ایک بُری عورت

ایک بُری عورت
ایک بُری عورت
وہ اگرچہ مطربہ ہے
لیکن اُس کے دامِ صورت سے زیادہ
شہر اُس کے جسم کا اسیر ہے
وہ آگ میں گلاب گوندھ کر کمالِ آزری سے پہلوی تراش پانے والا جسم
جس کو آفتاب کی کرن جہاں سے چُومتی ہے
رنگ کی پھوار پھوٹتی ہے!
ا س کے حسنِ بے پناہ کی چمک
کسی قدیم لوک داستان کے جمال کی طرح
تمام عُمر لاشعور کو اسیرِ رنگ رکھتی ہے!
گئے زمانوں میں کسی پری کو مُڑ کے دیکھنے سے لوگ
باقی عُمر قیدِ سنگ کاٹتے تھے
یاں ___سزائے باز دید آگ ہے!
یہ آزمائشِ شکیبِ ناصحاں و امتحانِ زُہدِ واعظاں
دریچۂ مُراد کھول کر ذرا جھُکے
تو شہرِ عاشقاں کے سارے سبز خط
خدائے تن سے،
شب عذار ہونے کی دُعا کریں
جواں لہُو کا ذکر کیا
یہ آتشہ تو
پیرِ سال خوردہ کو صبح خیز کر دے
شہر اس کی دلکشی کے بوجھ سے چٹخ رہا ہے
کیا عجیب حُسن ہے،
کہ جس سے ڈر کے مائیں اپنی کوکھ جائیوں کو،
کوڑھ صورتی کی بد دُعائیں دے رہی ہیں
کنواریاں تو کیا
کہ کھیلی کھائی عورتیں بھی جس کے سائے سے پناہ مانگتی ہیں
بیاہتا دِلوں میں اس کا حُسن خوف بن کے یوں دھڑکتا ہے
کہ گھر کے مرد شام تک نہ لوٹ آئیں تو
وفا شعار بیبیاں دُعائے نور پڑھنے لگتی ہیں !
پروین شاکر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے