اک بے وفا کی یاد سے لڑتے ہوئے مرے

اک بے وفا کی یاد سے لڑتے ہوئے مرے
ہم ایسے بد نصیب سنبھلتے ہوئے مرے

نکلی ہے جیسے جان ہماری، خدا کرے
ایسے نہ کوئی اور تڑپتے ہوئے مرے

ہم کو ہماری موت کا دکھ اس لیے بھی ہے
ہم لوگ احتیاط سے چلتے ہوئے مرے

تیری ہی ضد تھی دوستا تیرے لیے کوئی
تا عمر تیرا راستہ تکتے ہوئے مرے

ہم سانس سانس درد کی آغوش میں رہے
ہم سانس سانس درد سے مرتے ہوئے مرے

پروردگار ہم کو محبت نہیں ملی
ہم لوگ اس غذا کو ترستے ہوئے مرے

اس واسطے ہی قیمتیں رکھی ہیں برقرار
ہم جانتے تھے ہم جہاں سستے ہوئے ، مرے

جاوید مہدی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے