فیض صاحب کے دو اشعار (آنجناب کی فرمائش پر )

فیض صاحب کے دو اشعار (آنجناب کی فرمائش پر )
بہت وقت بیت چکا ہے۔ ہاں! بہت وقت بیت چکا ہے، تو لطف بکھیر کر چلا بھی گیا۔ ایک آرزو تھی، تجھے پانے کی۔ ہمیشہ کے لئے نہیں، کچھ سمے کے لئے ہی۔ مجھے یاد ہے، پل پل یاد ہے۔ ہر ہر لمحہ میرے سریر، میرے بند بند کے نہاں خانے میں محفوظ ہے۔ میں بار بار ان میں جھانک کر دیکھتی رہی ہوں۔ اتنی مدت کے بعد بھی ان میں تیرے وصال کے پھول کھلے ہوئے ہیں۔ میرا انگ انگ ثنا خواں ہے تیرے بوسوں کا، میرا بال بال الجھا ہوا ہے اس جنس دست گرداں میں۔ میرے ناخنوں کے خط، میری انگلیوں کے پور، ان کے نقش قدم پرچلتے چلتے منزل کے قریب پہنچ کر بھٹک جاتے ہیں، راستہ بھول جاتے ہیں، کہ وہ لطف کہاں؟
عرصہ ہو گیا ہے، زمانے گزر گئے ہیں، تجھے گئے ہوئے لیکن تیرے بدن کی خوشبو سے میری سانسیں مہک رہی ہے۔ تیری زلفوں کی لپٹیں نافۂ تاتاری سے کم نہیں۔ وصل کی نکہت مستانہ در ودیوار سے لپٹی عطریات بکھیر رہی ہے۔ پھرکئی راتوں تک میرا نیم خوابیدہ کمرہ ان کی سگندھ ڈھونڈتا رہا، بے تاب رہا اور برسوں بیت گئے ہیں اس پر چھائی ہوئی اداسی ابھی بھی برقرار ہے۔ جب جب باد شمال چلی، جب جب برکھا برسی، میں کیسے بتاؤں؟ وہ رات جو تیرے گیسوں کی رات نہیں، وہ کیسے گزری؟ تیرا بھیگا پن پوری پوری رات میرے تن بدن میں آگ لگاتا رہا۔ یہ آتش، یہ تپش، یہ جلن، یہ اگن، موسلادھار بارش کی پھواروں سے بھی ماند نہ پڑ سکی۔
تجھے گئے سالوں بیت گئے، ہاں! سال ہا سال گزر گئے ہیں جب تیری خنجر زباں کی نوک میری مانگ کی راہداری سے شروع ہو کر، لوح جبیں کو کاٹتے ہوئے، چلتے چلتے مجھے دو حصوں میں تقسیم کر گئی تھی۔ تن میرا لیر و لیر ابھی بھی بستر پر بکھرا پڑا ہے۔ میری سانسیں اکھڑی اکھڑی ہیں۔ سنہری چادر کی سلوٹیں غبار راہ ہیں، جو پامال ہو کے اٹھی تھیں اور میں رہ غبار بنی صدیوں سے تیرے انتظار میں ٹیڑھی میڑھی بچھی ہوئی ہوں۔ اک آرزو ہے، سادہ سی آرزو، اور یہ آرزو ہی بہت ہے کہ تو پھر یہاں آئے۔ یہ آرزو وصل کہ جو ہمیشہ سے جواں ہے۔ جواں ہی رہے گی۔
لطف بکھیرے بہت سمے بیت گیا، زمانے گزر گئے۔ تجھے گئے ہوئے صدیاں بیت گئیں۔ ہاں! صدیاں بیت گئیں جب کل رات کا آغاز ہوا تھا، پھر صبح کا تارہ پل بھر میں نمودار ہو گیا۔ سپیدہ سحرطلوع ہوا اور تو چلا بھی گیا۔ شفق کی زردی نے مجھے پیلا رنگ دیا۔ اب صرف تیری یادیں رہ گئی ہیں، تیری خوشبو رہ گئی ہے۔ پاپان شب کی ناگن ڈس گئی ہے مجھے، زہر میرے انگ انگ میں بھر گیا ہے اب ایسی رات پھر کب آئے گئی جب میرا جوگی منکا لے کر آئے گا؟
ابھی تیرے وصال کی آرزو پوری نہیں ہوئی۔ اک آرزو ہے تجھے پانے کی، تیرے ملاپ کی، ہمیشہ کے لئے نہیں، تو نہ سہی، صرف کچھ دیر کے لئے ہی سہی۔
چند لمحے جو گزرے ہیں تیرے بغیر، یہ چند لمحے صدیاں لگتی ہیں۔ پوری عمر وصال یار کی آرزو میں کیسے گزرے گی۔ میں ویسے ہی نامکمل ہوں۔ میری دھرتی، میرا آنگن سونا سونا ہے۔ میری کائنات ابھی بھی ناتمام ہے۔ کیسے بیتے گی یہ عمر، ترے نافہ ء ختن گیسوؤں کے بغیر۔ گر چہ میری ہی خواہش تھی، میری ہی چاہ تھی، میں نے ہی مانگی تھی، صرف ایک رات، صرف شب بھر کا ساتھ، صرف ایک مرتبہ کا ملاپ، لیکن صرف ایک بار کی وہ آرزو، ابھی بھی ویسے ہی موجود ہے۔ گر چہ وصال یار کی یہ آرزو بھی بہت ہے میرے لئے۔ ۔ ۔
لیکن،
وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں۔
نہ آج لطف کر اتنا کہ کل گزر نہ سکے،
وہ رات جو کہ ترے گیسوؤں کی رات نہیں
یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم
وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں
سید محمد زاہد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے