مارچ 28, 2023
shuja shaz
شجاع شاذ کی ایک اردو غزل

ایک رشتے کو نبھانے کے لیے
خون دیتا ہوں جلانے کے لیے
اشک آنکھوں میں سجا لایاہوں
دشت کی پیاس بجھانے کے لیے
پھر کسی غم کا سہارا لیا ہے
اشک پلکوں پہ اٹھانے کے لیے
کتنے رشتوں کو کچل آیا میں
تیرے معیار تک آنے کے لیے
اُس نے پھر مجھ سے لہو مانگا ہے
دُھول کو پھول بنانے کے لیے
شاذ اب رنگ کہاں سے لاءوں
تیری تصویر بنانے کے لیے
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے