ایک امید 70سال پرانی

ایک امید 70سال پرانی

ذرا دیر ٹھہرو
اے ننھے پرندو!
کہ جس نے بھی سورج کو زنجیر ڈالی
تمہارے پروں پہ ہے تیزاب پھینکا
ہواؤں میں شامل کیا زہرِقاتل
ابھی جان لیں گے

ہماری تمہاری کئی سال پہلے کی یادوں کا منبع
محلے کا وہ بوڑھا پیپل کہ جس نے
تمہیں ____ تپتی دھوپوں میں سایہ دیا تھا
آندھیوں،بارشوں میں ٹھکانہ دیا تھا
ہمیں ____ اپنی بانہوں میں جھولے دیے تھے
ہے جس نے گرایا
ابھی کھوج لیں گے!!

یہ جس نے بھی بستوں میں پستول ڈالے
اداسی اور نفرت کے تعویذ گھولے
ابھی ڈھونڈ لیں گے

ذرا دیر ٹھہرو!
ابھی ہجرتوں کے وہ موسم نہیں ہیں
یہاں اب بہاروں کی آمد کے دن ہیں

عادل وِرد
اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے