ایک ’’نیچرل‘‘ نظم

ایک ’’نیچرل‘‘ نظم

( خواجہ الطاف حسین حالیؔ کے ایما پر لکھی گئی)

سہانی نیند کی آغوش میں مچلتی ہے
نشے کے آبگیں محو ر پہ جسم گھومتا ہے
ہر ایک عضو میں رقصاں ہے رات بھر کا خمار
جو گھنگھروؤں سے بدن کا خمیر گوندھتا ہے!

ذرا سی کہنی کے بل اٹھتی ہے تو چاروں طرف
پرندے راگ للت کے سُروں میں بولتے ہیں
شبِ گزشتہ کے خوابوں کے محرمانہ راز
چہکتے، گاتے، فجر کی زباں میں کھولتے ہیں

سڈول بازو اٹھاتی ہے تو سرکتے ہوئے
اندھیرے دھند کی چادر میں چھُپنے لگتے ہیں
بڑے ہی ناز سے لیتی ہے ایک انگڑائی
تو جیسے بلبلے رگ رگ سے پھوٹ پڑتے ہیں

کمر کے بل میں کھنچاؤ ہے اک کماں جیسا
کھنچے تو جسم میں قوسیں مچلنے لگتی ہیں
بھنور سی ناف کو جب گدگدی سی ہوتی ہے
ہنسی کی گھنٹیاں پانی میں بجنے لگتی ہیں

ابھار سینے کے، اٹھتے، مچلتے، کھلتے ہوئے
کہ جیسے جام میں کچھ دائرے سے رقصاں ہوں
کنول کے پھول کھلیں سطحِ آب پر جیسے
کٹورے سیمگوں جھیلوں میں جیسے افتاں ہوں

سپید و سرخ بدن کی وہ نرم پشتِ دو تا
کہ جیسے ریشمی چٹّان خود میں بٹ جائے
دراز ٹانگیں اٹھی ہیں بہاؤ میں ایسے
غزل کا شعر اٹھے اور بزم الٹ جائے!

جو سوئی سوئی سی بہتی رہی ہے پچھلی رات
ندی، وہ چلبلی دوشیزہ جاگ اٹھی ہے!!

ستیا پال آنند

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے