فلک کے رنگ زمیں پر اتارتا ہوا میں

فلک کے رنگ زمیں پر اتارتا ہوا میں
تمام خلق کو حیرت سے مارتا ہوا میں
دو چار سانس میں جیتا ہوں ایک عرصے تک
ذرا سے وقت میں صدیاں گزارتا ہوا میں
جو میرے سامنے ہے اور دل و دماغ میں بھی
چہار سمت اسی کو پکارتا ہوا میں
مرے نقوش پہ کاری گری رکی ہوئی ہے
شکستہ چاک سے خود کو اتارتا ہوا میں
تمہاری جیت میں پنہاں ہے میری جیت کہیں
احمد خیال 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے