اک بات ضروری کرنی ہے

اک بات ضروری کرنی ہے گر وقت تجھے مل جاٸے تو
یہ پھول مجھے مل سکتا ہے جو زُلف تری کُھل جاٸے تو
وہ شخص جومیرے سرپہ ہے وہ جان مری لے سکتا ہے
میں پِیر تجھے تب مانوں گا وہ شخص اگر ٹل جاٸے تو
وہ لوگ ہیں ٹھہرے ظالم سب تلوار چلاتے ہیں اب جو
میں زخم نہیں سہہ پاتاہوں گرتیر تراچل جاٸے تو
اک بار محبت ہوجاٸے اور قلب کہیں پہ کھو جاٸے
پھررقص بھی کرنا پڑتاہے جب درد میں جاں گُھل جاٸے تو
جو درد چُھپایاہے عاجز یہ راز بھی توکُھل جاٸے گا
اب خیر ہی تیری اس میں ہے گر خاک میں تو مل جاٸے تو
ڈاکٹرالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے