھرے
مگر رب کی اطاعت کے امیں نکلے زمیں زادے
خدا کا فیصلہ تھا اس لئے تو چھوڑ دی جنت
وگرنہ اپنی مرضی سے نہیں نکلے زمیں زادے
پری زادوں کو میں نےحُسن کا شہکار سمجھا تھا
مری سوچوں سے بھی بڑھ کر حسیں نکلے زمیں زادے
جہاں انصاف طاقتور کے ہاتھوں میں کھلونا ہو
وہاں پر ظلم کے زیرِنگیں نکلے زمیں زادے
گھنے جنگل میں سوچا کوئی آدم زاد مل جائے
ذرا بیٹھا تو میرے ہم نشیں نکلے زمیں زادے
زمیں پر آب و دانہ ڈھونڈنا صابر ضرورت ہے
فلک سے باندہ کر اپنا یقیں نکلے زمیں زادے
محمد ایوب صابر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے