ایک تو دھوپ نہیں اس پہ یہ سہرا بھی نہیں

एक तो धूप नहीं उस पे ये सहरा भी नहीं
और अगर हो भी, तू इक अब्र का टुकड़ा भी नही
ایک تو دھوپ نہیں اس پہ یہ سہرا بھی نہیں
اور اگر ہو بھی، تو ایک ابرکا ٹکڑا بھی نہیں
हम पे लानत कि तेरे क़द के बराबर सोचें
वो शजर है तू कि जिसका कोई साया भी नहीं
ہم پے لعنت کے تیرے قد کے برابر سوچیں
وو شجر ہے تو کے جسکا کوئی سایہ بھی نہیں
किस की ताबीर उठाने को फ़लक तक जायें
तू तो वो ख़्वाब है जिसको कभी देखा भी नहीं
کس کی تعبیر اٹھانے کو فلک تک جایں
تو تو وہ خواب ہے جس کو کبھی دیکھا بھی نہیں
ज़िंदगी हम से तवक़्क़ो तेरी वाजिब है मगर
हाय ! बेजान बदन आस का ख़ाक़ा भी नही
زندگی ہم سے توقع تیری واجب ہے مگر
ہائے ! بیجان بدن آس کا خاکہ بھی نہیں
رینو نیّرؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے