Ek Bar Alkashan Mein

ایک بار الکشن میں
(تحریر: رشید احمد صدیقی)

ایک دن یہی الکشن کی فصل تھی ۔ ووٹ لینے کے لیے لوگ موٹر ، ڈنڈے اور لڈّو لیے ہوئے میری تلاش میں نکلے تھے ۔ صرف تین اُمیّدوار تھے اور میں نے تینوں سے ووٹ دینے کا وعدہ کرلیا تھا ۔ ایک سے تو اس بِنا پر کہ مجھ پر اس کے روپئے واجب تھے دوسرے سے یوں کہ میں اس کا کاشت کار تھا اور تیسرے سے اس لیے کہ یہ شخص بات کرتے کرتے یا تو کبھی خود رو پڑتا تھا یا مجھے مار ڈالنے پر آمادہ ہو جاتا تھا ۔

ظاہر ہے ایسی حالت میں میرے لیے اس کے سواچارا نہ تھا کہ کہیں بھاگ جاؤں لیکن آپ نے سنا ہوگا کہ گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کی طرف بھاگتا ہے ۔ میں اتفاق سے ایک ایسے مقام پر جانکلا جہاں ہر طرف عجیب و غریب قسم کے لوگوں کا ہجوم تھا ۔ کہیں گراموفون بج رہا تھا ، کہیں کھانے پکانے اور کھِلانے کا انتظام تھا ۔ ایک طرف سپیرا سانپ کے اور دوسری طرف مداری بندر ، بھالو اور بکری کے کرتب دکھا رہا تھا ۔ ایک طرف سبیل لگی ہوئی تھی ، دوسری طرف ناچ رنگ کا سامان تھا ۔ ایک جگہ کچھ لوگ لکچر دے رہے تھے۔ لکچر اور حاضرین کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ شاید کوئی منچلا کسی سنیاسی یا فقیر کی بنائی ہوئی جڑی بوٹیوں کے خواص بتا رہا تھا ۔ ابھی میں اسی حیص بیص میں تھا کہ یہ ماجرا کیا ہے کہ ایک صاحب نے نہایت دوستانہ انداز میں پیچھے سے آکر میری گردن پکڑی اور آگے پیچھے کھینچ ڈھکیل کر جیسے رائفل میں کارتوس بھرے جاتے ہیں ، بولے : کیوں آپ کا نام بندو خاں ہے ؟ چلیے ووٹ دیجیے اور یہ بیڑی پیجیے ۔ بڑا انتظار دکھایا۔ میں نے دوستی کا اعتراف ابھی اس حد تک کیا تھا کہ بیڑی لینے پر آمادہ ہوا تھا کہ ایک دوسرے صاحب نے مجھے اپنی طرف گھسیٹا اور بولے : خبردار، بُدّھو خلیٖفہ میرے ووٹر ہیں ۔ لڑکپن میں ہم دونوں کپاس چرایا اور مار کھایا کرتے تھے ۔ کیوں خلیٖفہ بولے تو نہیں ؟ ابھی میں نے پورے طور پر حافظے کا امتحان نہیں لیا تھا نہ دیا تھا ایک تیسرے بزرگ آگے بڑھے اور میرا گریبان کھینچ کر بولے : واہ میربنّے! تم نے کنویں جھنکوا دیے ۔ ایسا بھی کیا غائب ہونا۔ چلو کچھ کھا پی لو اس کے بعد مجرا سنیں گے ۔ لیکن اس سارے قصّے کا انجام یہ ہوا کہ مجھے اس کمرے میں لے گئے جہاں ووٹروں کی جانچ پڑتال ہوتی ہے ۔ اصلی شخص جس کا ووٹ پڑنے والا تھا ، بندہ حسن تھا ۔ کلرک نے پوچھا:’’ بندہ حسن کون ہے ؟‘‘ میرے ایک دوست نے مجھے آگے بڑھا کر کہا:’’ صاحب ! ان کا اصلی نام بندہ حسن ہے لیکن یہ نام ماں باپ نے رکّھا تھا ورنہ عام طور پر ان کو بندوخاں کہتے ہیں ۔ ‘‘ دوسرے نے کہا ’’ ارے بھائی ! اللہ سے ڈرو ۔ بُدّھو خلیٖفہ ہمیشہ بُدّھو خلیٖفہ ہیں ، اسی نام سے ووٹ دیں گے ۔ ‘‘ تیسرے نے لپک کر للکارا ’’ ارےلوگو! خدا سے ڈرو یا نہ ڈرو، حوالات سے تو ڈرو ۔ میر بنّے کو بُدّھو خلیٖفہ کہتے شرم نہیں آتی ۔ کلرک نے گھبرا کر مجھ سے پوچھا : ’’ آخر تم کیسے چپ ہو۔ تم ہی بتاؤ تمہارا کیا نام ہے ؟‘‘ میں نے کہا ’’ حضور ! اپنا اصلی نام مجھے بھی ٹھیک نہیں معلوم لیکن کُشتی لڑتا تھا تو اکھاڑے میں بندو خاں کے نام سے مشہور ہوا ، غازی میاں کا علم اُٹھانے لگا تو بُدّھو خلیٖفہ کہلایا۔ اب نفیری اور فیرینی بیچتا ہوں تو لوگ میر بنّے کہنے لگے ۔ ‘‘ کلرک بھی زندہ دِل تھا بولا: ’’ تم نے آنے میں جلدی کی ورنہ یہی لوگ تم کو اس ممبر کی حیثیت سے پیش کردیتے جس کے تم ووٹر سمجھے جاتے ہو، لیکن اب یہاں سے فوراً بھاگ جاؤ ورنہ تمھاری خیر نہیں ۔ ‘‘ میں بھاگا اور سارا مجمع میرے پیچھے ہو لیا۔ ایک ہُلّڑ مچ گیا اور مشہور یہ ہوا کہ میں بچوں کو چرا کر لے جایا کرتا ہوں ۔ قریب تھا کہ مجموعے کے ہاتھوں صبرو شکر قسم کی کوئی چیزبن جاتا کہ میں ایک گلی میں ہولیا اور شور مچایا کہ پولنگ اسٹیشن پر بلوا ہوگیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مجمع پولنگ اسٹیشن کی طرف روانہ ہوگیا اور میں بھاگا ۔ گرتا پڑتا سامنے ایک عالی شان عمارت تھی ، اس میں داخل ہوا اور بے ہوش ہوگیا۔ یہ جانوروں کا عجائب خانہ تھا ۔ دوسرے دن آنکھ کھُلی تو اپنے آپ کو ہسپتال میں پایا۔

(رشید احمد صدیقی )

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے