فارغ

یہ طے نہیں کیا جاسکتا کہ نظم کب، کیوں اور کس طرح ہو گی۔ بسا اوقات بڑے بڑے سانحے گذر جاتے ہیں مگر نظم نہیں ہوتی جبکہ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بادی النظر میں کوئی غیر اہم واقعہ شاعری کو مہمیز کرتا ہے۔ نظم کہنے کا محرک چھلاوا سا پھرتا ہے۔
بعض اوقات نہایت چونکا دینے والی تحریر اتنی اثر انگیز ہوتی ہے کہ نظم کے لئے stimulus کا کام کرتی ہے۔
گبریل گارشیا مارکیز کے مشہور ناول Hundred Years of Solitude میں بہت دلچسپ اور سنسنی خیز باتیں لکھی گئی ہیں۔ ایک جگہ مارکیز نے ناول کے کردار جوز آرکیڈیو بواینڈیا (Jose Arcadio Buendia) کی پیدائش کے واقعے کو یوں بیان کیا یے:
"وہ اپنی ماں کی کوکھ میں رویا تھا اور کھلی آنکھوں کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ جب اس کی ناف کٹ رہی تھی تو وہ بے اختیار اپنے سر کو ہر طرف حرکت دے رہا تھا جیسے کمرے میں موجود ہر چیز کو اپنے اندر سرایت کر رہا ہو۔ وہ بے خوف تجسس سے لوگوں کے چہروں کا معائنہ کر رہا تھا”۔
بہت سال پہلے جب میں نے یہ دہلا دینے والی بات پڑھی تو ایک مختصر آزاد نظم میں گارشیا کو ہدیہ عقیدت پیش کیا۔ نظم کا عنوان "فارغ” ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
فارغ
( گبریل گارشیا مارکیز کے انداز میں)
جب وہ پیدا ہوا
تو اس کی دونوں آنکھیں دہک رہی تھیں
دونوں پپوٹے پھٹے ہوئے تھے
پتلی کی دیوار سے لٹکے
آنکھوں کے پردے آگے سے ہٹے ہوئے تھے۔
جب اس کی آنکھیں ہلتیں
تو دیواروں پہ ان کی لو ہلنے لگتی تھی۔
وہ پیدا ہونے سے پہلے
سارے دھونے دھو آیا تھا
اپنے جنم کا سارا رونا رو آیا تھا۔
وحید احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے