ایک سُورج کے ساتھ چلنے کا

ایک سُورج کے ساتھ چلنے کا
شوق دل کو لگا ہے جلنے کا
پھر وہی اُس کا شہر اُس کا گھر
فائدہ راستا بدلنے کا
اور محدود کر گیا دل کو
شوق دیوار سے نکلنے کا
اے سیہ رات انتظار نہ کر
میرا سورج نہیں ہے ڈھلنے کا
یہ تو دُنیا ہے ، اِس جھمیلے میں
وقت ملتا نہیں سنبھلنے کا
تیز چلتی ہوئی ہواؤں کو
دُکھ بہت ہے چراغ جلنے کا
شوق محبوبؔ تُجھ کو کیسا لگا
چاند پر اُلٹے پاؤں چلنے کا
محبوب صابر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے