اک یہ آواز ہی کانوں کے رہٹ میں پہنچی

اک یہ آواز ہی کانوں کے رہٹ میں پہنچی
کھول کے رکھیو یہ دروازے کے پٹ، میں پہنچی
میرے جلنے ہی کے چرچے تھے جہاں صدیوں سے
میرے بجھنے کی خبر آٹھ منٹ میں پہنچی
زلزلہ بیرے سے ہوتا ہوا ، کپ تک آیا
میں نے اک چائے منگائی تھی، جو کٹ میں پہنچی
کون بتلائے گا اس جسم کی خوشبو کا برانڈ
جو پہاڑوں سے اٹھی اور مرے ہٹ میں پہنچی
لیٹ ہو جاتی تھی اور کال پہ کہتی تھی مجھے
باغ میں تتلیاں ہیں ؟ ان سے نمٹ ! میں پہنچی
ایک خوشبو ، جو علاقے میں نئی آئی تھی
ایک افواہ ، جو یاروں کے اکٹھ میں پہنچی !
راز احتشام

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے